منکی پاکس کا 74ملکوں تک پھیلاؤ،گلوبل ایمرجنسی نافذ

Spread the love

براعظم افریقہ سے پھیلنے والے منکی پاکس کیسز کا پھیلاؤ جاری ہے۔یورپ ، امریکہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیاء کے متعدد ملکوں میں بھی یہ وباء پہنچ چکی ہے۔

اسپین میں 3ہزار125،امریکہ میں 2 ہزار890، جرمنی میں 2 ہزار 268،فرانس میں ایک ہزار567  مصدقہ کیسز کی تصدیق ہوئی۔

نیدرلینڈ میں 712، کینیڈا میں 681 ، برازیل میں 592، بیلجیئم 399، آسٹریا میں 99، آسٹریلیامیں 42، ارجنٹینامیں منکی پاکس کے 18 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔سعودی عرب میں 2 جبکہ متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کے 13کیس سامنے آ چکے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تمام حفاظتی رہنما خطوط اور تدابیرپرعمل کریں ۔ اجتماعات میں سفر یا لوگوں سے ملاقات کے دوران میں روک تھام کے اقدامات کریں۔ممکنہ طور پر مہلک بیماری کے عالمی پھیلاؤ کے پیش نظرمنکی پاکس میں مبتلا ہونے والے مکینوں کو 21 دن تک قرنطینہ کرنا ہوگا۔

بھارت میں منکی پاکس کے 4 تصدیق شدہ کیسز

بھارت میں منکی پاکس کے چار تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے  ہیں بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مرکزی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ کیرالہ سے منکی پاکس کے 3 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد دہلی سے تعلق رکھنے والے شخص  کےنمونے مثبت آئے ۔دہلی سے تعلق رکھنے والے متاثرہ شخص نے غیر ملکی سفر نہیں کیا لیکن اس کے باوجود بھی اُس شخص کا منکی پاکس وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔اس سے قبل  ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے 3 افراد میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی تھی جو متحدہ عرب امارات سے بھارت پہنچے تھے۔

متاثرہ افراد کو الگ تھلگ رکھنا چاہیے

ماہرین کے مطابق جن مریضوں کو 38.5 ڈگری سے زیادہ بخار ہوتا ہے، ان کے جسموں پردانے نکل آتے ہیں اور وہ کل جسم کے 30 فی صد سے زیادہ حصوں پر ہوسکتے ہیں۔ اس کی علامات کے حامل مریضوں کواسپتال میں الگ تھلگ رکھنا چاہیے۔حاملہ خواتین، 6 سال سے کم عمر کے بچّوں، 70 سال سے زیادہ عمر کے بوڑھے مریضوں اور شدید بیمار مریضوں کوصحت یاب ہونے تک اسپتالوں میں تنہائی میں رکھا جانا چاہیے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ منکی پاکس وائرس سے متعلق معلومات کے لیے سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اورافواہوں اور غلط معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔

امریکی ماہرین کی رائے

امریکاکے مرکزبرائے انسدادامراض اورروک تھام (یو ایس سنٹرفارڈیزیزکنٹرول اینڈ پریوینشن،سی ڈی سی) کے مطابق منکی پاکس کسی متاثرہ شخص کے جسمانی سیال یا زخموں کی منتقلی کے ذریعے یا اس مواد کے ذریعے پھیل سکتا ہے جو اس کے کپڑوں یا بستر پرلگا ہو اور اس کو چھونے والافرد اس وائرس کا شکار ہوسکتاہے۔یہ کسی ماں کے رحم سے بھی بچے میں منتقل ہوسکتا ہے۔

منکی پاکس کی وباء عالمی صحت ایمرجنسی قرار

عالمی ادارہ صحت نے 70 سے زیادہ ملکوں میں منکی پاکس کے 14 ہزار کیسز سامنے آنے کے بعد ہفتے کے روز منکی پاکس کی وَبا کو عالمی صحت ایمرجنسی قراردیا ہے۔

عالمی ایمرجنسی کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ منکی پاکس کی وَباایک ’’غیرمعمولی واقعہ‘‘ہے۔اس کے لیے عالمی ردعمل کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مزید ممالک میں پھیل سکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس مرض کی علامات دو سے چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ  منکی پاکس بہت بڑا خطرہ ہے۔ میں فیصلہ کیا ہے کہ منکی پاکس کا پھیلاؤ عالمی توجہ کا مستحق پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا معاملہ بن چکا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے گلوبل ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا مطلب ہے کہ منکی پاکس کی وبا ایک ’غیر معمولی واقعہ‘ ہے جو مزید ممالک میں پھیل سکتی ہے اور اس کے لیے مربوط عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔

عالمی خبررساں ادارے کے مطابق  اگرچہ منکی پاکس وسطی اور مغربی افریقہ کے کچھ حصوں میں کئی دہائیوں سے موجود ہے لیکن اس کے براعظم افریقہ سے باہر بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے تک علم نہیں تھا۔

ڈبلیو ایچ او نے اس سے قبل وبائی امراض جیسے کورونا، 2014 میں مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا، 2016 میں لاطینی امریکہ میں زیکا وائرس اور پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کے لیے ہنگامی حالات کا اعلان کیا تھا۔

ہنگامی صورت حال کا اعلان زیادہ تر عالمی وسائل اور وبا کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لیے ہوتا ہے۔

گزشتہ ماہ ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کی کمیٹی نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں منکی پاکس کا پھیلاؤ ابھی تک بین الاقوامی سطح پر ہنگامی صورت حال جیسا نہیں ہے لیکن صورتحال کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے پینل نے اس ہفتے دوبارہ اجلاس طلب کیا۔

امریکی محکمہ صحت کے مطابق مئی سے اب تک 74 ممالک میں منکی پاکس کے 16 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اس مرض سے ہونے والی اموات صرف افریقہ میں رپورٹ ہوئی ہیں، جہاں اس وائرس کی زیادہ خطرناک قسم پھیل رہی ہے۔

افریقہ میں منکی پاکس بنیادی طور پر متاثرہ جنگلی جانوروں جیسے چوہوں سے لوگوں میں پھیلتا ہے لیکن یہ وائرس عام طور پر سرحدوں کو عبور نہیں کرتا۔

ڈبلیو ایچ او کے منکی پاکس کے ماہر ڈاکٹر روزامنڈ لیوس نے رواں ہفتے کہا تھا کہ افریقہ سے باہر مونکی پاکس کے 99 فیصد کیسز مردوں میں تھے۔

ساؤتھمپٹن ​​یونیورسٹی میں عالمی صحت کے ایک سینئر ریسرچ فیلو مائیکل ہیڈ نے کہا ہے کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے پہلے ہی منکی پاکس کو عالمی ایمرجنسی کیوں قرار نہیں دیا حالانکہ یہ حالات کئی ہفتے پہلے ہی پیدا ہو گئے تھے۔

منکی پاکس کا پہلا کیس کب رپورٹ ہوا

پہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی، ایک تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے بندروں  کے جسم پر کچھ  پاکس یعنی دانے  دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا۔انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے اور اسی ایک متاثرہ فرد سے دوسرا فرد اس کا شکار ہوسکتا ہے۔

منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں۔وائرس سے زیادہ متاثر ہونےوالے افراد  کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے  نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

منکی پاکس کے اثرات پانچ سے تین ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں  اور عام طور پر اس سے متاثرہ افراد دو سے چار ہفتوں کے  درمیان صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے اکثر کو اسپتال منتقل کرنے نوبت نہیں آتی۔یہ وائرس 10 میں سے ایک فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اوربچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول نے دنیا بھر کے ماہرین کو یہ مشورہ دیا کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جائے اور زیادہ متاثرہ افراد کو سمال پاکس کی ادویات دی جائیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق تقریباً ایک درجن افریقی ممالک میں اس وائرس کے ہزاروں کیسز ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے تقریباً 6ہزار کا کانگو اور 3ہزار کا تعلق نائیجیریا سے ہوتا ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ’منکی پاکس‘ کے کیسز مزید بڑھنے کاخدشہ ظاہر کرنے کے بعد پاکستان کے قومی ادارہ برائے صحت نے منکی پاکس کے حوالے سے ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکام کو منکی پاکس کے مشتبہ کیسز کے حوالے سے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ ملک بھر کے بڑے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو بھی آئسولیشن وارڈ قائم کرنے کے لیے تیار رکھا جائے۔

قومی ادارہ برائے صحت نے ہسپتالوں میں موجود طبی عملے کو منکی پاکس کے مشتبہ مریضوں سے احتیاط سے پیش آنے کا مشورہ دیا ہے۔

جولائی 2022
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031