سعودی عرب چین کو’یوآن‘میں تیل بیچنے پرتیار

Spread the love

سعودی عرب چین کو ڈالر کی بجائے چینی کرنسی یو آن میں تیل کی فروخت پر رضامندہو گیا

Saudi Arabia Considers Accepting Yuan Instead of Dollars for Chinese Oil Sales
Spread the love

چین نے اپنی کرنسی کو پوری دنیا میں قابل تجارت بنانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 سال کے دوران چین اور سعودیہ کےمابین کئی مرتبہ خام تیل کی فروخت کے معاہدے یو آن پر منتقل کرنے کی بات چیت ہو چکی لیکن واشنگٹن سے بڑھتی تجارتی جنگ کے باعث ریاض اور بیجنگ کے مابین بات چیت میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

سعودی عرب کی صدر بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ جوبائیڈن نے 2020 کی مہم میں کہا تھا کہ مملکت کو 2018 میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے لیے ایک "پاریہ” ہونا چاہیے۔ خاشقجی کے قتل کی وجہ سے گزشتہ ماہ صدر بائیڈن اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے درمیان ہونے والی کال پر بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔

امریکا کی جانب سے چینی کمپنیوں پر پابندیاں اور چین کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کر رکھا ہے جس کی بھی چین بھی واشنگٹن سے خفا ہے۔جوبائیڈن انتظامیہ بھی ٹرمپ دور حکومت میں بڑھنے والے فاصلوں کو کم نہیں کر سکی جس کی وجہ سےاب چین امریکا کو تجارتی میدان میں پچھاڑنے کو تیار ہے۔

دونوں ملکوں کے امریکا پر تحفظات کے باعث سعودی عرب اورچین میں تیل کے معاملے پر بات چیت ہوئی اور سعودی عرب چین کو ڈالر کی بجائے چینی کرنسی یوآن میں تیل فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اگر مذاکرات حتمی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں تو دنیاپرڈالرکی حکمرانی ختم ہوسکتی ہے ۔ مذاکرات کی خبروں کےبعدچینی کرنسی یوآن کی قدرمیں اضافہ ہوگیا ہے ۔

چین نے اپنی کرنسی کو پوری دنیا میں قابل تجارت بنانے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر 2018 میں یو آن کی قیمت والے تیل کے معاہدے متعارف کرائے تھے لیکن انہوں نے تیل کی منڈی میں ڈالر کے غلبہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ چین ڈالر کے استعمال کو بھی اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ جو کہ یوکرین کے حملے کے جواب میں ایران پر جوہری پروگرام اور روس پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے نمایاں ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خام تیل کی عالمی مارکیٹ پر امریکی ڈالر کے غلبے کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کی وجوہات سعودی عرب کی تیل کی مجموعی برآمدات کے 25فیصد سے زائد کا خریدار چین ہے۔چینی کرنسی میں تیل کی خریداری سے قیمتوں میں بھی عالمی سطح پر ردوبدل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف سینئر امریکی حکام نے یو آن میں سعودی تیل کی فروخت کو غیرمستحکم اور جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی یوآن میں فروخت سے سعودی معیشت ہل سکتی ہے۔ کیونکہ سعودی کرنسی ریال ڈالر کے ساتھ منسلک ہے۔

امریکا بھی سعودی تیل کا خریداری ہے۔امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق امریکا نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں سعودی عرب سے یومیہ 2 ملین بیرل سعودی خام تیل درآمد کیا تھا لیکن دسمبر 2021 میں یہ تعداد کم ہو کر 5لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ۔

اس کے برعکس چین کی تیل کی درآمدات میں گزشتہ 3دہائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ چین کی اُبھرتی ہوئی معیشت ہے۔ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب 2021 میں چین کا سب سے بڑا خام سپلائی کرنے والا ملک تھا۔ جس نے یومیہ 1.76 ملین بیرل فروخت کیا۔ اس کے بعد روس 1.6 ملین بیرل یومیہ فروخت کیا۔

جریدے کے مطابق، تقریباً 80 فیصد عالمی تیل کی فروخت کی قیمت ڈالر میں ہے۔ اور 1970 کی دہائی کے وسط سے عرب ملکوں نے امریکی حکومت کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کے تحت تیل کی تجارت کے لیے خصوصی طور پر ڈالر کا استعمال کیا ہے۔ایسا پہلی بار ہو گا کہ سعودی عرب ڈالر کے علاوہ کسی کرنسی میں تیل کی تجارت کرے گا۔

واضح رہے کہ چین نے اس سے قبل ریاض کی بیلسٹک میزائلوں کی تعمیر اور جوہری توانائی پر مشاورت میں مدد کی تھی۔

One thought on “سعودی عرب چین کو’یوآن‘میں تیل بیچنے پرتیار

  1. A very good n informative piece of news about international economiç changes and swiftly changing international scenario

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔