جنگ زدہ ملکوں میں ہزاروں بچے سنگین زیادتیوں کا شکار

Spread the love

دنیا میں2021 کے دوران جنگ زدہ علاقے بچوں کے لئے سنگین مظالم کا باعث بنے ہیں ۔اقوام متحدہ کی  منظرعام پر آنے والی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگ زدہ ملکوں میں ہزاروں بچوں کو جنسی زیادتی ، معذوری اور  یہاں تک کہ موت جیسے  سنگین ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بچوں کے لیے سب سے خطرناک ملک افغانستان، عوامی جمہوریہ کانگو، اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقے، صومالیہ اور یمن تھے۔

بچوں اور مسلح تصادم کی خصوصی نمائندہ ورجینیا گامبا نےرپورٹ پیش کی

بچوں اور مسلح تصادم کی خصوصی نمائندہ ورجینیا گامبا نےرپورٹ پیش کی۔ انہوں نے  بتایا کہ "حقیقت یہ ہے کہ اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں بچے ہر سال کے ہر مہینے ، ہفتے کے ہر دن تنازعات سے متاثرہ ریاستوں اور خطوں میں مسلح تصادم میں تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔”

رپورٹ کے مطابق2021 میں  بچوں کے خلاف تقریباً 24ہزار سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کی گئی۔ تنازعات کے باعث 8ہزار سے زیادہ ہلاک یا معذور ہوئے۔ 6ہزار310 بچوں کو بھرتی  کر کے انہیں جنگوں میں استعمال کیا گیا جبکہ تقریباً 3ہزار500 دیگر بچے اغواء ہوئے۔تشویشناک رجحانات میں بچوں کے اغوا اور جنسی تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ۔

اغوا کی جانے والی بہت سی لڑکیوں کو اسمگل کیا جاتا ہے،رپورٹ

ورجینیا گامبا نے انکشاف کیا کہ اغوا کی جانے والی بہت سی لڑکیوں کو اسمگل کیا جاتا ہے۔ایسے واقعات مغربی افریقہ کے علاقے چاڈ بیسن میں  رپورٹ ہو رہے ہیں ۔ کیمرون، وسطی افریقی جمہوریہ، چاڈ، لیبیا، نائیجر اور نائیجیریامیں مسلح گروپ اس مقصد کے لیے 97 فیصد لڑکیوں کوجنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ۔ 2020 تک سنگین خلاف ورزیوں کا شکار ہونے والے ہر چار بچوں میں سے ایک لڑکی تھی، لیکن 2021 تک یہ شرح ہر تین میں سے ایک لڑکی ہوگئی۔

میانمار میں بھی خلاف ورزیاں

عالمی ادارے نے رپورٹ میں بتایا کہ ریاستی مجرموں میں میانمار کی فوج بچوں کو معذور کرنے، انہیں قتل کرنے کے ساتھ ریپ میں بھی سرفہرست ہے۔افغانستان  میں بھی  بچوں کو   بھرتی ، معذور ی، قتل اور اغوا کرنے کے ساتھ ساتھ اسکولوں اور ہسپتالوں پر حملے کرنے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔اگست 2021 تک 3 ہزار سے زائد خلاف ورزیوں کے واقعات رپورٹ کیے گئے۔ عالمی ادارے کی نمائندہ نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان کی زندگی میں انتہائی تنزلی کی صورت حال ہے۔ افغانستان میں مانیٹرز نے کسی طریقے سے اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

سوڈان میں معاہدے کے بعد صورتحال بہتر

رپورٹ کے مطابق کچھ مثبت پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ فہرست میں شامل کچھ ممالک نے گامبا کے دفتر کے ساتھ ایکشن پلان پر دستخط کرنے اور ان کے ساتھ مشغول ہونے کے بعد بہتری دیکھی ہے۔ان میں جنوبی سوڈان شامل ہے جو 2018 میں ہر سال بچوں کے خلاف 4ہزار سے زیادہ خلاف ورزیوں کے ساتھ دوسرا سب سے بڑا مجرم تھا۔اب ایک سال میں یہ تعداد 300 سے بھی کم خلاف ورزیاں تک رہ گئی ہے۔

2 thoughts on “جنگ زدہ ملکوں میں ہزاروں بچے سنگین زیادتیوں کا شکار

  1. … [Trackback]

    […] Read More Information here to that Topic: daisurdu.com/2022/07/14/دنیا-کے-جنگ-زدہ-ملکوں-میں-ہزاروں-بچے-سنگ/ […]

  2. … [Trackback]

    […] Find More on on that Topic: daisurdu.com/2022/07/14/دنیا-کے-جنگ-زدہ-ملکوں-میں-ہزاروں-بچے-سنگ/ […]

Comments are closed.