ٹرمپ توہین عدالت کے مرتکب قرار

Spread the love

نیویارک کی عدالت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کاروباری طریقوں کی سول تحقیقات میں دستاویزات پیش نہ کرنے پر توہین عدالت کا مرتکب قراردے دیا ہے۔ نیویارک کے اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز نے عدالت سے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دستاویزات جمع کرانے کی مارچ کی ڈیڈ لائن پوری نہیں کر سکے جس کے بعد ان پر توہین عدالت لگائی جائے۔
اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز سابق صدر اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے خلاف ایک سول معاملے کی تحقیقات کررہی ہیں جو خرد برد اور جعلسازی سے قرضے حاصل کرنے اور ٹیکس سے بچنے کے الزامات شامل ہیں۔
جج آرتھر اینگورون نے سابق امریکی صدر پر یومیہ 10 ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ۔ حکم دیا کہ جب تک وہ اپنے کاروباری طور طریقوں کی تحقیقات کے لیے مطلوبہ دستاویزات جمع کر کے عدالتی حکم کی تعمیل نہیں کرتے اس وقت تک ان پر جرمانہ عائد رہے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس سے قبل اپنے اہم فیصلے میں جج آرتھر اینگورون نے ٹرمپ کو حکم دیا تھا کہ وہ 31 مارچ تک دستاویزات فراہم کرنے والی درخواست کی تعمیل کریں۔ اب جج نے ٹرمپ کو حکم دیا ہے کہ جس مقررہ تاریخ سے انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی ہے اس کے بعد سے وہ یومیہ 10 ہزار ڈالر کا جرمانہ ادا کریں۔
اپنا فیصلہ سنانے سے قبل جج نے کہاکہ وہ جانتے ہیں کہ آپ اپنے کاروبار کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، عدالت بھی اپنے کام کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔
اٹارنی جنرل نے ٹرمپ کے خلاف اس فیصلے کو قانونی جنگ میں “بڑی فتح” قرار دیا ہے۔ جبکہ ٹرمپ کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی۔
خبرایجنسی کے مطابق اٹارنی جنرل جیمز سابق صدر اور ٹرمپ آرگنائزیشن کےخلاف 2019 وپ ایک سول معاملے کی تحقیقات کررہی ہیں۔ نیویارک کی اٹارنی جنرل نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے کاروباری معاملات کی تحقیقات میں ان کے دفتر کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ اٹارنی جنرل کا دفتر اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا ٹرمپ کے ادارے نے قرضوں کے لین دین اور ٹیکس میں رعایات حاصل کرنے کے لیے اپنے اثاثوں کی قدر میں غلط بیانی سے تو کام نہیں لیا ہے۔عدالتی فائلز کے مطابق، اٹارنی جنرل کے دفتر کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ سابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ ایک عشرے کے بھی زائد عرصے سے اپنے مالیاتی گوشواروں کے حوالے سے دھوکہ دہی کے طور طریقوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔سابق صدر ٹرمپ نیویار ک کی اٹارنی جنرل جیمز کے خلاف عدالت میں کیس بھی لڑ رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جیمزکا تعلق ڈیموکریٹ سے ہے۔ اور وہ ان ساری تحقیقات کو اپنے خلاف سازش قراد دیتے آرہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے2016میں صدربننے سے پہلے صرف 750ڈالر وفاقی انکم ٹیکس ادا کیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ سے متعلق مالیاتی انکشافات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ انہوں نے 2018 کے درمیان کم از کم 434اعشاریہ9 ملین ڈالر کمائے لیکن اپنے ٹیکس گوشواروں میں 47اعشاریہ4 ملین ڈالر کا خسارہ دکھایا۔ صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے آئے ہیں۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ ٹرمپ کی کمپنی کے مالیاتی امور کے سربراہ نے ذاتی طور پر ایک اعشاریہ سات ملین ڈالر کی انکم پر ٹیکس نہیں دیا۔ٹرمپ کی کمپنی پر الزام ہے کہ وہ ایسی مبینہ اسکیم اپنائے ہوئے ہے، جس کے تحت ایگزیکٹیو افسران اپنی تنخواہوں اور بونسز کو ریکارڈ پر لاتے ہی نہیں ہیں۔دوسری طرف انہوں نے اپنے ٹیکس گوشواروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ جن میں امریکی ایوان بھی شامل ہے جو امریکی پارلیمان کے نگرانی کے نظام کے حصے کی حیثیت سے ٹرمپ کے ٹیکس گوشواروں تک رسائی کے لیے عدالتی چارہ جوئی کررہی ہے۔