پاکستان کوFATFگرے لسٹ سے نکالنےکا ٹیم کے دورے سےمشروط

Spread the love

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا 5 روزہ اجلاس جرمنی کے شہر برلن میں ہوا۔ ایف اے ٹی ایف کے 206 ارکان اور مبصرین کی نمائندگی کرنے والے مندوبین مکمل اجلاس میں شرکت کی، جن میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ، اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور ایگمونٹ گروپ آف فنانشل انٹیلی جنس یونٹس  شامل تھے۔ وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے خارجہ امور / چیئرپرسن نیشنل ایف اے ٹی ایف کوآرڈینیشن کمیٹی حنا ربانی کھر نے کی۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے 13سے17 جون تک جاری رہنے والے اجلاسوں میں ایف اے ٹی ایف ایکشن پلانز پر پاکستان کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے صدر ڈاکٹر مارکس نے کہا کہ فی الحال پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا رہا۔پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ جائزہ ٹیم کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔  کورونا صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے جلد از جلد پاکستان کا دورہ کیا جائے گا۔ پاکستان نے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے لئے اصلاحات مکمل کیں۔

وزیرمملکت برائے امور خارجہ حناربانی کھر

وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نےجرمنی کے شہر برلن سے  پاکستانی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک  فورس (فیٹف) نے  پاکستان کے دونوں ایکشن پلان کو مکمل قرار  دے دیا ہے۔عالمی  برادری نے متفقہ طور پر ہماری کوششوں کو سراہا ہے، ہماری کامیابی 4 سال کے مشکل سفر کا نتیجہ ہے۔حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ پاکستان اس رفتار کو جاری رکھنے، معیشت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

وزیرمملکت برائے امور خارجہ  نے کہا کہ آج تمام پاکستانیوں کیلئے خوشی کا دن ہے، قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں، فیٹف نے پاکستان کو تمام نکات پر کلیئر کردیا ہے جس کے بعد فیٹف پروسیجر کے تحت پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ توقع  ہے اکتوبر تک گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اکتوبر 2022 میں ہمارا فیٹف گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل اختتام کو پہنچے گا۔

ترجمان دفترخارجہ پاکستان کا بیان

دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ  ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے دونوں ایکشن پلانز (2018 اور 2021) کی تکمیل کو تسلیم کیا ہے اور ایک آن سائٹ دورے کی اجازت دی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے اراکین نے پاکستان کی پیشرفت پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان کو 34 آئٹمز پر مشتمل دونوں ایکشن پلان مکمل کرنے اور خاص طور پر ریکارڈ مدت میں 2021 کے ایکشن پلان کی جلد تکمیل پر مبارکباد دی۔ پاکستان نے کووڈ 19 کی وبا سمیت بہت سے چیلنجوں کے باوجود ان ایکشن پلانز کی کامیاب تکمیل کے لیے اپنی انتھک کوششیں جاری رکھیں۔

ترجمان نے بھی تصدیق کی کہ اب فیٹف پروسیجر کے مطابق ایک تکنیکی جائزہ ٹیم پاکستان بھیجی جائے گی۔ ہماری پوری کوشش ہوگی کہ یہ ٹیم اکتوبر 2022 کے فیٹف پلینری سائیکل سے پہلے اپنا کام مکمل کرے ۔ ہم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف کا قیام کب عمل میں لایا گیا

ایف اے ٹی ایف دنیا میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے خلاف کام کرنے والا پیرس میں قائم بین الاقوامی ادارہ ہے۔اس کا قیام 1989 میں جی سیون  ممالک کی جانب سے اس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ شروع میں اس کے رکن ممالک کی تعداد بہت کم تھی لیکن آہستہ آہستہ ٹاسک فورس کے رکن ممالک کی تعداد بڑھتی گئی۔ اس وقت ایف اے ٹی ایف کے ارکان کی تعداد 39 ہے۔ جن میں دو علاقائی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب اس ٹاسک فورس کا دائرہ کار دنیا کے 200 کے قریب ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان ایشیاء پیسفک گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کو بطور عالمی ادارہ مقبولیت تب ملی جب امریکہ میں نائن الیون کے حملے ہوئے۔ اس کے بعد اس ٹاسک فورس کے مقاصد میں دہشت گردی کی فنڈنگ کو روکنے جیسے اقدامات بھی شامل کیے گئے۔

ایف اے ٹی ایف خالصتاً تکنیکی بنیادوں پر کام کرنے والی فورس ہے۔ اس میں ٹیررر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے مہارت رکھنے والے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ جو اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کسی ملک کو گرے لسٹ میں رکھا جائے یا بلیک لسٹ کر دیا جائے۔

ایف اے ٹی ایف کی گرے اور بلیک لسٹ میں فرق

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اگر کسی ملک کو بلیک لسٹ میں ڈالا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ملک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی اعانت جیسے جرائم پر قابو نہیں پا رہا۔ بلکہ سرکاری سرپرستی کی جا رہی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کسی ملک کو بلیک لسٹ کرتا ہے تو عالمی سطح پر وہ ملک سفارتی، معاشی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

دوسری لسٹ جسے گرے لسٹ کہا جاتا ہے  ۔ایف اے ٹی ایف جن ممالک کو گرے لسٹ میں رکھتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ ممالک منی لانڈرنگ وغیرہ جیسے جرائم میں حکومتی سطح پر ملوث ہیں ۔بلکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ گرے لسٹ میں موجود ملک ان جرائم پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ناکام ہے۔ اس سلسلے میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس ملک کو ایسی پالیسیاں بنانے میں مدد دی جاتی ہے جس سے وہ گرے لسٹ سے نکل سکے۔

پاکستان کتنی بار گرے لسٹ میں شامل رہ چکا

پاکستان گرے لسٹ میں تین بار شامل رہا۔پاکستان کو آخری بار جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا۔ اس سے پہلے  28 فروری 2008 کو پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں شامل گیا تھا اور اہداف حاصل کرنے کیلئے پاکستان کو  ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔جون 2010 میں مثبت پیش رفت پر  پاکستان کو  فیٹف کی نگرانی کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا ۔ 16 فروری 2012 میں پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ اور پھر2015سے گرے لسٹ میں رہا۔

گرے لسٹ سے نکلنے سے پاکستان کو کیا حاصل ہوگا؟

گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد پاکستان عالمی تجارت کے مخصوص بند دروازے کھل سکتے ہیں۔ پاکستان میں سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت رُکے گی ۔ اس کا فائدہ عام عوام کو بھی پہنچے گا۔ اس سے نہ صرف حکومت کو دستاویزی معیشت بنانے میں مدد ملے گی بلکہ قانونی لین دین میں اضافے سے ٹیکسوں کی وصولی بھی بہتر ہوگی۔ سب سے بڑھ کر دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاری رکنے سے ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔

70 thoughts on “پاکستان کوFATFگرے لسٹ سے نکالنےکا ٹیم کے دورے سےمشروط

Comments are closed.