ٹوئٹر کو یورپی قوانین پر عمل کرنے کی وارننگ

Spread the love

یورپی یونین نے کھرب پتی کاروباری ایلون مسک کو ٹوئٹر کی خریداری کے بعد پہلی وارننگ بھی جاری کر دی۔ یورپی یونین کے کمشنر برائے انٹرنیٹ مارکیٹ کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی ملکیت میں ٹوئٹر آنے والے آن لائن پلیٹ فارم ٹوئٹر کو بڑی تکنیک کی طاقت کو روکنے والے یورپ کے نئے قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔

اگرچہ ٹویٹرخریدنے پر ایلون مسک نے اس پلیٹ فارم پر آزادیِ اظہار کا مضبوط مؤقف اختیار کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔ جس سے خدشات پیداہوئے ہیں کہ یہ نفرت اور پروپیگنڈے کا میزبان بن جائے گا ۔ دھونس، دھاندلی اور غلط معلومات سے نمٹنے کی ذمے داری صارفین پر چھوڑ دے گا۔

یورپی یونین کے کمشنر برائے انٹرنیٹ مارکیٹ تھیری بریٹن نے واضح کیا کہ ٹویٹر کو ہمارے یورپی ضوابط کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا ۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ ضوابط امریکا میں موجود نہیں ہیں ۔ خواہ آن لائن ہراساں کرنے کا معاملہ، جعلی مصنوعات کی فروخت کا ہو۔ بچوں کی مخرب اخلاق ویڈیوز یا تصاویر یا دہشت گردی کی کارروائیوں کا معاملہ ان سب میں یورپی ضوابط کی پاسداری کرنا ہوگی۔

اگر مسک اپنے عہد پرعمل پیرا ہوتے ہے توٹوئٹر کوتیزی سے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ یورپی یونین کی قانون سازی کا ایک بڑا حصہ ہے ۔ یہ قانون ممنوعہ مواد کی میزبانی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی صنعتی پالیسی کے پورٹ فولیو کو سنبھالنے والے اور نئے قوانین کے کلیدی حامی بریٹن نے کہا کہ حصص داران سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ٹویٹر کو اب سے مکمل طور پر یورپی ضوابط کے مطابق ڈھلنا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ اب یہ قانون امریکا کے مقابلے میں یورپ میں بہت واضح ہوجائے گا اور یورپ میں امریکاکے مقابلے میں زیادہ قوانین ہوں گے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹر پر ممکنہ واپسی کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ڈی ایس اے اپیل کے لیے شرائط اور امکانات طے کرکے اخراج یا پابندی سے متعلق فیصلوں کو بھی منظم کرتا ہے۔

ٖعنلڈ ٹرمپ منصب صدارت پر فائز ہوتے ہوئے ایک مصروف ٹویٹرصارف تھے لیکن ان خدشات کے پیش نظران پر پابندی عاید کردی گئی تھی کہ 2020ء کے صدارتی انتخابات میں شکست پران کے غصے نے تشدد کو ہوا دی تھی اور ان کے حامیوں نے واشنگٹن میں امریکی کیپٹول پر دھاوا بول دیا تھا۔

بریٹن نے کہا کہ ہمارے پاس پابندیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے بہت واضح،درست،جمہوری، بہت قابل مطالعہ قواعد ہوں گے۔کسی پلیٹ فارم سے اخراج ظاہر ہے کہ بعض معاملات میں ضروری ہوگا لیکن جمہوری کنٹرول میں ہوگی۔قانون ساز ڈیجیٹل سروسز ایکٹ پر حتمی بات کر رہے ہیں جس سے مواد کی حدود مقرر ہوں گی اور ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ سے بڑی ٹیکنالوجی فرموں کے کاروبار کرنے کے طریقوں کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

تنظیم کے رکن ممالک اور یورپی پارلیمان کی جانب سے باضابطہ طور پرتوثیق کے بعد دونوں قوانین کے آنے والے مہینوں میں نافذالعمل ہونے کی توقع ہے۔