پی ٹی آئی پرممنوعہ فنڈنگ کاالزام ثابت

Spread the love

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ کا پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا متفقہ تحریری فیصلہ جاری کر دیا ۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ثابت ہوا پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈز لیے ہیں ۔ پی ٹی آئی نے 8 اکاؤنٹس کی تصدیق کی ،13 نامعلوم اکاؤنٹس بھی سامنے آئے ۔ 34 غیر ملکیوں، 351 کاروباری اداروں اور کمپنیوں سے فنڈز لیے گئے ۔ امریکا، آسٹریلیا اور یو اے ای سے عطیات لیے گئے ، پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی تفصیلات بتانے میں ناکام رہی جو سیا سی جماعتوں کے ایکٹ کے آرٹیکل 6 کے مطابق ممنوعہ فنڈنگ ہے۔ آئین کے مطابق اکاؤنٹس چھپانا غیر قانونی ہے ۔چیف الیکشن کمشنر نے قرار دیا کہ پی ٹی آئی نے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی ۔ عمران خان کا جمع کرایا گیا فارم ون جمع غلط بیانی اور جھوٹ پر مبنی ہے ۔

پی ٹی آئی کی حاصل کردہ ممنوعہ فنڈنگ کی تفصیل

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تحریری فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی نے کے مین آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ووٹن کرکٹ کلب سے 21 لاکھ 21 ہزار 500 امریکی ڈالر حاصل کیے ۔ ووٹن کرکٹ کلب ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کی ملکیت ہے ۔ متحدہ عرب امارات کی برسٹل انجینئیرنگ سے 49 ہزار 965 امریکی ڈالر کے فنڈز لیے گئے ۔ سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ای پلینٹ اور برطانوی کمپنی ایس ایس مارکیٹنگ  سے کل 10 لاکھ ایک ہزار 741 ڈالرز حاصل کیے  گئے ۔ پاکستان تحریک انصاف امریکہ کےذریعے 2 ایل ایل سی کمپنیوں سے  25 لاکھ 25 ہزار 500 ڈالر پی ٹی آئی پاکستان کو منتقل کیے گئے ۔ پی ٹی آئی کینیڈا کارپوریشن سے 2 لاکھ 79 ہزار 822 ڈالر فنڈز منتقل ہوئے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی یو کے پبلک  لیمیٹڈ کمپنی  سے 7 لاکھ 92 ہزار 265 برطانوی پاؤنڈز منتقل ہوئے ۔ پی ٹی آئی کینیڈا کارپوریشن سے 35 لاکھ 81 ہزار 186 پاکستانی روپے کے عطیات بھی وصول کیے گئے ۔

پی ٹی آئی نے آسٹریلوی کمپنی ڈنپیک پرائیوٹ لیمیٹڈ ، انور برادرز، زین کاٹن اور ینگ سپورٹس سے بھی فنڈنگ وصول کی

الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو اظہار وجوہ کا نوٹس

پی ٹی آئی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی گئی، کیوں نہ ان کے ممنوعہ فنڈز ضبط کیے جائیں، الیکشن کمیشن قانون کے مطابق باقی کارروائی بھی شروع کرے گا ، فیصلہ کی کاپی وفاقی حکومت کو بھجوائی جا رہی ہے ۔

پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس 8 سال زیرسماعت رہا

پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں یہ کیس دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ غیر قانونی طریقے سے تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی ان کا یہ بھی الزام تھا کہ سالانہ آڈٹ رپورٹ میں حقائق  پوشیدہ رکھے گئے ۔

پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے روکنے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس  کی وجہ سے اس کیس کی سماعت ایک سال تک تاخیر کا شکار رہی ۔

فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی بھیجا ۔ اسی برس 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔

مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے ممنوعہ فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی۔

گزشتہ برس یکم اکتوبر کو ای سی پی نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کی جانچ پڑتال میں رازداری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر 4 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا اسی ماہ الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے تحریک انصاف کے 10 اکاؤنٹس کے آڈٹ پر پی ٹی آئی  کے اعتراضات مسترد کردیے تھے جس پر پی ٹی آئی نے پھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا نومبر 2019 میں فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

بعدازاں نومبر 2021 میں الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے فنڈز کی آڈٹ رپورٹ جمع کروا دی تھی ۔

الیکشن کمیشن کے تین رکنی بنچ نے چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 21 جون 2022 کو ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اکبرایس بابر کا ردعمل

پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کے درخواست گزار  اکبر ایس بابر نے عمران خان سے فوری استعفے کا مطالبہ کردیا ۔ الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اکبر ایس بابر نے کہا کہ یہ کیس آئی اوپنر ہے، آزاد الیکشن کمیشن نے فرد جرم عائد کردی ہے اور پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس دے دیا ہے، تمام الزامات ثابت ہوچکے ہیں، اس لیے سمجھتاہوں کہ وقت آگیا ہےکہ تحریک انصاف میں رجیم چینج ہو۔ اس بڑے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کو اس کے نظریاتی کارکنان کے حوالے کرنا چاہیے،

تحریک انصاف کا ردعمل

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب ، فواد چوہدری اور ملیکہ بخاری نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن کا فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کو شوکاز دینے کا فیصلہ غلط ہے ۔ پی ٹی آئی کو فنڈنگ اوور سیز پاکستانیوں نے کی ہے۔ سمجھ نہیں آتی، ن لیگ، جے یو آئی نے اوور سیز پاکستانیوں کو اپنا دشمن کیوں سمجھ رہی ہیں۔

فواد چوہدری اور فرخ حبیب نے کہا کہ یہ فارن فنڈنگ کا نہیں بلکہ ممنوعہ فنڈنگ کا کیس تھا ۔ یہ پی ڈی ایم سمیت تمام جماعتوں کے لیے مایوسی کا دن ہے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو مدنظر نہیں رکھا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے فیصلے ایک ساتھ سنانے تھے جو نہیں ہوا ۔ اس سے ثابت ہے کہ لاڈلوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مسلم لیگ ن کا الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے صادق اورامین الیکشن کمیشن میں جھوٹے نکل آئے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق  پی ٹی آئی نے امریکی کاروباری شخصیت (ابراج گروپ) سے بھی فنڈز لئے ہیں۔ یہ امریکی سازش کب سے ہورہی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سیئنر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے آج کے الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ سب سے بڑا چور عمران خان اور چور  پارٹی پی ٹی آئی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا قانون ایک بھی غیر قانونی اکاؤنٹ کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہاں تو ایک طویل تفصیل ہے، 34 غیر ملکی اور 351 کمپیوں سے فنڈنگ لی گئی۔ عمران خان کو فنڈنگ کرنے والوں میں اسرائیلی اور اور بھارتی بھی شامل ہیں، امریکا سے جو فنڈنگ آئی اس کی لمبی تفصیل ہے، جب ان معاملات کی مزید تفتیش ہو گی تو بڑے بڑے حقائق سامنے آئیں گے، تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد قوم کو مزید حقائق سے آگاہ کریں گے۔ خان نے 150 کروڑ روپے غیر قانونی طور پر حاصل کیے، اگر یہ فلاح و بہبود کے پیسے تھے تو سیاسی جماعت کے اکاؤنٹ میں 55 کروڑ روپے کیسے آئے، عمران خان نے قوم اور الیکشن کمیشن سے جھوٹ بولا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ کون ثابت اور کون امین ہے؟ اس ملک کی سپریم کورٹ نے خود ٹرائل کورٹ بن کر ملک کے منتخب وزیراعظم کو صرف اس بات پر نااہل کیا کہ اس نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی تو کیا آج عمران خان صادق اور امین ہے، عمران خان کو جھوٹے بیان حلفی دے رہا ہے، غیر ملکیوں سے فنڈ لے رہا ہے، اس معاملے پر قانون اپنا راستہ لے گا۔

2 thoughts on “پی ٹی آئی پرممنوعہ فنڈنگ کاالزام ثابت

  1. … [Trackback]

    […] Find More on that Topic: daisurdu.com/2022/08/02/پی-ٹی-آئی-پرممنوعہ-فنڈنگ-کاالزام-ثابت/ […]

  2. … [Trackback]

    […] Read More Information here on that Topic: daisurdu.com/2022/08/02/پی-ٹی-آئی-پرممنوعہ-فنڈنگ-کاالزام-ثابت/ […]

Comments are closed.