ثمینہ بیگ سمیت کئی خواتین کوہ پیماؤں نے کے ٹو سر کر لی

Spread the love

ثمینہ بیگ کے ٹو سر کرنے والی پہلی پاکستانی کوہ پیماء

ثمینہ بیگ کے ٹو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیماء بن گئی ہیں۔ ثمینہ بیگ نے جمعے کی صبح 7بج کر 42 منٹ پر کے ٹو کے ٹاپ پر پہنچیں ۔ 8ہزار611 میٹر بلند کے ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔

دیس اُردو کے مطابق پاکستانی کوہ پیما 30 سالہ ثمینہ بیگ  نے 6 کوہ پیماؤں پر مشتمل دو ٹیموں کی جانب سے کے ٹو سر کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔ ثمینہ کی ٹیم کے اراکین عید محمد ، بلبل کریم، احمد بیگ ، رضوان ، وقار علی، اکبرسدپارہ بھی کے ٹو سر کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ثمینہ بیگ کا کہنا ہے کہ مذکورہ مہم جوئی کا مقصد ملکی کوہ پیماؤں اور خصوصی طور پر خواتین کوہ پیماؤں کا اعتماد بحال کرنا ہے تاکہ لوگ اس شعبے میں آگے آئیں۔

خیال رہے کہ ثمینہ بیگ کی مذکورہ مہم جوئی میں ان کی معاونت آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں موبائل سروسز فراہم کرنے والی کمپنی دی اسپیشل کمیونی کیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کر رہی ہیں۔

ایس سی او کے ساتھ ثمینہ بیگ کا کے ٹو سر کرنے کا معاہدہ رواں برس جنوری میں ہوا تھا ۔

ثمینہ بیگ نے 2013 میں ماؤنٹ ایوریسٹ کو سر کیا

گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والی 30 سالہ ثمینہ بیگ نے 7 سال قبل 2013 میں محض 21 برس کی عمر میں دنیا کی سب سے بلند چوڑی ’ماؤنٹ ایورسٹ‘ سر کی تھی ۔ جو 8 ہزار 849 میٹر بلند ہے۔وہ ‘‘ماؤنٹ ایورسٹ’’سر کرنے والی بھی پہلی مسلمان اور پہلی پاکستانی خاتون بنی تھیں۔ ثمینہ بیگ نے دنیا کے ساتوں براعظموں کی سات بلند ترین چوٹیوں کو بھی سر کرنے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے۔

ثمینہ بیگ نے 27 جولائی جولائی 2014 میں اپنے بھائی مرزا علی کے ہمراہ براعظم یورپ کی بلند ترین چوٹی ماﺅنٹ البرز جو کہ 5642 میٹر بلند ہے، اسے سر کیا تھا۔

اس سے قبل انہوں نے بھائی کے ہمراہ تین جولائی 2014 کو ہی الاسکا میں 6ہزار168 میٹر بلند ماﺅنٹ میک کنلے کو سر کیا تھا۔اسی طرح دونوں بہن و بھائی نے مارچ 2014 میں انڈونیشیا میں 4چار884 میٹر بلند ماﺅنٹ کارسٹینز کی چوٹی بھی پار کی تھی۔

جنوری 2014 میں ثمینہ بیگ نے انٹارکٹیکا کی بلند ترین چوٹی ماﺅنٹ ونسن اور پھر افریقی ملک تنزانیہ میں فروری 2014 میں 5895 میٹر بلند ماﺅنٹ کلمیخارو کو سر کیا تھا۔

دسمبر 2013 میں انہوں نے ارجنٹائن کی ماﺅنٹ آکون کوگیوا نامی جنوبی امریکہ کی سب سے بلند چوٹی کو سر کیا تھا۔

سعودی عرب کی نیلی عطار کے ٹو سر کرنے والی پہلی عرب خاتون

سعودی عرب کی نیلی عطار نے بھی کے ٹو کو سر کر لیا ہے۔ نیلی عطار کے ٹو سر کرنے والی پہلی عرب خاتون ہیں۔ نیلی عطار نے 2019ء میں ماؤنٹ ایورسٹ سمیت 16 چوٹیاں سر کی ہیں اور 7 میں سے 4 بلند ترین چوٹیوں کو سر کیا ہے ۔

افسانے حسامی فرد کے ٹو سر کرنے والی پہلی ایرانی کوہ پیما بن گئی ہیں۔ ناروے کی کرسٹن ہریلا بھی کے ٹو سر کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ امریکی خاتون کرسٹن بینیٹ ، کینیڈا کی لیلیا آئیوانوسیکیا اور ناروے کے فرینک لوک بھی کے ٹو سر کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔نیپال سے تعلق رکھنے والے 7 ماؤنٹین گائیڈرز بھی کے ٹو سر کرنے میں کامیاب رہے۔

21 سالہ برطانوی کوہ پیما ایڈریانا براونلی نے براڈ پیک کو سرکر لیا

برطانیہ کی 21 سالہ کوہ پیما ایڈریانا براونلی نے دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک کو سر کرلیا ۔ وہ 8 ہزار میٹر سے بلند 9چوٹیوں کو سر کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین ماؤنٹینیئر بن گئی ہیں۔

الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق بدھ کی صبح ایڈریانا سمیت کم از کم 5 غیر ملکی کوہ پیماؤں نے براڈ پیک کو کامیابی سے سر کیا جن میں پولینڈ کی ڈورٹو لیڈیا سیموکو، برازیل کے موسیس فیامونکی، نیپال کے گیلجی شیرپا اور ڈاوا نوربو شیرپا شامل تھے۔

21 سالہ برطانوی کوہ پیما نے صبح 5 بجے کیمپ تھری سے حتمی سمٹ کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی۔ایڈریانا نے اس ماہ کے شروع میں پاکستان میں نانگا پربت کو بھی سر کیا تھا۔یہ ان کے کیرئیر کی نویں ‘ایٹ تھاؤزنڈر’ ہیں اور وہ یہ کارنامہ انجام دینے والی کم عمر ترین کوہ پیما ہیں۔ براڈ پیک اور نانگا پربت سے قبل انہوں نے ماؤنٹ ایوریسٹ، کنچن جونگا، لوٹسے، مکالو، داؤلاگیری، مناسلو اور اناپورنا ون کو سر کیا تھا۔

روسی کوہ پیما ڈینس اروبکو کا نیا ریکارڈ

دوسری جانب روسی کوہ پیما ڈینس اروبکو نے منفرد کارنامہ انجام دے دیا ہے۔ تجربہ کار ڈینس اروبکو نے 14 گھنٹے 40 منٹ میں براڈ پیک کو سر کرلیا۔ اور ،منفرد ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔ ڈینس اروبکو  پہلے ہی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کرچکے ہیں۔

ڈینس گزشتہ روز  بیس کیمپ سے روانہ ہوئے اور منگل کی صبح 11 بجے سمٹ مکمل کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں رواں برس مہم جوئی کی سیاحت کے سیزن کو ‘‘تاریخی’’ قرار دیا جا رہا ہے ۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو اور دنیا کے خطرناک ترین پہاڑ نانگا پربت سمیت دیگر بلند و بالا چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے اس وقت دنیا بھر سے 1400 مہم جو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں موجود ہیں۔

حکومت نے رواں برس تقریباً 600 کوہ پیماؤں کے گروپس کو مہم جوئی کے لائسنس جاری کیے ہیں ۔ دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کے علاوہ پاکستان کے مہم جو نئے ریکارڈ قائم کرنے اور پرانے ریکارڈ توڑنے کے لیے سرگرم عمل تھے ۔