حکومتی اتحاد کا فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ

Spread the love

حکمران اتحاد کے رہنماؤں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست کی سماعت کے لئے فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔ حکمران اتحاد سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی، پی ڈی ایم سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین نے پریس کانفرنس کی ۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازنے کہا کہ ’’میچ فکسنگ کی طرح بینچ فکسنگ بھی جرم ہے ۔ ہمارے انصاف کا نظام یہ ہے کہ لوگوں کو پہلے سے پتہ ہوتا ہے کہ پٹیشن پر بینچ کون سا ہو گا اور فیصلہ کیا ہو گا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز جیت گئے جس کے بعد تحریک انصاف نے سپریم کورٹ رجسٹری کی دیواریں پھلانگیں۔ قوم نے دیکھا کہ چھٹی کے دن رات کے وقت رجسٹری کھلی۔  مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ ’’رجسٹرار بھاگتے بھاگتے رجسٹری پہنچے اور پوچھا، کہاں ہے پٹیشن؟ جب رجسٹرار کو بتایا گیا کہ پٹیشن ابھی تیار نہیں، تو کہا گیا، تیار کریں، ہم یہیں بیٹھے ہیں‘‘ ۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ ’فیصلہ غلط ہو سکتا ہے لیکن غلط کے بعد غلط کا تسلسل، فیصلے کبھی بانجھ نہیں ہوتے ان کے اثرات دہائیوں تک رہتے ہیں ۔ آنے والے وقت کے ساتھ وہ اثرات گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ کسی بھی ادارے کی توہین کبھی بھی ادارے سے باہر نہیں ہوتی، ادارے کے اندر سے ہوتی ہے۔‘

مریم نواز نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے انتخاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنجرانی صاحب کے الیکشن میں چھ ووٹ مسترد ہوئے۔ عدلیہ میں جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ سپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں کیا جا سکتی لہذا یہ ووٹ مسترد ہیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے کہا کہ ’پنجاب اسمبلی میں سپیکر نے رولنگ دی کہ چوہدری شجاعت حسین (پارٹی سربراہ) کی مرضی کے خلاف دیے گئے ووٹ شمار نہیں ہوں گے۔‘مریم نواز کا کہنا تھا پنجاب کے 25 ارکان کو پارٹی سربراہ کی منشا کے خلاف ووٹ دینے پر ڈی سیٹ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قوم کا اربوں روپیہ ملک ریاض کو دیا۔2017 کے بعد ملک کی ایسی حالت ہوئی کہ آج تک سنبھل نہیں سکا۔ اس وقت تمام اشاریے مثبت تھے، اقامہ جیسے مذاق پرنواز شریف کو نکالا گیا تب سے ملک ہچکولے کھا رہا ہے اورابھی تک سنبھلنے میں نہیں آرہا ، اس وقت وٹس ایپ پر جے آئی ٹی بنائی گئی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارمانیٹرنگ جج لگایا گیا۔انہوں نے سوال کیا کہ مسلم لیگ ن کے خلاف مقدمات میں مخصوص ججوں کو ہی کیوں بینچ میں بیٹھایا جاتا ہے؟ ہمیں گارڈ فادر اورسسلین مافیا جیسے القابات سے نوازا گیا۔ پوری دنیا میں ہمارے خلاف کھوجی دوڑائے گئے ، جب کوئی ثبوت نہ ملا تو آخر پر اقامہ پر نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ججز اور انصاف کا مذاق اڑایا، توہین عدالت میں ہمارے کئی لوگوں کو چن چن کر باہر کیا گیا، طلال چوہدری اور دانیال عزیز آج تک نااہل ہیں۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا ردعمل

پی ڈی ایم اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ مریم نواز کی تمام باتوں کی تائید کرتے ہیں ، ہم نے عدالت کو تحفظ دینے کے لئے آخری حد تک جانا ہے ۔ ہم اس ملک کے شہری ہیں ، ہماری اس ملک سے وفاداری ہے ، بڑے سے بڑے ہاتھ اور ادارے سے بڑھ کر ہم وفادار ہیں ، پارلیمنٹ کو طاقتور بنانے کے لئے ہم نے آگے بڑھنا ہے ، خوداحتسابی ہوگی تو ادارے بھی قائم اور مستقبل بھی بہتر ہوگا، استحکام آئے گا تو سب ٹھیک ہوگا ۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ساڑھے تین سال سے ملک کا بیڑا غرق کیا گیا ،اب مزید نہیں کرنے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت مشکل حالات سے گزری ہے ، آج اتفاق رائے سے کھڑے ہیں کہ ملکی معیشت کو ٹھیک کرنا ہے، ہمیں موقع تو دیا جائے ، ہم اپنی تمام تر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ، کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف مشکل پیدا کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ، حکومت اور اداروں کو سپورٹ ہوگی تو ملک میں استحکام آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کیس میں فل کورٹ ہمارا مطالبہ ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان پر کوئی کمپرومائز کرنے کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے قائدین کے داخلے پر پابندی کے فیصلے کی خبر موصول ہوئی ہے ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین، پارلیمان اور اس کے فیصلوں کا احترام ہونا چاہیے، اگر ہم حکومت نہ لیتے تو پاکستان کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاچکا ہوتا ، یہ ایجنڈے کا حصہ ہوتا ہے جو کسی وقت عملی طور پر سامنے آجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو کام نہ کرنے دیئے جائے ، ہر روز ایک نئے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے تو کیسے کام ہوسکتا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ حالات سری لنکا جیسے ہونے جارہے تھے لیکن اتحادی حکومت نے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ مشکلات ضرور ہیں، ان کا تعلق ماضی کے ساڑھے تین سال کے ساتھ ہیں ،

عدم اعتماد کے فیصلے کے نتیجے میں تبدیلی آگئی، اس کے بعد تذبذب نہیں ہونا چاہیے، اب فیصلہ ہو چکا کہ اتحادی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی ۔

3 اشخاص کو ملک کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں،بلاول بھٹو

وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اس ملک کی جمہوری جماعتوں کا اس وقت ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں فل کورٹ بینچ چاہیے، یہ نہیں ہو سکتا کہ 3 شخص اس ملک کی قسمت کا فیصلہ کریں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ صرف 3 شخص یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ ملک جمہوری نظام کے تحت چلے گا، الیکٹڈ نظام کے مطابق چلے گا یا سلیکٹڈ نظام کے مطابق چلے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ 3 شخص 1973 کے آئین پاکستان کو یک جنبش قلم تبدیل کردیں اور ہمیں اس کے لیے 30 سال جدوجہد کرنی پڑے ۔ پھر قربانیاں دینی پڑھتی ہیں، قوم کو لاشیں اٹھانا پڑھتی ہیں، ہمارے کارکنوں کو تختہ دار پر چڑھنا پڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں نظر آرہا ہے کہ کچھ قوتوں کو، کچھ لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ پاکستان جمہوریت کی سمت کی جانب بڑھتا جارہا ہے، ہضم نہیں ہو رہا کہ ون یونٹ نظام بنانے کی 70 سالہ کوشش ناکام ہو رہی ہے، یہ بات برداشت نہیں ہو رہی کہ پاکستان کے عوام خود اپنے فیصلے کر رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان نے 4 سال کے دوران اتنا قرض لیا جتنا اس سے قبل پورے 70 سال میں لیا گیا تھا، ملکی معیشت کو تباہ کردیا، ہم نے جو آئینی حقوق صوبوں کو دیے تھے، ان کو سلب کرنے کی کوشش کی، وہ آمر بن کر تمام اداروں کو اپنا ٹائیگر فورس بنا کر ملک پر راج کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں نے جمہوری جدوجہد کی۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک دن کے لیے بھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا، مریم نواز، فریال تالپور کو جیل میں ڈالا گیا، آصف زرداری کو جیل میں ادویات سے محروم رکھا گیا تو اس وقت یہی عدالتیں ہمارے کیسز نہیں سن رہی تھیں، پھر جب ہماری جدوجہد کے باعث ادارے اپنے آئینی کردار پر مجبور ہوئے تو صرف 3 ماہ میں کچھ لوگ، کچھ قوتیں، کچھ سیاسی جماعتیں اور سازشی افراد عمران خان کو سامنے رکھ کر ملک میں ایک مہم چلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ چلائی جانے والی مہم اس ملک کی معاشی ترقی اور جمہوی سفر کے خلاف سازش ہے، ہم نے ماضی میں کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی اور ہم آج بھی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ عدالت عمران خان کے دباؤ میں آکر آئین کو تبدیل کرے، ہم عدالت کے اس فیصلے کے خلاف الیکشن لڑیں جس پر ہمارے اعتراضات تھے اور ہمارے جیتنے کے بعد عدالتیں راتوں رات ایک بار پھر ہمارا آئین تبدیل کرنے کی کوشش کریں، ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز یہ اہم کیس سنیں، پھر جو بھی فیصلہ ہوگا وہ آئین کے مطابق ہوگا اور ہم سب اس کو تسلیم کریں گے۔

وفاقی وزیرچوہدری طارق بشیر چیمہ کی گفتگو

مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل اور وفاقی وزیر چوہدری طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ یہ مطالبہ جائز ہے کہ ہمیں فل کورٹ چاہئے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے، ہمیں اس سے بھی کوئی پریشانی نہیں ہے کہ موجودہ بینچ کے رکن تین ججز بھی اس فل کورٹ کا حصہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ فل کورٹ ایک ہی بار یہ فیصلہ کر دے تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اس ملک کو کون سا نظام چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی ساری جماعتیں فل کورٹ بنانے کا اگر مطالبہ کر رہی ہیں تو فل کورٹ بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ سپریم کورٹ اس مطالبے کو تسلیم کرے گی اور سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنایا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

70 سال کے تجربات اور حالات سب کے سامنے ہیں،خالدمگسی

بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما خالد مگسی نے کہا کہ 70 سال کے تجربات اور حالات سب کے سامنے ہیں ، پہلے قبائلی علاقوں کے حالات ٹھیک نہیں تھے اب پورے ملک میں ایسے ہی حالات دکھائی دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگرحمزہ شہباز کے معاملے میں فل کورٹ بن جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، ہم سب کا یہ ہی مطالبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاملے میں بات کرنی ہو تو گرینڈ جرگہ کر لیا جائے ، اعلی عدلیہ ، اسٹیلشمنٹ اور سیاستدان بیٹھ کر ملک کو ایک رخ پر گامزن کرنے کے لئے بات چیت کریں ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان کی گفتگو

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے کہا کہ آج ہم سب یکجہتی کے ساتھ ایک موقف رکھتے ہیں۔ 1973 کے آئین نے پورے ملک کو یکجا رکھا ہوا ہے ۔ ایک تاثر سے محسوس ہوتا ہے کہ اب پارٹی لیڈر کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ہمیشہ سے پارٹی کے تمام بڑے فیصلے پارٹی صدر ہی کرتے آئے ہیں اور پارلیمانی لیڈر پارٹی صدر کو جوابدہ ہوتا ہے ۔ وہ بھی پارٹی کے صدر کی بات ماننے کا پابند ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کو بچانے کے لئے معیشیت پر توجہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔تمام سٹیک ہولڈرز کو آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنا کام کرناچاہیے ۔ اداروں کے مابین تضاد کا نقصان عوام اور جمہوری نظام کو نظام کو پہنچے گا ۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک سے وفاداری یہ ہے کہ ڈیتھ سیل میں بھی ہوں تو حق اور سچ پر کھڑے رہیں ۔

ایم این اے علی وزیر کا کیس ہمارے سامنے ہے،محسن داوڑ

ایم این اے محسن داوڑ نے کہا کہ ماضی میں ملک میں مارشل لابھی لگتے رہے ، جمہوری عمل میں رکاوٹیں بھی آتیں رہیں ،سلیکٹڈ فیصلے نہیں ہونے چاہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایم این اے علی وزیر کا کیس ہمارے سامنے ہے، کبھی جج چھٹی پر ہوتے ہیں تو کبھی وکیل دستیبا ب نہیں ہوتے ۔ باقی عدالتوں میں زیر التوا کیسز کی تعداد بھی سب کے سامنے ہے ،اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ 1973 کے آئین کے تحت اگر ادارے کام نہیں کریں گے تو معاملات کیسے درست سمت پر چل سکتے ہیں ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) کے رہنما آغا حسن بلوچ کی گفتگو

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) کے رہنما آغا حسن بلوچ نے خیال ظاہر کیا کہ عدالت میں داخلے پر پابندی سیاستدانوں کو ان کے حق سے محروم کرنے اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ آغا حسن بلوچ نے کہا کہ آج آئین ، قوانین او ر انسانی حقوق کے اصولوں کی پاسداری کی سخت ضرورت ہے، پارلیمنٹ کا کام قانون بنانا ہے ۔ عدلیہ کا کام غیر جانبدار ہو کر لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے ۔ اسٹبیلشمنلٹ کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے، تمام ادارے اپنی حدود میں رہے تو معاملات بہتری کی طرف جائیں گے ۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اسامہ قادری کی گفتگو

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اسامہ قادری نے کہا کہ اگر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ فل کورٹ بننا چاہیے ۔ جہاں تین رکنی بینچ بنایا گیا وہاں فل بنچ بن جائے تو اس میں کیا حرج ہے ۔ فل بنچ ہی تمام معاملات کا حل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سمجھتی ہے کہ نا انصافی پر مبنی معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا نہ ہی عوام کو صحیح سمت پر گامز ن کر سکتا ہے ۔ عدلیہ کے فیصلے عوامی رائے اور امنگوں کے مطابق ہونے چائیں ۔ ماضی قریب اور ماضی بعید کے فیصلے بھی سب کے سامنے ہیں ۔ ایم این اے اسلم بھوتانی نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے قائدین کے فل کورٹ مطالبے کی تائید کرتے ہیں ۔