شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کا احوال

Spread the love

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس ہوا جس میں علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس تنظیم کے اہم مقاصد میں رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور اچھے پڑوسی تعلقات کو فروغ دینے کے علاوہ علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

ایس سی او اجلاس میں کن امور پر بحث ہوئی؟

اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور اچھے پڑوسی تعلقات کو فروغ دینے کے علاوہ علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔ تجارت، معیشت، ثقافت، سائنس اور ٹیکنالوجی، تعلیم، توانائی، باہمی رابطے، سیاحت اور ماحولیاتی تحفظ میں موثر تعاون کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔

وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے شرکا اس سال ستمبر میں ازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔ایس سی او میں مزید ملکوں کو شامل کرنے، مشترکہ دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات اور خطے میں ممکنہ افراط زر اور کساد بازاری پر بحث  کی گئی۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کا اجلاس سے خطاب

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی سلامتی اور استحکام کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور معلوماتی ماحول کی تشکیل میں شنگھائی تعاون تنظیم کی شراکت بڑھ رہی ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کو مسلسل مضبوط ہونا چاہیے اور اس کے مطابق ہمیں حکمت عملی اپنانا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے دائرہ میں رہتے ہوئے مشترکہ خوشحالی کیلئے مشترکہ اہداف ہمارے رہنما اصول ہونے چاہئیں۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کی ترقی و خوشحالی کا انحصار ای کامرس، کاروبار کو ڈیجیٹل کرنے، جدت اور ترسیل کے بین الاقوامی سلسلے کے تحفظ جیسے اہم شعبوں پر ہے۔

ٹرانزافغان ریل منصوبہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان ازبکستان اور افغانستان کے ساتھ ٹرانز افغان ریل منصوبے پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پہلے ہی علاقائی رابطے اور خوشحالی کے فروغ میں مدد دینے کیلئے ایک کلیدی پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی کا محور ڈیجیٹل کے عمل سے مستفید ہونے اور ملک میں ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد نوجوانوں کو اقتصادی مواقع فراہم کرنے کیلئے نوجوانوں، خواتین اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بااختیار بنانا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کےساتھ ساتھ خوراک کا چیلنج

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ  شدید موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تنازعات کی وجہ سے ہونے والے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانا ہم سب کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر خارجہ نے ایس سی او چارٹر اور ”شنگھائی روح“ کے اہداف اور اصولوں کے لئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔وبائی کورونا وائرس کے مجموعی معاشی، سماجی اور نفسیاتی اثرات ابھی تک باقی ہیں۔

انہوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں فوجی تنازعات کے دوبارہ ابھرنے اور ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کو چیلنجز کے طور پر دنیا بھر کے ممالک اور شہریوں کو پہنچنے والے بھاری نقصان کا بھی ذکر کیا۔

عالمی برادری پر افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر زور

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انسانی بنیادوں پر امداد میں توسیع کی ہے اور مزید تجارت، ٹرانزٹ ٹریڈ، سرحد پار سہولت کاری اور رابطے کے لئے راستے کھولنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزیر خارجہ نے زور دیا کہ افغانستان کے مالیاتی اثاثوں کو غیر منجمد کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھی افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط اور عملی تعاون کو برقرار رکھنا چاہیے۔

دہشت گردی ایک بڑا خطرہ

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی ایک بڑا خطرہ ہے جس کا عالمی برادری کو سامنا ہے۔ بہادر عوام، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس  ناسور کے خاتمے کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے ۔

اجلاس کی سائیڈ لائنز پر وزرائے خارجہ کی ملاقاتیں

شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر وزرائے خارجہ کی الگ الگ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے روسی فیڈریشن ،چین،ازبکستان، بھارت، تاجکستان، کرغزستان اور قازقستان کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے ملاقات کی۔وزیر خارجہ نے ازبک صدر کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تہنیتی پیغام بھی پہنچایا۔

پاکستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور ازبکستان کے وزیرخارجہ نوروو ولادی میر امامووک کے درمیان تاشقند میں ملاقات ہوئی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات  ، سیاسی ،تجارتی  اور دفاعی روابط کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت  ہوئی۔  بلاول بھٹوزرداری نے دوطرفہ تعلقات پر ا طمینان کا اظہارکرتے ہوئے دونوں ملکوں کے سٹرٹیجک شراکت داری  میں نئی جہتوں کی  اہمیت پر زور دیا۔وزیرخارجہ نے تجارت اور ٹرانزٹ کے فروغ کےلئے ازبکستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے  اور ترجیحی تجارت معاہدے کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کاروبار اورعوامی روابط بڑھانے کےلئے براہ راست فضائی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے  مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کی زندگی اور  ورثے کے حوالے سےمشترکہ میڈیاپروڈکشن پرپیشرفت کو سراہا۔وزیرخارجہ نے ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کی بروقت تکمیل کےلئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔روابط کے فروغ کےلئے  وزیر خارجہ نے کراچی اور گوادر بندرگاہوں  کی  صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ عالمی اور علاقائی امور پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے پرامن ، مستحکم اور افغانستان کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔

پاکستان اور کرغستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور کرغستان کے وزیر خارجہ جین بیک مالڈو کانووچ کے درمیان ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر سائیڈ لائن ملاقات کی ۔وزیرخارجہ نے اپنے ہم منصب کو دوطرفہ سفارتی تعلقات کے تیس سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی ۔ وزیر خارجہ نے  دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کےدرمیان باضابطہ میکانزم خصوصا سیاسی مشاورت اور مشترکہ وزارتی کمیشن کی اہمیت پر زور دیا ۔وزیرخارجہ نے روابط کے فروغ کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

قزاقستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ سے ملاقات

ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری قزاقستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ تلوبردی مختار سے بھی ملاقات ہوئی ۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور قزاقستان کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ بلاول بھٹو زرداری وسط ایشیا میں روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کے وژن سینٹر ایشیا پالیسی کے لیے عزم کا اظہار کیا۔وزیرخارجہ نے تجارت ، سرمایہ کاری ، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں قزاقستان کے ساتھ پاکستان  کے تعاون کی بات ہوئی ۔ وزیر خارجہ نے وسط ایشیا ممالک کے لیے پاکستان کے راستے آسان تجارت کے فروغ  کی خواہش  کااظہار کیا۔

روس اور چین کے وزرائے خارجہ کی ملاقات

تاشقند میں چین اور روس کے وزرائے خارجہ کی بھی ملاقات ہوئی ۔دونوں رہنماؤں کی جانب سے گرمجوشی سے مصافحہ ہوا۔ روس  کے وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے  تائیوان معاملے پر چین کی "ون چائنا پالیسی” کے حمایت کا اعادہ کیا ۔خبرایجنسی کےمطابق روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ چین کی ون چائنا پالیسی پر روسی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہم چین کی ون چائنا پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔

چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات

چینی وزیر خارجہ وینگ ای کی افغان ہم منصب سے ازبکستان میں ملاقات ہوئی ہے۔ جس میں انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری کو افغانستان تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات،افغانستان میں جاری انسانی بحران اور اقتصادی صورتحال پر گفتگو کی گئی ہے ۔ وینگ ای نے تجارت اور زراعت کے شعبے میں افغانستان کے ساتھ تعاون کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔افغان وزیر خارجہ نے زلزلہ متاثرین کی مدد پر چین کا شکریہ ادا کیا۔چین نے یکم اگست سے افغان شہریوں کو ویزا جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں 98 فیصد افغان درآمدات پر ٹیکس سے استثنیٰ ہوگا۔ وینگ ای نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے کہا کہ ہم پاک چین اقتصادی راہداری کو افغانستان تک طول دینے کی حمایت کرتے ہیں۔چینی وزیر خارجہ نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ افغانستان پر پابندیاں ختم کی جائیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام کب عمل میں آیا؟

واضح رہے کہ یوریشین ممالک پر مشتمل شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 2001 میں عمل میں  لایا گیا۔ اس 6اراکین میں قزاقستان، کرغستان، چین، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں، پاکستان اور بھارت 2017 میں اس بلاک کے مستقل رکن بنے۔8 مستقل اراکین کے علاوہ ایران، افغانستان، بیلاروس اور منگولیا کو آبزرورز کی حیثیت حاصل ہے۔آرمینیا، آذربائیجان، کمبوڈیا، نیپال، سری لنکا اور ترکی ڈائیلاگ پارٹنرز ہیں۔