خطبہ حج کے بنیادی نکات دیس اُردو پر

Spread the love

سال 1443 ہجری کے حج اکبر کے اراکین ادا کیے جانے کے بعد خطبہ حج میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں دیا گیا ۔ عالم اسلامی کے جنرل سیکریٹری اور علما کونسل کے رکن ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے خطبہ حج دیا۔رواں برس خطبہ حج براہ راست 14 زبانوں میں نشر کیا گیا جس سے دنیا کے طول وعرض میں ڈیڑھ کروڑ افراد نے استفادہ کیا۔

جدید ترین ٹیکنالوجی اور آلات کے ذریعے حج کا خطبہ انگریزی، فرانسیسی، اردو، فارسی، روسی، چینی، بنگالی، ترکی، ملاوی، ہندی، اسپینی، تامل اور سواحلی زبانوں میں پیش کیا گیا۔

خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے کہا کہ اے ایمان والو! اللہ کی عبادت کرو ۔ اللہ ہی واحد معبود ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی عبادت کریں۔ مسلمانوں! اللہ تعالیٰ سے ڈرو ۔ بے شک اللہ رب العزت ہر چیز سے واقف ہے۔ محمدﷺ اللہ کے آخری رسول اور بندے ہیں، آپۖ کے بعد نبوت کاسلسلہ بند ہوچکا ہے۔

خطبے میں کہا گیا کہ وہ تمام عبادات کی جائیں جس کا حکم اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے ذریعے دیا۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے جو تم کرتے ہو، اللہ نے زکوٰة ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ نے نماز اور روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے والا اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے۔

خطبے میں کہا گیا کہ اسلام کی دعوت عام کرنے کی طرف جائیں ۔ اللہ رب العزت نے فرمایاکہ لوگوں کو معاف کر دیا کرو۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ جن کے اخلاق اچھے ہوں گے وہ قیامت کے دن میرے زیادہ قریب ہوں گے۔ خیر کے کاموں میں مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچائیں، انسانیت کی قدر اور احترام کرنا مسلمانوں پر لازم ہے۔ سب سے بڑی نعمت توحید کی ہے۔

شیخ محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے خطبہ حج میں کہا کہ اسلامی اقدار کا تقاضہ ہے جو چیز نفرت کا باعث بنے اس سے دور ہو جاؤ۔ اللہ نے فرمایا متقی کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ سارے انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں، اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے ہیں۔

خطبہ حج میں کہا گیا کہ نیکی کرنے میں ہمیشہ جلدی کرو، مصیبت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے ۔ نبی کریمﷺ نے ہمیشہ عاجزی اور انکساری کاحکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ عاجزی اورانکساری اللہ تعالی کو بہت پسندہے ۔ ہرشخص یہ جان لے بہت تھوڑے وقت کے بعد ہم نے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے ۔اس نے ہر شخص سے اعمال کے متعلق جواب لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تقوی اختیارکرنا چاہیے، متقی لوگ اللہ تعالی کے قریب ہوتے ہیں۔ انہوں نے خطبہ حج میں کہا کہ اللہ تعالی سے ڈرنے میں ہی کامیابی ہے، اللہ نے فرمایا ہے کہ متقی کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔

انہوں نے خطبہ حج میں کہا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ ان کوچاہیے کہ وہ آپس میں اخوت سے رہیں ۔ امت مسلمہ کو اس وقت اتفاق اور اتحاد کی ضرورت ہے ۔ نیکی کے کاموں میں پہل کرو اوربرائی سے بچو، ہرشخص یہ جان لے کہ اللہ تعالی وحدہ لا شریک ہے ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ ہرچیز پرقادر ہے ۔ اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے خطبہ حج میں کہا کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو وہ حج کرے ۔ معاشرے کے کمزور طبقوں کی کفالت کی ذمہ داری لے ۔ اپنے والدین، ازواج اوربچوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔

خطبہ حج میں کہا گیا کہ اسلامی اقدار کا تقاضہ ہے کہ جو چیز نفرت کا باعث بنے اس سے دور ہوجائیں، نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن میرے ساتھ وہ ہوگا جس کا اخلاق اچھا ہے، آپ کی مصیبت اللہ کے سوا اور کوئی دور نہیں کرسکتا۔ قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں، قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے۔ خطبہ حج میں ڈاکٹر عیسی نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جنت میں اللہ کے رحم و فضل کے بغیر کوئی داخل نہیں ہوگا، اللہ نے فرمایا مرد اور عورت میں جو بھی بھلائی کا کام کرے اس کو اجر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے دین کامل کر دیا،  اللہ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو نیکی کا حکم دو، اچھی تربیت کرو۔

حج کے رکن ا عظم وقوف عرفات کے دوران حجاج کرام نے مسجدِ نمرہ اور میدان عرفات کے دیگر تمام حصوں میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج کرام نے رو رو کر اللہ تعالی سے مغفرت اور اس کے فضل و کرم کی دعا کی۔