پانچ ہفتوں میں 2 گورنر پنجاب برطرف

Spread the love

چوہدری سرور کے بعد عمرسرفراز چیمہ بھی گورنر پنجاب کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ۔ کابینہ ڈویژن نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ڈی نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔

سینیئر جوائنٹ سیکرٹری کیبنٹ تیمور تجمل کے دستخط سے جاری نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ گورنر پنجاب کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے ۔ نئے گورنر کی تعیناتی تک آئین کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی قائم مقام گورنر ہوں گے۔

گورنر پنجاب سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی

ذرائع حکومت پنجاب کے مطابق گورنرپنجاب کو ہٹائےجانے کے بعد ان سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ گورنر ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق عمرسرفراز چیمہ گورنر ہاؤس آئے تو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ عمر سرفراز چیمہ ایک ماہ 6 دن گورنر پنجاب کے عہدے پر فائز رہے

صدرمملکت نے گورنر پنجاب کو ہٹانے کی سمری مسترد کی

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےگورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانےکی وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی تھی ۔

صدر مملکت نے گورنر پنجاب کو ہٹانے کی سمری مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گورنر پنجاب کو صدر پاکستان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جاسکتا ۔ آئین کے آرٹیکل 101 کی شق 3 کے مطابق گورنر صدر کی رضا مندی تک رہے گا۔

گورنر پنجاب نے آئین کے خلاف کوئی کام نہیں کیا

عارف علوی نے کہا کہ گورنر پر بدانتظامی کا کوئی الزام ہے نہ کسی عدالت سے سزا ہوئی ۔ گورنر پنجاب نے نہ ہی آئین کے خلاف کوئی کام کیا ۔ انہیں ہٹایا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ صدر کا فرض ہے کہ آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کرے ۔ گورنر پر بدانتظامی کا کوئی الزام ہے نہ کسی عدالت سے سزا ہوئی ۔ گورنر پنجاب نے نہ ہی آئین کے خلاف کوئی کام کیا، انہیں ہٹایا نہیں جاسکتا۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر رپورٹ ارسال کی تھی ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفے اور وفاداریوں کی تبدیلی پر بھی رپورٹ ارسال کی تھی ۔ مجھے یقین ہے گورنر کو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہو گا۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے ممبران اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔ اس مشکل وقت میں دستور پاکستان کے اُصولوں پر قائم رہنے کے لیے پُرعزم ہوں۔

صدر مملکت نے کہا کہ گورنر پنجاب کو ہٹانے کی وزیراعظم کی ایڈوائس کو مسترد کرتا ہوں، ضروری ہے کہ موجودہ گورنر صاف جمہوری نظام کی حوصلہ افزائی کے لیے عہدے پر قائم رہیں ۔

تحریک انصاف نے چوہدری محمد سرور کو گورنر پنجاب کے عہدے سے برطرف کیا

اس سے پہلے رواں سال 3 اپریل کو ہی وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

وزیراطلاعات چوہدری فواد حسین نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔

اسی روز گورنرہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری محمد سرور نے کہا کہ میں نے پہلے بھی گورنرشپ سے استعفی دیا تھا ۔ مجھے عہدوں سے لگاؤ نہیں رہا ۔ ملک سے غربت کاخاتمہ، قانون کی بالادستی وہ خواب تھے جس کے لیے عمران خان کے ساتھ مل کر جدوجہد کی۔

9ایم پی اے والے بندے سےبلیک میل ہو تے رہے،چوہدری سرور

انہوں نے کہا کہ 2018 میں پارٹی میں کئی سینئر رہنما تھے مگر عمران خان نے عثمان بزدارکو وزیراعلی بنایا لیکن نیا پاکستان میں ملازمتیں بک رہی تھیں ۔ ڈی سی، اے سی پیسے لے کر لگائے جارہے تھے ۔ عثمان بزدار کو وزیراعلی بنانا سب سے بڑا متنازع فیصلہ تھا ۔ پہلے سب کہتے رہے کہ عثمان بزدارکو وزیراعلی کے عہدے سے ہٹا دیں مگر بات نہ مانی گئی ۔ اس بندے کو وزیراعلی نامزد گیا جوپی آٹی آئی کارکن بھی نہیں ہے ۔ اس بندے سے بلیک میل ہوتے رہے جس کے پاس 9 ایم پی اے تھے۔

آئین اورقانون کے خلاف کوئی کام نہیں کیا،چوہدری سرور

چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ مجھ پرالزام لگایا گیا کہ اسمبلی اجلاس اپوزیشن کے کہنے پر نہیں بلارہا تھا ۔ حالانکہ مجھے وزیراعظم نے کہا تھا کہ تین اپریل سے پہلے اجلاس نہیں ہونا چاہیے ۔ رات کومجھے کہا گیا کہ پرویزالہی ہار رہا ہے ۔ میں اجلاس ملتوی کردوں، میں نے کہا کہ میں آئین اور قانون کے خلاف کوئی کام نہیں کرسکتا۔

چوہدری سرور نے بتایا کہ میں نے رات کے اندھیرے میں اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے دستخط کیے ۔ یہ میرے ضمیر پربوجھ تھا ۔میں نے غلط کیا شاید اسی وجہ سے مجھے بھی رات کو ہی فارغ کیا گیا ۔ میں گالی گلوچ نہیں کرنا چاہتا ۔ پی ٹی آئی کے کارکنان سے بھی کہتا ہوں وہ گالی گلوچ نہ کریں ۔ گالی گلوچ کی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دوں گا ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے بھی عالمی سازش کا حصہ نہ بنا دیا جائے۔