امریکی کانگریس رکن الہان عمر کا دورہ پاکستان

Spread the love

امریکی ایوان نمائندگان کی مسلمان رکن الہان عمر 5 روزہ پاکستان کے دورے پر ہیں۔ اپنے دورے کے پہلے روز انہوں نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی۔ الہان عمر نے وزیر اعظم شہباز شریف، صدر پاکستان عارف علوی، اور وزیر خارجہ حنا ربانی اور سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف ، سابق وزیراعظم عمران خان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ کانگریس وومن نے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران ان کےعزم و ہمت اور سیاسی جدوجہد کو سراہا۔

وزیراعظم شہبازشریف سے الہان عمر کی ملاقات

وزیرِ اعظم شہباز شریف سے امریکی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز کی رکن الہان عمر کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

الہان عمر کے عزم و ہمت اور سیاسی جدوجہد کو سراہتے ہوئے،وزیر اعظم نے پاکستان کے پہلے دورے پر ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اس سے پاکستان اور امریکی عوام کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور پاکستانی پارلیمنٹ اور امریکی کانگریس کے درمیان تبادلہ خیال کو تقویت ملے گی۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔باہمی احترام، اعتماد اور مساوات پر مبنی دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تعمیری روابط سے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے پاکستان امریکہ تعلقات کو تقویت دینے میں سمندر پار پاکستانیوں کی کوششوں کو سراہا۔

وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے تنازعہ کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم جنوبی ایشیاء ہی اپنی ترقی پر بھرپور توجہ دے سکتا ہے۔اسلامو فوبیا جیسی برائی سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

رکن کانگریس الہان عمر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ اور امید ظاہر کی کہ ان کے دورہ پاکستان سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی سے الہان عمر کی ملاقات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے امریکی رکن کانگریس الہان عمر نے ایوان صدر میں ملاقات کی ۔ صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تعمیری روابط خطے میں امن اور ترقی کو فروغ دیں گے۔ڈاکٹرعارف علوی کا کہنا تھا کہ باہمی مفاد کے لیے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔دو طرفہ تبادلوں سے دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم میں بہتری آئے گی۔

ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ مودی حکومت کی طرف سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، بھارت مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث ہے اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہے، صدر مملکت نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو بھی اجاگر کیا۔

الہان عمر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سے الہان عمر کی ملاقات کا احوال

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کے دوران الہان عمر نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ امریکہ تعلیم، صحت اور خواتین کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف اورامریکی کانگرنس کی رکن الہان عمر کا وفدکے ہمراہ گروپ فوٹو

امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر کی وفد کے ہمراہ وزارتِ خارجہ آمد

امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر کی وفد کے ہمراہ وزارتِ خارجہ پہنچیں تووزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے معزز مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ دو طرفہ مراسم ہیں۔پاکستان، امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہے۔

وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے مقبوضہ کشمیر میں، 5 اگست 2019 کے یکطرفہ بھارتی اقدامات کے بعد مظلوم کشمیریوں کی پرزور حمایت اور ان کے حق میں آواز اٹھانے پر الہان عمر کا شکریہ ادا کیا۔ممتاز پاکستانی امریکن ڈیموکریٹک رہنما طاہر جاوید بھی اس ملاقات میں شریک تھے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے الہان عمر کی ملاقات

ان ملاقاتوں سے قبل الہان عمر نے سابق وزیراعظم وپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے بنی گالا میں ملاقات کی۔

امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر اور ان کے وفد کا چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ہمراہ گروپ فوٹو

رہنما پی ٹی آئی شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ ملاقات کے دوران اسلاموفوبیااوراس سےمتعلقہ امورپربات چیت کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ الہان عمر نے اسلاموفوبیا کےخلاف عمران خان کے مؤقف کی تعریف کی۔

شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ عمران خان نے اسلاموفوبیا پر الہان عمر کے جرات مندانہ اور اصولی مؤقف کوسراہا۔

امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی سیاسی جدوجہد

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی الہان عمر پہلی بارپاکستان کا دورہ کر رہی ہیں۔الہان عمر ان دو مسلمان خواتین میں شامل ہیں جو 2018 میں امریکی ایوان نمائندگان کا حصہ بنیں۔امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں الہان عمر نے منی سوٹا سے 72 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ ان کے مدمقابل ری پبلکن امیدوار نے صرف 22 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ان سے پہلے کوئی مسلمان خاتون کانگریس تک نہیں پہنچ سکی ۔ 2020 میں وہ دوسری بار الیکشن جیت کر دوبارہ کانگریس کی رکن بنیں۔ انہوں نے 2 لاکھ51 ہزار820 ووٹ حاصل کیے جو ڈالے گئے ووٹوں کا64اعشاریہ6 فیصد بنتا ہے۔

الہان عمر کا تعلق صومالیہ سے

الہان عمرکے والدین کا تعلق صومالیہ سے ہے اور وہ نوے کی دہائی کے دوران ملک میں جاری سول جنگ سے بچنے کے لیے اپناملک چھوڑ ا۔ الہان عمر اس دوران 4 سال تک اپنے خاندان کے ساتھ کینیا کے پناہ گزین کیمپ میں مقیم رہیں۔ پھر ان کے خاندان نے 1997 میں منی سوٹا میں رہائش اختیار کی، جہاں صومالی افراد کی بڑی تعداد مقیم ہے۔

مظبوط خیالات کی حامل الہان دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھاتی آئی ہیں، وہ حجاب پہننے والی پہلی امریکی کانگریس وومن بھی ہیں۔ امریکا میں انسانی حقوق کے علم برداروں میں سے ہیں۔امریکہ میں مسلمانوں کے ساتھ نسل پرست رویوں اور بڑھتے اسلاموفوبیا کے خلاف الہان عمر نے گزشتہ سال ایک بل پیش کیا جس کی منظوری ان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ بین القوامی اسلاموفوبیا کا مقابلہ نامی اس بل کی منظوری کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کے تحت ایک خصوصی نمائندے کا تعین کیا جائے گا جو دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے واقعات کو رپورٹ کر کے امریکی محکمہ خارجہ کے علم میں لائے گا۔

الہان عمر فلسطین کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر بھی آواز بلند کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ڈونلڈ ٹرمپ سمیت ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ حزب اخلتاف کی پارٹی کئی بار انہیں دہشت گرد بھی قرار دے چکی ہے۔ دو ہزار انیس میں اسرائیل کے فلسطین پر حملوں کے بعد اسرائیل کے بائیکاٹ کے مطالبے پر انہیں اور دوسری مسلمان خاتون راشدہ طلیب کے اسرائیل داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

امریکی ایوان نمائندگان کی رکن الہان عمر نے چند روز قبل ہی انسانی حقوق کے حوالے سے نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کرنے میں امریکی حکومت کی مبینہ ہچکچاہٹ پر سوال اٹھا یا تھا، جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ۔

وہ 2019 میں بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر غیر آئینی قبضے کے بعد کشمیری مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتی آئی ہیں۔ اور اسی وجہ سے ان کا پاکستان کا دورہ بھارتی میڈیا میں خاص طور پر زیر بحث ہے۔

One thought on “امریکی کانگریس رکن الہان عمر کا دورہ پاکستان

  1. … [Trackback]

    […] Find More here on that Topic: daisurdu.com/2022/04/20/امریکی-کانگریس-رکن-الہان-عمر-کا-دورہ-پا/ […]

Comments are closed.