کیا بہارہ کہو پراجیکٹ کا دوبارہ سنگ بنیاد رکھا گیا؟

Spread the love

وزیراعظم شہبازشریف نے بہارہ کہو بائی پاس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک عظیم عوامی منصوبہ ہے جسے شفاف بولی کے تحت این ایل سی کو دیا گیا ہے ۔ منصوبے کو چارماہ میں مکمل کرنے کا معاہدہ ہوا ہے لیکن این ایل سی حکام سے کہتا ہوں کہ اس کو تین ماہ میں مکمل کیا جائے ۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی ایک نہیں ۔ درجنوں ایسی مثالیں ہیں کہ اس طرح کے منصوبے ڈیڑھ اور دو دو ماہ کے عرصے میں مکمل ہوئے ہیں ۔ اگراس منصوبے پر اخراجات میں کمی ہوسکتی ہے تو اس کےلئے بھی کوششیں کی جائیں ۔ منصوبہ انتہائی اعلیٰ معیار کا ہونا چاہئے ۔ اس منصوبے کی وجہ سے آزاد کشمیر،جڑواں شہروں اورملک بھرسے سیاحت کےلئے جانے والے افراد کو سہولت میسر ہوگی اور وقت کی بچت بھی ممکن ہوسکے گی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ جڑواں شہروں کے حوالے سے دیگرمنصوبے بھی جاری ہیں ۔ اس میں اینٹی گریٹڈ ٹرانسپورٹ کا منصوبہ بھی شامل ہے جس کے ذریعے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرزسے مسافروں کو اربن ٹرانسپورٹ نظام کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ بات افسوس ناک ہے کہ نواز شریف دور کے شروع کردہ عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کو سابق حکومت نے 4 برسوں تک معطل رکھا، ان چار برسوں میں کسی کو پبلک ٹرانسپورٹ کا خیال نہیں آیا، میٹرو بس کے منصوبے کو بھی معطل کیا گیا جسے نیو ایئرپورٹ تک لے جانا تھا حالانکہ ان منصوبوں پر اربوں روپے لگ چکے تھے ہماری حکومت نے آتے ہی ان منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرلیا ہے، اسی طرح اورنج اوربلیو لائن منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جس سے عوام کی مشکلات میں کمی آئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے تب مکمل ہوتے ہیں جب ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر کچھ نہ کرنے کی بجائے دل میں عوام کےلئے درد اور تڑپ ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران نیازی نے دن رات ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولا اور یہ غلط رواج قائم کیا کہ زیادہ جھوٹ بول کر لوگوں کو ورغلایا جائے ۔

شہبازشریف نے کہا کہ میں نے 40برس اپنے بڑے بھائی کی قیادت میں خارزار سیاست میں گزارے ہیں، ہر قسم کی اونچ نیچ دیکھی، مارشل لا کے ادوار بھی دیکھے، اپنے سیاسی مخالفین کی حکومتیں بھی دیکھیں لیکن اپنی پوری زندگی میں اتنا غیرذمہ دار اورجھوٹا آدمی نہیں دیکھا۔ سابق وزیراعظم نے بلاشبہ ورلڈ کپ جیتا اورہسپتال بنایا مگر یہ ٹیم ورک کا نتیجہ تھا ، کپتان کو اس کا کریڈ ٹ جاتا ہے ، آپ نے ہسپتال بنایا یہ اچھی بات ہے مگرکسی کو دور دور تک یہ خیال نہیں تھا کہ ورلڈ کپ جیتنے والا اورہسپتال بنانے والا سیاست کے میدان میں سراپا جھوٹ ہوگا اور قوم کو دھوکہ دے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان نیازی کہتا ہے کہ میں خیرات مانگنے باہر جاتا ہوں کیاوہ خیرات بانٹنے جاتے تھے ، مجھے معلوم ہے کہ یہ ایک دوست ملک گئے اورمنتیں ترلے کرتے رہے کہ آپ ہمارے لئے قرضے کا اعلان کریں، عمران خان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کہ وہ کس کو دھوکہ اور فریب دے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ عوام سے ہاتھ جو ڑ کرکہتے ہیں کہ وہ سچ اور جھوٹ ، خدمت اور فراڈ، ریاکاری اور سچائی اور خدمت اور ٹانگوں پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے رہنے کے طرزعمل میں تفریق کریں، عوام ہمیشہ صحیح فیصلہ کرتے ہیں ۔ ۔

وزیراعظم نے کہا کہ 75برسوں میں ملک کو کئی زخم لگے ہیں ، اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ہمیں اس ملک کو بنانا ہے مگر عمران خان تو ہے ہی سازشی ، وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی اور خوشحالی کی طرف نہ جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے لاہورمیں پی کے ایل آئی کا شاندار منصوبہ برباد کردیا تھا اس میں گردو ں اور جگر کی پیوند کاری کی سہولت فراہم ہونی تھی ، اس منصوبے کو عمران خان نے سابق چیف جسٹس کے ساتھ مل کر برباد کیا اورقوم کے اربوں روپے ضائع کئے گئے،انہوں نے خیبرپختونخوا میں کیا خدمت کی ہے وہ قوم کے سامنے ہے، ایک دن سچائی قوم کے سامنے آئے گی، عمران خان کا مکروہ چہرہ پوری قوم نے دیکھ لیا ہے۔

دوسری جانب سابق رکن قومی اسمبلی و معاونِ خصوصی وزیر اعظم پاکستان علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ بہارہ کہو بائی پاس کا سنگ بنیاد وزیراعظم عمران خان نے 19 اپریل 2021 کو رکھا شوباز شریف نے ایک مرتبہ پھر سنگ بنیاد رکھ کر اپنا دھوکے باز ہونے کا "اعزاز” برقرار رکھا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف بہارہ کہو بائی پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مارگلہ ہائی وے کے نام سے یہ منصوبہ پی ٹی آئی کے دور میں شروع ہوا اور اس کا سنگ بنیاد 19 اپریل 2021 کو اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے رکھا جبکہ اس پر کام کا آغاز نومبر 2021 میں ہوا اب جبکہ منصوبہ تکمیل کے قریب ہے تو مقامی عہدیداروں کے ساتھ مل کر یہ شوبازی کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شوباز شریف ایک طرف کہتے ہیں کہ وہ مجبور وزیراعظم ہیں اور ہر کام لندن میں بیٹھے عدالتوں سے مفرور شخص سے پوچھ کر کرتے ہیں ۔ دوسری طرف ہمارے بنائے منصوبوں پر ہاتھ صاف کررہے ہیں پہلے نامکمل راول ڈیم چوک کا جلد بازی میں افتتاح کیا گیا اور اب بہارہ کہو بائی پاس منصوبے کا دوسری بار سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ۔

علی نواز اعوان نے کہا کہ عوام بدترین حکومت کے دور میں بدترین مہنگائی کا سامنا کر رہی ہے آئی ایم ایف کا پیکج ملنے پر بغلیں بجانے والے نہ روپے کی قدر میں اضافہ کرسکے اور نہ ہی پیٹرولیم مصنوعات سمیت روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں کم کرسکے اب ایک امپورٹڈ وزیر خزانہ کو ملک پر مسلط کر دیا گیا ہے جو منی لانڈرنگ کرنا تسلیم کر چکا ہے شہباز شریف کی کابینہ میں شمولیت کے لیے ضروری ہے کہ آپ مجرم ہوں عدالتوں سے بھگوڑے ہوں اور کرمنل موسٹ وانٹڈ کا ٹیگ آپ پر لگ چکا ہو۔