یوکرائن جنگ میں ڈیجیٹل افراد کے شب و روز

Spread the love

یوکرائن جنگ میں عام آدمی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل افراد بھی بری طرح متاثر

Spread the love

 یوکرائن جنگ میں عام آدمی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل افراد بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مغربی یوکرائن میں ویڈیو گوریلا کے سینئر ڈویلپر/چیف سائنس آفیسر اینڈریو یاکووینکو بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں ۔جو گولیوں کی تڑتڑاہٹ کے باوجود اپنے کمپیوٹر سے چپکے رہتے ہیں ۔ کیونکہ وہ ہالی ووڈ کی تفریحی کمپنی کے لئے اے آئی فعال سافٹ ویئر ٹول پر کام کر رہے ہیں۔

کمپنی کے سینئر ڈویلپر اینٹن لینیوچ، جو ملک کے مرکز میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں چھپے ہوئے ہیں، اسی طرح کام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، وہ دور دراز کے ساتھیوں سے بھی رابطے میں ہیں۔ سینئر ڈویلپر الیکسی سیوروک، جو دارالحکومت کیف میں رہے نے فوج میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور وہ شہر کے لئے لڑ رہے ہیں۔

یوکرائن میں کوڈرز کریک ہیں جو ہالی ووڈ میڈیا اور تفریحی صنعت میں امریکی اسٹوڈیوز، کمپنیوں اور پروڈکشنز کے ساتھ شراکت داری کرتے ہیں۔ 2009 میں قائم ہونے والے ویڈیو گوریلا کمپیوٹر ویژن اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ری ماسٹرنگ اور بحالی ورک فلو کو خودکار بناتے ہیں۔ اورسن ویلز کی "دی ادر سائیڈ آف دی ونڈ” کی بحالی میں مدد کرنے والی اس کمپنی کے نیٹ فلکس، ڈزنی اور دیگر اسٹوڈیوز کے ساتھ سیکڑوں کریڈٹ اور کام کے تعلقات ہیں۔

یوکرائن کی ڈیجیٹل کمپنیوں کی اختراعات

یوکرائن کی ایک اور کمپنی ری سپیچر نے وائس کلوننگ کا حل تیار کیا ہے ۔ جس سے ایک آواز بالکل دوسری آواز کی طرح سنائی دیتی ہے ۔ یہ ٹیکنالوجی اب تفریحی صنعت میں وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے۔

اس سافٹ ویئر کو 2021 کے سپر باؤل اوپننگ میں ونس لومبارڈی کی آواز کو کلون کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا ۔ ڈزنی پلس کی فلم "دی منڈالوریان” کے اختتام پر ڈی ایج مارک ہیمل کے لئے لوکاس اسکائی والکر کی آواز بنائی گئی تھی ۔ اور رچرڈ نکسن کی آواز تخلیق کرنے کے لئے دستاویزی فلم ایم آئی ٹی سینٹر فار ایڈوانسڈ ورچوئلٹی کی "ان ایونٹ آف اے مون ڈیزاسٹر” کے لئے ایمی جیتا تھا۔

ری سپیچر کمپنی کے حالات

ری سپیچر کے شریک بانی/شریک سی ای او ایلکس سرڈیوک کی رپورٹ ہے کہ ان کے دو ملازمین اب بھی کیف کے دفتر میں موجود ہیں۔ لیکن ایک ماہ قبل ٹیم کے 10 ارکان لویو منتقل ہو گئے تھے۔ وہ پہلے روسی بم گرنے تک کیف میں رہے اور پھر ان کا پورا خاندان مغربی یوکرائن چلا گیا (اس کے بعد اس کی بیوی اور بچہ یورپ چلے گئے ہیں)۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ وہ کام پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جس دن کیف میں بمباری ہوئی ۔ ہالی ووڈ کی ایک کمپنی کو وہ آڈیو فائلیں موصول ہوئیں ۔ جو ہم نے فراہم کرنی تھیں۔ ہم نے ری سپیچر کے کاروبار میں کوئی خلل نہیں ڈالا ہے۔

ویڈیو گوریلا نامی کمپنی کے حالات

اسی طرح ویڈیو گوریلا کی ٹیم کے زیادہ تر ارکان مغربی یوکرائن میں ہیں، اگرچہ ویڈیو گوریلا کے امریکی شراکت دار جیسن برہمس کے مطابق کمپنی کا مرکزی دفتر پڑوسی ملک جارجیا منتقل ہو گیا ہے۔

روسی حملے سے بے خوف

تمام فنکار اس بات پر متفق ہیں کہ وہ 2014 میں مشرقی یوکرائن پر روسی حملے کے بعد سے تیاری کی حالت میں ہیں ۔ سردیوک کا کہنا ہے کہ روسی حملہ 8 سال قبل شروع ہوا تھا۔ یاکووینکو مزید کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب روس نے ہماری سرحدوں پر فوجیں جمع کی ہیں۔

روس کا یوکرائن پر دباؤ ڈالنے کا حربہ

ان کا کہنا ہے کہ یوکرائن پر حملہ دراصل روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا دباؤ ڈالنے اور سب کو ڈرانے کا حربہ ہے۔ یہ ایک سیاسی آلہ ہے، جسے پیوٹن وہ حاصل کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ برہمس، جو 2010 سے یوکرائن کا سفر کر رہے ہیں، نے نوٹ کیا کہ جب سے پیوٹن کے حامی صدر وکٹر یانوکوویچ کو معزول کیا گیا ہے تب سے روسی فوج کی نقل و حرکت جاری ہے۔

برہمس نے پہلی بار ویڈیو گوریلا کی خدمات حاصل کیں جب وہ ٹیکنالوجی خدمات خریدنے کے انچارج سونی پکچرز کے ایگزیکٹو تھے۔ 2015 میں انہوں نے سونی چھوڑ دیا اور یوکرائنی کمپنی کے ساتھ شراکت دار اور سی ای او کے طور کام شروع کیا۔ جیسے ہی برہمس کیف سے فرار کی خاطر جہاز میں پہنچے، ویڈیو گوریلا کی ٹیم نے جنگ کی صورت میں کام کرنے کا ایک منصوبہ ان کے سامنے رکھا۔ ری سپیچر میں سرڈیوک کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے نومبر 2021 میں اپنے ہنگامی منصوبے تیار کیے تھے۔

جس طرح مغرب میں بہت سے لوگوں کو شک تھا کہ روس یوکرائن پر حملہ کرے گا، اسی طرح بہت سے یوکرائنیوں کو بھی حملے کا یقین تھا۔ اسی لئے ویڈیو گوریلا کی یاکووینکو نے اپنی والدہ اور 93 سالہ دادی کو یورپ میں رشتہ داروں کے ساتھ رہنے کے لیے کیف سے باہر منتقل کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مجھے یقین نہیں تھا کہ روس حملہ کرے گا لیکن یہ ایک اچھا فیصلہ ثابت ہوا۔ لیکن ویڈیو گوریلا کی لینیوچ اور اس کا خاندان کیف میں رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ پیوٹن اتنے پاگل ہیں کہ وہ پورے ملک پر حملہ کر سکتے ہیں۔

24 فروری کو جب پہلے پہل روسی بم گرے تو دونوں کمپنیوں نے اپنے ہنگامی منصوبوں پرعمل درآمد شروع کر دیا تھا۔

لینیوچ کہتے ہیں وہ کم و بیش گاؤں کی زندگی کی طرح جی رہے ہیں، چیک پوسٹوں میں اضافہ، رات کے وقت کرفیو اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ۔ انہوں نے اور ان کے 7 سالہ بیٹے نے کروز میزائلوں کو آہستہ آہستہ کیف کی طرف بڑھتے دیکھا۔ وہ کہتے ہیں اور ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

ان کا بیٹا فوجی گاڑیوں کی تصاویر بناتا ہے اور لینیوچ اپنا زیادہ تر وقت کام کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ یاکووینکو کے مطابق حملے کا سب سے بڑا اثر نفسیاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہر کوئی مسلسل خبروں کی نگرانی کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلسل خبروں سے ہماری نمائش کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ ہر وقت ان چیزوں کے بارے میں فکر کرنا ناقابل برداشت ہے۔

” ہالی ووڈ ٹی وی شوز اور فلموں میں کام کرنا ایک خوش آئند بات ہے- سردیوک کا کہنا ہے کہ "یوکرائنیوں کے پاس تین ملازمتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ہم اپنے کاروبار کو جاری رکھیں کیونکہ ہم معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ دوسرا یہ کہ اپنے رشتہ داروں اور ٹیم کے ارکان اور دیگر لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچنے میں مدد دی جائے اور تیسرا یہ کہ ہم فوج کو عطیات دے کر ملک کی اس حد تک مدد کریں، جو کچھ بھی کر سکیں کریں۔ اگر حالات بہت خراب ہو جاتے ہیں تو مجھے فوج میں شامل ہونا پڑے گا۔ اور غالب امکان یہ ہے کہ اگر جنگ دیر تک جاری رہی اور فوج کو میری ضرورت پڑے تو کیا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔