کابل دھماکے میں ہلاکتوں کی تعاد43تک پہنچ گئی

Spread the love

افغانستان کےتمام بڑے شہروں میں خواتین کابل کےتعلیمی ادارے کاج میں ہونے والے خودکش حملے کےخلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی سخت کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کابل، مزار شریف، قندہار اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

دوسری جانب ہزارہ خواتین نے اپنی برادری پر تازہ ترین مہلک حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے احتجاجی ریلیوں کے انعقاد پر عائد پابندیوں کو مسترد کردیا۔ احتجاجی خواتین نے دشت برچی کے ہسپتال کے سامنے مظاہرہ کیا اور ہزارہ برادری کی نسل کشی بند کرو کے نعرے لگائے۔ سیاہ چادروں اور سر پر اسکارف میں ملبوس مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ہزارہ برادری کے لوگوں کو مارنا بند کرو۔

واضح رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت میں ہفتے کے روز ایک تعلیمی ادارے پر خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والے طلباء کی تعداد 43 ہوگئی ہے۔ جاں بحق ہونے والے بیشتر طالبات کی عمریں 16 سے 20 سال کے درمیان ہیں ۔آنکھوں میں سنہرے مستقبل کے خواب سجائے ان معصوم بچیوں کو دہشت گردوں نے ہم سے چھین لیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق خودکش دھماکا افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ہزارہ اکثریتی علاقے دشت برچی میں تعلیمی ادارے کے باہر ہوا جہاں داخلہ ٹیسٹ جاری تھے اور دھماکے کے وقت 600 سے زائد طلبا  ادارے میں موجود تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہلک حملہ طالبان کی افغان عوام کے تحفظ میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے ۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر درس گاہ پر خود کش دھماکے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے اور لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سیکرٹریٹ نے اس خودکش حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ اور افغانستان میں شہری تنصیبات اور لوگوں کو نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا ۔

افغانستان میں امریکی مشن کی چارج ڈی افیئرز، کیرن ڈیکر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے ’امتحان دینے والے طلبا سے بھرے کمرے کو نشانہ بنانا شرمناک ہے۔ طلبا کو بنا کسی ڈر و خوف کے تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔‘

عالمی خبررساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ دشت برچی کے علاقے میں سکولوں اور ہسپتالوں کو سلسلہ وار حملوں میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ گذشتہ برس طالبان کے اقتدار میں واپس آنے سے پہلے دشت برچی میں لڑکیوں کے ایک سکول پر بم حملے میں کم از کم 85 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر طالبات شامل تھیں۔

2021 میں طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا تاہم گزشتہ کچھ مہینوں میں تواتر سے مساجد اور شہری علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں۔ جس سے نہ صرف افغان عوام میں ایک بار خوف کی لہر بڑھ رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر  افغان طالبان کی  قیادت پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ کابل کے کاج خودکش حملے میں 43 افراد جاں بحق ہوئے

وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی ہدایت پر وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام نے کابل کے تعلیمی ادارے کاج میں خودکش حملے میں جاں بحق طالبات کے لواحقین سے ملاقات کی، انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے اور دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی یقین دہانی کروائی، لواحقین میں معاوضہ بھی تقسیم کیا