علی بابا کے بانی جیک ما نے انٹرنیٹ ایمپائر کیسے بنایا

Spread the love

جیک ما کا علی بابا تک کیسے پہنچے

Spread the love

امریکیوں میں "دولت سے مالا مال” افراد کی اچھی خاصی تعداد ہے ۔ لیکن شاید کوئی بھی انتہائی غریبی سے انتہائی دولت تک کے سفر کی مثال جیک ما سے بہتر ہو ۔ علی بابا گروپ کے ارب پتی شریک بانی ، جو چین اور دنیا کے سب سے امیر اور سب سے زیادہ متاثر کن کاروباری اور مخیر حضرات میں سے ایک ہیں۔

جیک ما کا انگریزی سیکھنے کا تجربہ

جیک ما 10 ستمبر 1964 کو چین کے شہر ہانگزو میں پیدا ہوئے ۔ ان کا پیدائشی نام ما یون ما تھا ۔ یون ما کے والدین مبینہ طور پر لوک موسیقار اور قصہ خواں تھے ۔ اگرچہ ما اور اس کا خاندان غریب تھا، لیکن ان کے کی کام کی اخلاقیات اور نئے چیزیں سیکھنے کی محبت نے بالآخر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بے پناہ مالی فائدہ پہنچایا۔ جیک ما نے خود کو انگریزی سکھانے کا آغاز کیا ۔ برسوں تک اپنی سائیکل پر 17 میل کا فاصلہ طے کر کے بین الاقوامی ہانگژو ہوٹل تک غیر ملکی زائرین کے لیے اپنی خدمات دینے کی خاطر ایک ٹور گائیڈ کے طور پر کام کیا ۔ اس خدمت کے عوض انہیں انگریزی زبان کے اسباق ملتے تھے ۔ جلد ہی وہ ما یون سے جیک بن گئے ۔ یہ نام انہیں ایک مغربی سیاح نے دیا تھا۔

جیک ماہ کے غیرملکی مہمان

جیک ما کا کہنا ہے کہ "ان سالوں نے مجھے بہت بدل دیا ۔ میں نے زیادہ تر چینیوں سے زیادہ گلوبلائز ہونا شروع کیا ۔ میں نے اپنے اساتذہ اور کتابوں سے جو کچھ سیکھا وہ اس سے مختلف تھا جو غیر ملکی مہمانوں نے بتایا ۔ غیر ملکیوں میں سے ایک آسٹریلوی خاندان بھی تھا جس کے ساتھ ما 1979 میں قلمی دوست بن گئے ۔ اس خاندان نے 1985 میں ما کو ملنے کے لیے آسٹریلیا بھی مدعو کیا تھا۔ اس دورے کے باعث ما کی مغرب سے شناسائی کا آغاز ہوا۔ لیکن چین میں نوجوان ما کو ہر قدم پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ما کے مطابق ہانگ زو ٹیچرز کالج میں داخلہ ملنے سے قبل دو مرتبہ وہ داخلے کا امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے تھے۔ ما ہانگ زو ٹیچرز کالج کو شہر کی بدترین علمی درسگاہ بھی کہتے ہیں ۔

یونیورسٹی میں اعلیٰ کامیابی اور بعد ازاں انگریزی کے استاد کی ملازمت کے باوجود، متجسس نوجوان جیک ما نے کاروبار شروع کرنے کا عزم کیا ۔ آج کا یہ ارب پتی جسے دنیا جیک ما کے نام سے جانتی ہے ۔ شہر کی پولیس فورس میں شمولیت سے لیکر اے ایف سی سمیت درجنوں نوکریوں کے لئے ان فٹ قرار دیا گیا۔ اس لئے کاروبار کا آغاز کرنے کا آئیڈیا بھی ما کے لئے ایک چیلنج تھا۔

انگریزی زبان پر گرفت کے باعث جیک ما نے آخرکار ایک ترجمہ کمپنی شروع کی جس میں انہیں معمولی کامیابی ملی۔ لیکن جدید ٹیکنالوجی سے بے بہرہ ما کو ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ایک دھکا ملا جس نے جیک ما کو چین سمیت دنیا بھر کے امیر ترین افراد کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔

علی بابا کے مالک کی انٹرنیٹ کیسے دیکھا

جیک ما امریکی شہر سیاٹل کے دورے پرتھے جب ایک دوست نے انہیں پہلی بار انٹرنیٹ دکھایا، جو ابھی ابتدائی مراحل میں تھا ۔ جب جیک ما نے ویب پر تلاش کی تو انہیں دنیا بھر سے بیئر کی بے شمار فہرستیں ملیں لیکن چین سے بیئر کی کوئی فہرست نہ ملی۔

جیک ما کے مطابق 1995 میں وہ ایک امریکی تاجر کے ساتھ کاروباری تنازعہ کو حل کرنے کے لیے لاس اینجلس گئے ۔ یہ تنازعہ پرتشدد ہوا لیکن اسکے اختتام پر جیک ما نے چین میں واقع ایک انٹرنیٹ کمپنی میں اس امریکی تاجر کے ساتھ کاروبار کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس تجربے کی پریشان کن نوعیت کے علاوہ ستم ظریفی یہ ہے کہ جیک ما ٹیکنالوجی کے بارے میں بہت کم جانتے تھے جبکہ وہ انٹرنیٹ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ ٹوٹے ہوئے دل سے جیک ما نے لاس اینجلس چھوڑا ۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ تجربہ اب بھی انہیں متاثر کرتا ہے ۔ تاہم اس تنازعے سے ایک موقع حاصل کرکے ما اپنے وطن واپس آ گئے اور چینی کاروباروں کی ایک چھوٹی سی فہرست بنا کر اپنی خدمات دینا شروع کیں۔

2005 میں نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو میں جیک ما نے کہا تھا "جس دن ہم ویب سے منسلک ہوئے ۔ میں نے دوستوں اور ٹی وی کے لوگوں کو اپنے گھر بلایا۔ انہوں نے ساڑھے تین گھنٹے انتظار کیا کیونکہ وہ دور ڈائل اپ کنکشن تھا اور تب آدھا صفحہ اپلوڈ ہوا۔ ہم نے شراب پی، ٹی وی دیکھا، تاش کھیلا اور انتظار کیا۔ لیکن مجھے بہت فخر تھا۔ میں نے ثابت کیا کہ انٹرنیٹ موجود ہے۔” ما کا چینی دوستوں کو انٹرنیٹ سے متعارف کروانا آنے والے سالوں میں چینی آبادی کے لیے ورلڈ وائڈ ویب کے تعارف کا پیش خیمہ بنا۔

اس چھوٹی سی کامیابی کی وجہ سے جیک ما کو پبلک سیکٹر آرگنائزیشن میں کام ملا ۔ اس آرگنائزیشن نے چینی ای کامرس اور انٹرنیٹ انٹرپرینیورشپ کو فعال کرنے میں ایک سرکاری ایجنسی کی مدد کی۔ اب انٹرنیٹ کے بارے میں معلومات اور کام کرنے کے تجربے سے لیس ما اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے کمپنی شروع کرنے کو تیار تھے۔

جیک ما کی پہلی سرمایہ کاری

1999 میں ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ سے کام کرتے ہوئے، جیک ما نے ابتدائی طور پر 17 دوستوں اور ساتھیوں سے سرمایہ کاری کی درخواست کی۔ ان کی تخلیق کا نام علی بابا رکھا گیا جو "دی تھاؤزنڈ اینڈ ون نائٹس” کے ایک کردار سے لیا گیا تھا۔ علی بابا کے بارے میں آن لائن مارکیٹنگ کرنے والوں کا اندازہ ہے کہ کمپنی کی مالیت ایک وقت میں 800 ارب ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی۔ جیک ما کے مطابق یہ نام کسی ایسی چیز کو تلاش کرنے کی خواہش سے آیا جس کے ہجے اور تلفظ آسان ہوں، اور دنیا بھر میں معنی رکھتا ہو۔ اس سرمایہ کاری سے کمپنی شروع ہوئی ۔ لیکن یہ گولڈمین سیچز اور وینچر کیپیٹل فرموں کے ایک گروپ (5 ملین ڈالر) اور سافٹ بینک گروپ کارپوریشن (20 ملین ڈالر) کی فالو اپ سرمایہ کاری تھی ۔ جس نے علی بابا کے کاروبار کو ترقی کرنے کا موقع دیا۔ اب علی بابا گروپ کے پاس کاروبار کی ایک وسیع رینج ہے۔

علی بابا ایک بی ٹو بی کمپنی ہے جو مینوفیکچررز کو اپنی مصنوعات بین الاقوامی اور مقامی صارفین کو فروخت کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ آج علی بابا ترقی کر رہی ہے اور الیکٹرانک ادائیگیوں، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، خریداری کے لیے بہتر سرچ انجن، اور مصنوعی ذہانت میں ترقی جیسے شعبوں میں نئی کمپنیاں متعارف کرانے اور آمدنی کے سلسلے کو بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔

جیک ما اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اپنی کوششوں کو اس سے بہتر نہیں لگا سکتے تھے۔ کیونکہ وہ ابتدائی انٹرنیٹ کے "وائلڈ ویسٹ” اور چین کے پیچیدہ سیاسی منظر نامے دونوں کو فتح کرنے میں کامیاب رہے۔

جیک ما نے 2011 کے ایک انٹرویو میں چارلی روز کے ساتھ ازراہ مذاق کہا تھا "میرے والد نے کہا، اگر آپ 30 سال پہلے پیدا ہوتے۔ آپ شاید جیل میں ہوتے کیونکہ آپ کے خیالات بہت خطرناک ہیں۔” کچھ کاروباریوں نے ابتدائی انٹرنیٹ پر سرمایہ کاری کرکے اربوں کمائے جبکہ دوسروں نے 20ویں صدی کے آخر میں چین کے ابتدائی سرمایہ دارانہ مراحل میں اپنی قسمت کمائی۔ جیک ما کی ذہانت دونوں میں کامیاب رہی۔ کمپیوٹر، ٹیکنالوجی یا انٹرنیٹ کے بارے میں کم علم رکھنے کے باوجود ما  نے کرہ ارض کی سب سے کامیاب ٹیک کمپنیوں میں سے ایک بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

جیک ما اب بل گیٹس جیسے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل

جیک ما اب علی بابا اور اس سے متعلقہ اداروں کے ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر کام نہیں کر رہے ہیں، 2019 میں علی بابا کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر جیک ما نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ 2018 میں کمپنی کے شیئر ہولڈرز کو لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے کہا "میں تعلیم، انسان دوستی اور لوگوں کے لیے زیادہ وقت اور کوشش صرف کروں گا۔ اگرچہ میں اپنے آپ کو بیکار نہیں بیٹھنے دوں گا، لیکن اس بار میں دلچسپ اور بامعنی انتخاب میں وقت صرف کروں گا۔ ایسے انتخاب جن کے بارے میں میں پرجوش ہوں۔”

جیک ما کی فاؤنڈیشن 75 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم فلاحی کاموں پر خرچ کر چکی

یہ وہ وعدہ تھا جو ما نے ایک دہائی سے زیادہ پہلے اپنے آپ سے کیا تھا، یہ جانتے ہوئے کہ کارپوریٹ دنیا سے آگے اور بھی بہت کچھ کرنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق39.8 بلین ڈالر کی مالیت، جیک ما اب بل گیٹس جیسے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں اور انسان دوست پروگراموں کے ذریعے اپنی دولت غریبوں میں بانٹنے کے خواہش مند ہیں۔ علی بابا 2006 سے دوسروں کی بھلائی کے پراجیکٹس پر کام کر رہا ہے۔ کمپنی نے ایک پروگرام کے تحت چین میں 20,000 سے زیادہ پسماندہ ماؤں کی مدد کی ہے۔ کمپنی نے علی بابا فاؤنڈیشن بنا کر سالانہ آمدنی کا 0.3 فیصد فلاحی مقاصد کے لیے مختص کیا۔

جیک ما فاؤنڈیشن کی بنیاد 2014 میں رکھی گئی، جس کے پاس 2019 میں تقریباً 4.6 ارب ڈالر (علی بابا کے حصص سے) کی انڈومنٹ تھی۔2019 کے آخر تک اس ادارے نے خیراتی کاموں کے لیے 300 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم تقسیم کی۔ فاؤنڈیشن انٹرپرینیورشپ، تعلیم، خواتین کی قیادت، طبی امداد اور ماحولیاتی تحفظ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔

جیک ما نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد فوربس ایشیا کو بتایا کہ "انسان دوستی کارکردگی کے بارے میں بھی ہے۔ اگر آپ 3 ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو 5 ڈالر کیوں خرچ کریں؟ اگر دو گھنٹے میں ختم کر سکتے ہو تو چار گھنٹے کیوں؟ جس طرح سے میں نے کمپنی کو چلانا سیکھا، اسی طرح میں نے انسان دوست تنظیم کو چلانا سیکھا۔”

علی بابا کے بانی جیک ما کی فاؤنڈیشن چین میں 75 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم فلاحی کاموں پر خرچ کر چکی ہے جبکہ فاؤنڈیشن آسٹریلیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بھی کام کر رہی ہے۔

2016 میں ہانگژو میں ایک انسان دوستی کانفرنس سے خطاب میں جیک ما کا کہنا تھا "دنیا اس لیے نہیں بدلے گی کہ آپ چندہ دیتے ہیں، لیکن یہ بدل جائے گی اگر آپ کا دل بدل جائے گا۔ آپ کبھی بھی تمام غریبوں کو نہیں بچا سکتے اور تمام بیماریوں کو ٹھیک نہیں کر سکتے، لیکن ہم دنیا میں ہر ایک کے اندر مہربانی کو جگا سکتے ہیں۔ ما مثالی ہو سکتا ہے، اس کی دولت اور پرہیزگاری ان نظریات کو ممکن بناتی ہے۔ عالمی سپر پاورز کے درمیان موجودہ نیم مخالف تعلقات کے باوجود، ما امید اور رجائیت کی روشنی کا کام کرتا ہے۔ چین اور امریکہ کے لوگوں کے درمیان ایک چیز مشترک ہے وہ ہے محبت اور احترام۔ یہ ایک عام زبان ہے جو ہمارے پاس ہے۔ پہلا ٹیک انقلاب پہلی عالمی جنگ کا سبب بنا۔ دوسرا ٹیک انقلاب دوسری جنگ عظیم کا سبب بنا۔ اب ہم ایک تیسرا انقلاب ہیں۔ کیا ہونے والا ہے؟ یہ غربت، بیماری وغیرہ کے خلاف جنگ ہونی چاہیے۔