مرتضیٰ سید قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک مقرر

Spread the love

ڈاکٹررضا باقر آؤٹ ، مرتضیٰ سید کی انٹری،قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک مقرر

Spread the love

وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک کے سینئر ترین ڈپٹی گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید کو قائم مقام گورنر مقرر کردیا ہے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی مدت ملازمت مکمل ہوگئی ہے ۔ قانون کے مطابق نئی تعیناتی تک سینئر ترین ڈپٹی گورنر عہدہ سنبھالیں گے۔

مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ مرتضیٰ سید کا آئی ایم ایف کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے ۔ وہ ایک معروف ماہر معاشیات ہیں جو گورنر اسٹیٹ بینک کا عہدہ سنبھالیں گے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے مئی 2019 میں گورنر اسٹیٹ بینک مقرر کیا تھا ۔ موجودہ حکومت نے ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر رضا باقر کو کتنی تنخواہ اور مراعات حاصل تھیں

مسلم لیگ (ن) کے سینٹرعرفان صدیقی نے ایوان بالا میں گورنر اسٹیٹ بینک کو ملنے والی تنخواہ کی تفصیلات پر سوال کیا تھا ۔ اور پوچھا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر آئی ایم ایف میں کتنے عرصہ کیلئے ملازم رہے، پاکستان میں بطور گورنر اسٹیٹ بینک ملنے والی تنخواہ اور مراعات کتنی ہیں۔

وزارت خزانہ کی جانب سے دستاویزات فراہم کی گئیں جس کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ ماہانہ 25 لاکھ روپے تنخواہ ہے جس میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر (فائل فوٹو بشکریہ ٹوئٹر)

تنخواہ کے علاوہ گورنر اسٹیٹ بنک کو ملنے والی مراعات کی تفصیلات بھی مںظر عام مپر لائیں گئیں۔ جس کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک کو فرنشڈ گھر یا اس کے برابر کرایہ اور مینٹیننس کی سہولیات فراہم دی جاتی ہیں۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدرِ پاکستان نے ڈاکٹر رضا باقر کو تین سال کی مدت کے لیے گورنر سٹیٹ بینک تعینات کیا ہے اور ان کی مدتِ ملازمت اس وقت سے شروع ہو گی جس تاریخ کو وہ عہدہ سنبھالیں گے۔

رضا باقر کہاں کام کر چکے ہیں

ڈاکٹر رضا باقر طویل عرصے سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ میں کام کرتے رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے کے ڈ یبٹ پالیسی ڈویژن کے سربراہ کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں ۔ ڈاکٹر رضا باقر ہارورڈ اور برکلے یونیورسٹیزسے تعلیم یافتہ ہیں ۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

ڈاکٹر رضا باقر 2000 سے آئی ایم ایف کے ساتھ منسلک تھے ۔ ڈاکٹر رضا باقر نے 2005-2008 میں فلپائن میں بھی بطور سینئر ریزیڈنٹ ریپریزینٹیٹو خدمات سرانجام دی ہیں جہاں انہیں فلپائن کے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے آئی ایم ایف مشن چیف کی حیثیت سے بلغاریہ اور رومانیہ میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔

وہ 2012سے2016 تک عالمی مالیاتی ادارے کے ڈیبٹ پالیسی ڈویژن کے سربراہ کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں انہوں  آئی ایم ایف کے نمائندے کے طور پر قبرص، گھانا، یونان، جمیکا، پرتگال، تھائی لینڈ اور یوکرین میں کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ورلڈ بینک سمیت ایم آئی ٹی یونیورسٹی اور یونین بینک آف سوئزرلینڈ میں بھی کام کیا ہے۔

ڈاکٹررضا باقر کی تعلیم

انھوں نے امریکی یونیورسٹی برکلے سے اکنامکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ ہارورڈ یونیورسٹی سے بھی اکنامکس کی تعلیم حاصل کی ہے۔

ڈاکٹررضا باقر پر تنقید کیوں ہوئی

ڈاکٹررضا باقر کی تعیناتی کے دوران اُس وقت کی اپوزیشن جماعتوں اور موجودہ حکمران جماعت کی جانب سے کڑی تنقید کی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی نے کہا تھا کہ آئی ایم آیف کے موجودہ ملازم کی سٹیٹ بینک میں بطور گورنر تقرری افسوسناک ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک کا آئی ایم ایف کا ملازم ہونا جو پاکستان کو بیل آؤٹ پیکچ دینے جا رہا ہے ۔ مفادات کا تصادم ہے، یہ واضح ہے کہ ان کی وفاداری پاکستان کے ساتھ نہیں ہو گی۔

انہوں نے آئی ایم ایف کو ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نمائندے مشیرِ خزانہ اور سٹیٹ بینک کے گورنر کے عہدوں پر براجمان ہیں۔ پرانے ادوار میں ملک آئی ایم ایف کے مکمل شکنجے میں نہیں تھا۔