امریکہ میں 10 سال بعد پولیو کیس رپورٹ

Spread the love

برطانیہ کے بعد امریکہ میں بھی پولیو کادس سال بعد پہلا کیس سامنے آ گیا۔ خبر ایجنسی رائیٹرز کے مطابق ریاست نیویارک کے نواحی علاقے میں رہنے والے نوجوان شخص میں پولیو کی تشخیص21جولائی کو ہوئی ہے۔ریاست نیو یارک کی راک لینڈ کاؤنٹی میں رہنے والے اس شخص کو تقریباً ایک ماہ قبل فالج ہوا تھا۔نیویارک کے محکمہ صحت نے بیان میں بتایا کہ پولیو کا یہ کیس انتہائی متعدی ہے جو امریکہ سے باہر کہیں اور پیدا ہوا تھا۔ راک لینڈ کاؤنٹی کی ہیلتھ کمشنر پیٹریشیا شنابیل نے بتایا کہ کمیونٹی کو درپیش کسی بھی خطرے کے پیش نظر متاثرہ شخص کے اہل خانہ اور ان تمام افراد کا سروے کیا جا رہا ہے جن کے ساتھ قریبی رابطے تھے۔
راک لینڈ کاؤنٹی کی ہیلتھ کمشنرکے مطابق”ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ کاؤنٹی کے رہائشیوں کی صحت اور تندرستی کے تحفظ کے لیے صحت عامہ کے اس ابھرتے ہوئے مسئلے سے نمٹںے کے لئے نیویارک اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اور سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں
ہیلتھ کمشنر نے واضح کیا کہ مریض اب پولیو کے جراثیم پھیلانے کے قابل نہیں رہا۔ محکمہ صحت نے تصدیق کی کہ یہ جانچ میں پتہ چلا کہ راک لینڈ کاؤنٹی کیس کے وائرس کا تعلق امریکہ کے باہر سے ہے۔ اس بات کی تصدیق باقی ہے کہ راک لینڈ کاؤنٹی کے متاثرہ رہائشی کو کس طرح اور کہاں اس وائرس نے نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق ریاستی ماہرین صحت کے تجزیہ سے پتہ چلا کہ یہ کیس غیر ملکی اورل پولیو ویکسین میں استعمال ہونے والے کمزور وائرس کے سٹرین سے پیدا ہوا ہے جو بعض اوقات انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے اور اسی وجہ سے امریکہ نے سن 2000 سے اسے بند کر دیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ میں اب استعمال ہونے والی تین انجیکشنز پر مشتمل ایک کیمیائی طور پر غیر فعال پولیو ویکسین اس وائرس کے خلاف تقریباً سو فی صد تحفظ فراہم کرتی ہے۔
پولیو کیس کی تصدیق کرنے والے یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن(سی ڈی سی) نے کہا ہے کہ 1979 کے بعد سے امریکہ میں اس بیماری کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ۔سی ڈی سی کے مطابق قدرتی طور پر پایا جانے والا یا ’جنگلی‘ وائرس بھی کسی متاثرہ مسافر کے ذریعے ملک میں منتقل ہو سکتا ہے جیسا کہ 1993 میں ہوا تھا۔ ایجنسی نے کہا کہ امریکہ میں کسی بھی قسم کا آخری پولیو انفیکشن 2013 میں اوورل ویکسین سے پایا گیا تھا۔
سی ڈی سی کے مطابقپولیو اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے اور گھنٹوں میں ناقابل واپسی فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کا علاج نہیں کیا جا سکتا، لیکن ویکسینیشن کے ذریعے انفیکشن کو روکا جا سکتا ہے ۔ حالیہ دہائیوں میں دنیا بھر میں کیسز میں ڈرامائی کمی بچوں اور بچوں میں قومی اور علاقائی حفاظتی ٹیکوں کی شدید مہموں کی وجہ سے ہوئی ہے۔
سی ڈی سی کے مطابق پولیو انفیکشن اکثر غیر علامتی ہوتا ہے لیکن یہ فلو جیسی علامات پیدا کر سکتا ہے جیسے کہ گلے میں خراش، بخار، تھکاوٹ اور متلی وغیرہ جب کہ بہت کم کیسز میں وائرس اعصابی نظام پر حملہ کر سکتا ہے اور ناقابل علاج فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن ویکسی نیشن کے ذریعے انفیکشن کو روکا جا سکتا ہے اور حالیہ دہائیوں میں حفاظتی ٹیکوں کی وسیع کمپینز کی بدولت دنیا بھر میں ان کیسز میں ڈرامائی کمی ہوئی ہے۔
پولیو ایک زمانے میں امریکہ میں سب سے زیادہ خوف ناک بیماریوں میں سے ایک تھی 1940 کی دہائی میں یہ انفیکشن ہر سال تقریباً 35 ہزار امریکیوں کو معذور کر دیتا تھا۔ پہلی پولیو ویکسین 1955 میں دستیاب ہوئی تھی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق براؤن یونیورسٹی کی وبائی امراض کی محقق جینیفر نوزو نے کہا کہ زیادہ تر امریکیوں کو پولیو ویکسین لگ چکی ہے لیکن یہ ویکسین نہ لینے والوں کے لیے انتباہ ہے۔
اس کیس کے بعد نیویارک میں صحت کے حکام نے جمعے اور پیر کے لیے ویکسی نیشن کلینکس کا شیڈول بنایا ہے تاکہ ویکسین نہ لینے والوں کو اس جانب راغب کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ رواں سال 22 جون کو برطانیہ میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا ۔ برطانوی دارالحکومت لندن میں لوگوں کے درمیان پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے شواہد دریافت ہونے پر قومی سطح پر ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا تھا۔
یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (یو کے ایس ایچ اے) نے بتایا کہ فروری میں نکاسی آب کی معمول کی نگرانی کے دوران مشرقی اور شمالی لندن میں ویکسین میں پائے جانے والے کمزور مگر زندہ پولیو وائرس کو دریافت کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد سے جمع کیے جانے والے نمونوں میں یہ وائرس موجود پایا گیا ہے۔
اب تک برطانیہ میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا اور عام افراد میں اس کا خطرہ کم ہے مگر حکام نے عوام پر زور دیا کہ وہ کسی نقصان سے بچنے کے لیے ویکسینیشن کرالیں۔
یو کے ایچ ایس اے کی مشیر ڈاکٹر ونیسا سالیبا نے بتایا کہ حکام کا ماننا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ کسی ایسے فرد سے شروع ہوگا جو کسی ایسے ملک سے برطانیہ واپس آیا ہوگا جہاں اسے منہ کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین استعمال کرائی گئی ہوگی۔برطانیہ کو 2003 میں پولیو فری قرار دیا گیا تھا جبکہ وہاں آخری کیس 1984 میں رپورٹ ہوا تھا۔پولیو وائرس ہاتھوں کی ناقص صفائی، پانی اور غذائی آلودگی سے پھیلتا ہے مگر کبھی کبھار کھانسی اور چھینکوں سے بھی ایک سے دوسرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔