عمران خان آؤٹ، تحریک عدم اعتماد کامیاب

Spread the love

قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد 174 ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہوئی

Spread the love

قومی اسمبلی میں ملک کے 22ویں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی جس کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم نہیں رہے اور ساتھ ہی عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے ہیں ۔ عمران خان 3 سال 7 ماہ 21 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے ۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 1996 میں اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی ۔ 2013 کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت بنائی اور 2018 کے انتخابات میں وہ وفاقی حکومت بنانے میں کامیاب رہے۔

یہ تیسری بار تھا کہ کسی منتخب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی گئی ۔

اس سے قبل پاکستان کے2 منتخب وزرائے اعظم اپوزیشن کی تحریک عدم اعتمادکا سامنا کرچکے ہیں اور دونوں مرتبہ ہی تحریک ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔

1988 اور2006کی عدم اعتماد کی تحریکیں ناکام ہوئیں

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک عدم اعتماد 1989 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف پیش کی گئی تاہم قومی اسمبلی میں اسے 12 ووٹوں سے رد کردیا گیا۔ 237 ارکان کے ایوان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہٹانے کے لیے 119 ووٹ درکار تھے تاہم تحریک کو 107 ووٹ حاصل ہوسکے ۔ وزیراعظم نے 125 اعتمادکے ووٹ حاصل کیے جب کہ 5 ارکان غیر حاضر تھے۔

دوسری مرتبہ تحریک عدم اعتماد اگست 2006 میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو ہٹانے کے لیے لائی گئی تاہم اس بار بھی اپوزیشن کامیاب نہ ہوسکی۔

342 ارکان کے ایوان میں شوکت عزیز کو ہٹانےکے لیے 172 ووٹ درکار تھے تاہم عدم اعمتاد کی تحریک کو 136 ووٹ مل سکے ۔ شوکت عزیز 201 ووٹ لے کر وزارت عظمیٰ کا عہدہ بچا گئے۔

اسپیکراسدقیصر عہدے سے مستعفیٰ

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دھمکی آمیز مراسلہ قومی اسمبلی میں دکھاتے ہوئے کہا کہ دھمکی آمیز مراسلہ میرے پاس ہے جس کو دیکھنا چاہیے تو دیکھ سکتا ہے ۔ ریاست پاکستان کا تحفظ کرنا میری ذمہ داری ہے ۔ آج شائد آخری اجلاس ہے جس کو میں چیئر کررہا ہوں۔ ہمیں خود مختاری کے لیے کھڑا ہونے ہو گا، میں آئین پاکستان کا حلف پابند ہوں۔

اسپیکر اسد قیصر کے استعفے کے باعث ایوان ایاز صادق کے حوالے کردیا گیا ۔ جس کے بعد ان کی صدارت میں اجلاس کی کارروائی آگے بڑھائی گئی۔ اس دوران ایوان میں حکومتی بینچز مکمل طور پر خالی ہوگئے ۔ صرف علی محمد خان ایوان میں موجود تھے۔

ایوان میں 5 منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائی گئیں ۔ دروازے بند کردیے گئے جس کے بعد ایاز صادق نے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پڑھ کر سنائی اور ایوان کا اجلاس 12 بج کر 2 منٹ تک ملتوی کردیا گیا۔

نوید قمر نے عدم اعتماد کی قرار داد پیش کی

بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ تلاوت قرآن پاک سے باقاعدہ شروع ہوا ۔ نوید قمر نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی ۔ جس کے بعد رائے شماری کا آغاز ہوا۔

اس دوران 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ۔ یوں عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بننے کا بھی اعزاز حاصل ہوا ۔

مںحرف حکومتی ارکان ایوان میں موجود

پی ٹی آئی کے مبینہ منحرف اراکین رانا قاسم نون ، نور عالم خان، راجہ ریاض، وجیہہ اکرم، نزہت پٹھان ایوان میں موجود تھے۔ عامر لیاقت حسین، ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ، ریاض مزاری، طلال گوپانگ، باسط بخاری سمیت دیگر ارکان نے ایوان میں موجود تھے ۔ منحرف ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادہ اور رکن قومی اسمبلی چوہدری سالک حسین نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور آخر تک ایوان میں موجود رہے۔

شہبازشریف کا کسی سے بدلہ نہ لینے کا اعلان

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد ایوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے بدلہ نہیں لیں گے اور کسی سے نا انصافی نہیں کریں گے۔ آج ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے ۔  پاکستان کے عوام کی دعائیں اللہ نے قبول کرلی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر قائدین اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ ان کی جہدوجہد کامیاب ہوئی اور پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہوئی۔ انون اور انصاف کے معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا اور اداروں کو مل کر چلائیں گے۔

ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان،چیئرمین پیپلزپارٹی کا ردعمل

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پہلی بارعدم اعتماد کامیاب کرکے تاریخ رقم ہوئی ہے ۔ آج ہی کے دن شہید بی بی نے جلاوطنی ختم کرکے ضیا کے خلاف تحریک شروع کی تھی ۔  پاکستان میں پہلی بار عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے اور ایک تاریخ رقم ہوئی ہے ۔ جبکہ آج 10 اپریل 1973 کو آئین منظور کیا تھا۔

انہوں ںے کہا کہ آج ہم پرانے پاکستان کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ نوجوانوں کو پیغام ہے کہ کوئی چیز ناممکن نہیں کیونکہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔

قومی اسمبلی میں پارلیمانی قائدین کے خطاب کے بعد ایاز صادق نے اجلاس 11 اپریل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا ۔ جس کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹری بیان جاری کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو دوپہر 2 بجے ہوگا ۔ پیر کو نئے وزیراعظم (قائد ایوان) کا انتخاب ہوگا۔

ایاز صادق کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم کیلئے کاغذات نامزدگی آج دن 2 بجے تک وصول کیے جائیں گے اور کاغذات کی اسکروٹنی سہ پہر3 بجے تک ہو گی جس کے بعد نئے قائد ایوان کا انتخاب 11 اپریل کو ہوگا۔

تحریک عدم اعتماد کا معاملہ

اپوزیشن جماعتوں نے 8 مارچ کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی تھی ۔ جس پر قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 25 مارچ اور دوسرا 28 مارچ کو طلب کیا گیا اور 3 اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ کا فیصلہ کیا گیا ۔ جس کا ایجنڈا بھی جاری کیا گیا۔

اسی دوران 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ عام سے خطاب میں عمران خان نے ایک خط لہرایا۔ اور کہا کہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ۔ میرے پاس خط ہے جو اس بات کا ثبوت ہے۔

پھر 31 مارچ کو قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے ‘‘امریکا’’ کا نام لیا اور پھر غلطی کا احساس ہونے پر رُکے۔ انہوں ںے کہاکہ نہیں باہر سے ملک کا نام مطلب کسی اور ملک سے باہر سے ۔ البتہ بعد میں انہوں نے کھل کر کہا کہ خط امریکا میں تعینات ان کے سفیر نے بھیجا لیکن اس میں امریکا کا پیغام تھا۔

18جولائی سے10اپریل تک کا سفر

پاکستان تحریک انصاف 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آئی اور عمران خان نے 18 اگست 2018ء کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں میں ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ (ق)، عوامی مسلم لیگ شامل تھے۔ جی ڈی اے، بی اے پی اور بعض دیگر آزاد اراکین شامل تھے۔

عمران خان 3 سال 7 ماہ 21 دن تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے۔ عمران خان پارلیمانی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں ۔ جنہیں باقاعدہ آئینی طریقہ کار کے تحت عدم اعتماد کی قرارداد کے ذریعے اپنے عہدے سے ہٹایا گیا ۔ اس سے قبل 1989ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی جو ناکام رہی ۔ اس کے بعد 2006ء میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف بھی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام رہی ۔

پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) ، جے یو آئی (ف)، اے این پی ، جمہوری وطن پارٹی سمیت دیگر جماعتوں اور آزاد اپوزیشن ارکان کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف 8 اپریل کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں، بی اے پی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) کے بعض ارکان نے بھی اپوزیشن کے ساتھ تعاون کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد مجموعی طور پر 174 ووٹوں سے کامیاب ہوئی۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں ۔ اس طرح نئے سپیکر کے انتخاب کے لئے بھی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ انتخابی شیڈول کا اعلان کرے گی ۔ قائد ایوان کے انتخاب سے پہلے نئے سپیکر کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں ۔اس طرح سپیکر کے ساتھ نئے ڈپٹی سپیکر کا بھی انتخاب آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے قواعد کے تحت عمل میں لایا جائے گا۔

ایم کیوایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی  کا خطاب

متحدہ قومی موؤمنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ لمحہ انعام سے زیادہ امتحان ہے ۔ دعا کیجئے یہ تبدیلی چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ عوام کے مقدر کی تبدیلی ہو۔

انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی اس کامیابی سے جمہوریت کو اعتماد ملا ہے ۔ اب ایوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اعتماد بحال کریں اور ایک حقیقی جمہوریت کی طرف بڑھیں ۔ ایک ایسا پاکستان جہاں بچوں کو محفوظ سمجھ سکیں۔ ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا اب آپ اپنا وعدہ پورا کریں گے۔

علی محمد خان کا ایوان میں دبنگ خطاب

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے حکومت قربان کی غلامی قبول نہیں کی ۔ مجھے خوشی ہے میں اس عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں۔

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ تاریخ ایک سوال چھوڑے جارہے ہیں ۔ عمران خان کو فضل الرحمان یہودی اور امریکی ایجنٹ کہتے تھے ۔ تو پھر یہ کیسا ایجنٹ تھا جس کو ہٹانےکے لیے امریکا نے ایڑی کا زور لگا لیا۔

علی محمد خان نے کہا کہ روس صرف بہانہ ہے ، عمران خان نشانہ ہے ۔ بلاول آپ کے نانا نے صرف ایک بار مسلم امہ کو اکٹھا کیا لیکن عمران خان نے دو برس میں دو مرتبہ مسلم امہ کو اکٹھا کیا ۔ عمران خان کا گناہ یہ ہے انہوں نے ازاد خارجہ پالیسی کی بات کی۔

امریکا کا عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ردعمل

امریکی محکمہ خارجہ نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ردعمل دیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں جاری صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں آئین کی پاسداری اور قانون کی عمل داری کریں ۔ امید ہے کہ سیاسی جماعتیں گڈ گورننس اور جمہوری اقتدار پر قائم رہیں گی۔

One thought on “عمران خان آؤٹ، تحریک عدم اعتماد کامیاب

  1. […] تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی […]

Comments are closed.