نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن کا عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان

Spread the love

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔انہوں نے عہدے سے استعفیٰ کا اعلان پارٹی کے سالانہ اجلاس کے دوران کیا۔

42 سالہ جیسینڈا آرڈرن نے کہا کہ انہوں نے موسم گرما کے وقفے کے دوران اس بات پر غور کیا تھا کہ آیا اُن کے پاس وزیراعظم کا منصب جاری رکھنے کی توانائی موجود ہے  لیکن اب  اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ایسا نہیں ہے ۔ ایسے حالات میں اُن کا اپنی پوزیشن پر کام جاری رکھنا نیوزی لینڈ کے حق میں ضرر رساں ہو سکتا ہے۔

2017 میں منتخب ہونے کے بعد جیسنڈا آرڈرن نے 37 سال کی عمر میں دنیا کی کم عمر ترین وزیر اعظم ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا جبکہ وہ دنیا کی دوسری لیڈر تھیں جنہوں نے وزارت عظمیٰ کے منصب کے وقت بچے کو جنم دیا۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جیسنڈا آرڈن نیوزی لینڈ میں فائرنگ کے واقعات اور کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی اپنانے کی وجہ سے ایک بین الاقوامی آئیکون بن گئی تھیں۔

جیسنڈا آرڈرن کو مارچ 2019 میں نیوزی لینڈ کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ایک ملسح سفید فام نے کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملہ کر کے 51 افراد کو قتل کر دیا تھا۔

جیسنڈا آرڈن نے جس طرح زندہ بچ جانے والوں اور نیوزی لینڈ کی مسلم کمیونٹی کو دادرسی کی اور انہیں گلے لگایا، پوری دُنیا میں انہیں سراہا گیا تھا۔

نیپئر میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ سات فروری بطور وزیراعظم ان کا ’آخری دن ہو گا۔اپنے آنسوؤن کو بمشکل روکتے ہوئے جیسنڈا آرڈن نے کہا کہ بطور وزیراعظم میرا چھٹا سال شروع ہو رہا ہے اور ان تمام برسوں میں، میں نے بھرپور طریقے سے اپنا فرض نبھایا۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیوزی لینڈ کے آئندہ عام انتخابات 14 اکتوبر کو ہوں گے ۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم کے طور پر آرڈن کی مدت 7 فروری کے بعد ختم ہو جائے گی، لیکن وہ اس سال کے آخر میں ہونے والے انتخابات تک رکن پارلیمنٹ کے طور پر برقرار رہیں گی۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے آرڈرن کو ذہانت، طاقت اور ہمدردی کی رہنما کے طور پر خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ” جیسنڈا نیوزی لینڈ کے لیے ایک زبردست وکیل رہی ہیں، بہت سے لوگوں کے لیے ایک تحریک اور میرے لیے ایک بہترین دوست "۔