سعودی عرب کے نئے شہر ’’دا لائن ‘‘کا ڈیزائن جاری

Spread the love

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے فطرت کے ساتھ پائیداری سے ہم آہنگ ماحول دوست شہر ‘دا لائن’ کا ڈیزائن جاری کردیا۔ عرب کے صحرا میں نیوم کے نام سے شروع کیا جانے والا منصوبہ 34 مربع کلومیٹر اراضی پر  محیط ہو گا ۔یہ شہر تکمیل کے بعد 90 لاکھ مکینوں کا مسکن ہوگا۔

محمد بن سلمان نے اس موقع پر کہا "دا لائن کا تصور بیان کرتے وقت وعدہ کیا گیا تھا کہ اس کا حقیقی محور انسان ہوگا اور یہ جدید ترقیاتی معاشروں کے لیے ایک مثال ہوگا۔ آج دا لائن کا ڈیزائن پیش کرکے یہ وعدہ پورا کر دیا گیا ہے۔”

ایم بی ایس کے نام سے معروف ولی عہد نے مزید کہا، "اس سے شہر کا کثیر منزلہ داخلی ڈھانچہ اجاگر ہوگا۔ یہ روایتی افقی شہروں کے مسائل سے آزاد ہوگا۔ یہ قدرتی ماحول کے تمام ذرائع کے تحفظ اور تمدنی ترقیاتی عناصر کے درمیان مکمل ہم آہنگی کی ایک مثال ہوگا۔”

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا،”ہم اپنی دنیا کے شہروں کو درپیش مسائل اور ماحولیاتی بحرانوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور نیوم ان مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے اور تخیلاتی حل مہیا کرنے میں سب سے آگے ہے۔ نیوم فن تعمیر، انجینیئرنگ اور تعمیرات میں ذہین ترین ذہنوں کی ایک ٹیم کی قیادت کر رہا ہے تاکہ عمودی تعمیر کا خیال حقیقت کا روپ دھار سکے۔”

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ شہر200 میٹر چوڑا، 170 کلومیٹر لمبا اور سطح سمندر سے 500 میٹر اونچا ہوگا۔ اس کے منفرد ڈیزائن میں آمنے سامنے دو ہوبہو عمارتیں کھڑی دکھائی دیتی ہیں جو 500 میٹر اونچی ہوں گی۔ مکینوں کو 5 منٹ کی پیدل سیر کے بعد لائن میں تمام سہولتوں تک رسائی حاصل ہو گی ۔ اس کے علاوہ ایک تیز رفتار ریل بھی ہو گی جس کا ابتدا سے آخر تک 20 منٹ کا سفر ہو گا۔

یہ شہر 100 فیصد قابل تجدید توانائی پر چلے گا، جس میں کاربن کا اخراج صفر ہوگا اور روایتی شہروں کی طرح نقل وحمل اور بنیادی ڈھانچے میں لوگوں کی صحت اور بہبود کو ترجیح دے گا۔ اس شہر کی تعمیر پر کام کے لیے عالمی شہرت یافتہ معماروں اور انجنیئروں کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی۔

اس کی مثالی آب و ہوا پورا سال اس بات کو یقینی بنائے گی کہ رہائشی گھومتے یا چہل قدمی کرتے وقت ارد گرد کی فطری ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دعویٰ ہے کہ "نیوم دنیا بھر کے تمام لوگوں کے لیے تخلیقی اور اختراعی طریقوں سے دنیا بھر میں اپنی شناخت بنانے کی جگہ ہو گی "۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ "ہم اپنی دنیا کے شہروں کو درپیش مسائل اور ماحولیاتی بحرانوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور نیوم ان مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے اور تخیلاتی حل مہیا کرنے میں سب سے آگے ہے۔ نیوم فن تعمیر، انجینیئرنگ اور تعمیرات میں ذہین ترین ذہنوں کی ایک ٹیم کی قیادت کر رہا ہے تاکہ عمودی تعمیر کا خیال حقیقت کا روپ دھار سکے”۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا کہ نیوم کاروباری زون 2024 تک پبلکلی لسٹڈ ہو گا۔ا س پراجیکٹ پر 500 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔نیوم سٹی کے حوالے سے پیش رفت پر مبنی منصوبوں کی وجہ سے سعودی سٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں ابتدائی طور پر کم از کم 320 ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا جبکہ مجموعی طور پر ایک اعشاریہ3 ٹریلین ڈالر تک جائے گی۔ 5 ٹریلینز سعودی ریال کے برابر ہو گی۔’دا لائن ‘ کے تحت 2030 تک 320 ارب ڈالر تک سٹاک مارکیٹ جائے گی ۔سعودی حکومت کی یہ سپورٹ 53 ارب ڈالر سے 80 ارب ڈالر تک جائے گی۔ سعودی حکومت مختلف فنڈز سے یہ سپورٹ دے گی جو حتمی طور پر 133 ارب ڈالر تک جائے گی۔