روس پرپابندیاں،یورپی یونین کے اپنے لیے بھی دردسر

Spread the love

یورپی یونین کی جانب سے ماسکو پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں

EUROPEAN UNION
Spread the love

روس کی جانب سے 24 فروری کو یوکرین پر حملے کے بعد یورپی یونین کی جانب سے ماسکو پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں ۔ روس پر مغربی پابندیوں کا مقصد اس کی معیشت کومتاثر کرنا تھا  لیکن یہ یورپی یونین کے درد سر بن گئی ہیں۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یورپ میں بھی اقتصادی ترقی کو "سخت منفی اثرات” جھیلنے پڑیں گے ۔روس پر پابندیوں سے یورپ میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا ہے، اس کی وجہ یہ پابندیاں یورپ کی معیشت پر بھی اثر انداز ہورہی ہیں۔

یورپی کمیشن فار ٹریڈ والدیس دومبرووسکس کا بیان

یورپی کمیشن فار ٹریڈ والدیس دومبرووسکس نے کہا ہے کہ اب مہنگائی میں اضافہ ہوگا ساتھ ہی توانائی اور خوراک کی قیمتوں پر بڑا دباؤ آئے گا۔

اس کے علاوہ دیگر منڈیاں بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کریں گی جس کے باعث سامان کی فراہمی متاثر ہو گی۔ مگر برسلز میں یورپی وزرائے خزانہ کے اجلاس کے بعد بات کرتے ہوئے والدیس دومبرووسکس نے بتایا کہ اقتصادی اثرات کس قدر ہوں گے اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہوگا۔

یورپی وزرائے خزانہ نے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کاروباروں کے لیے گرانٹس اور قرضوں جیسی تجاویز پر غوروخوص بھی کیا ہے۔

دومبرووسکس نے بتایا کہ  یورپی معیشت کی بنیاد ٹھوس ہے اور یہ بلاک اس بحران کو "برداشت” کر سکتا ہے۔ ہمارے پاس پہلے ہی متعدد طریقے موجود ہیں، اُن کا اشارہ عالمی وبا کے دوران رکن ممالک کو فراہم کردہ مالی معاونت کی طرف تھا۔

عالمی مالیاتی فنڈ کا روس پر عائدپابندیوں پر ردعمل

یوکرین پر روس کے حملے بعد سے اب عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)  نے بھی ردِ عمل سامنے آ گیا ہے۔مغربی پابندیوں کو عالمی معیشت کے لیے تباہ کن قرار دے دیا ہے۔ مالیاتی ادارے نے جنگ کے مضمرات کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق روس یوکرین کی جنگ دنیا کی معشیت کے لیے تباہ کن ہے۔ روسی حملے کے اثرات دنیا کی معیشت پر ترقی کی رفتار میں کمی کا باعث بنے گی۔

آئی ایم ایف  نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ  اس حملے کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اور یہ عالمی معیشت کو لمبے عرصے کے لیے ممکنہ طور پر ایک نئے سانچے میں ڈھال دے گی۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ  پناہ گزینوں کی لہر اور دوسرے انسانی مسائل کے علاوہ اس جنگ سے افراط زر بڑھ جائے گی۔ خوراک اور توانائی کی اشیا مہنگی ہو جائیں گی۔  جنگی صورت حال کے اثرات کاروبار میں خلل، سپلائی چینز کی بندش اور یوکرین کے ہمسایہ ممالک میں ترسیلات کی کمی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کا عرب ریاستوں کا دورہ

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن  عرب ریاستوں کے دورے پر ہیں ۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے الریاض میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملاقات کی ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے اس موقع پرتزویراتی شراکت داری کونسل کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پردست خط کیے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد اور برطانوی وزیراعظم جانسن نے یوکرین میں جاری جنگ سمیت تازہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر بات چیت کی ہے۔انھوں نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پرگفتگو کی ہے۔

ملاقات میں سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان،برطانیہ میں سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندربن سلطان سمیت سعودی حکام اور برطانیہ کے الریاض میں سفیر نیل کرمپٹن سمیت برطانوی حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔

اس سے قبل شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر الریاض ریجن کے ڈپٹی گورنرشہزادہ محمد بن عبدالرحمٰن اور مملکت میں برطانیہ کے سفیر نیل کرمپٹن اور دیگرحکام نے ان کا استقبال کیا۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن  سعودی عرب سے پہلے متحدہ عرب امارات پہنچے تھے۔

ابوظبی میں یو اے ای کے حقیقی حکمران شیخ محمد بن زاید سے یوکرین جنگ کے تناظر میں توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام پرتبادلہ خیال کیا تھا۔ ان کے دورے کا مقصد یوکرین پر حملے کے ردعمل میں روس کی تیل اور گیس کی برآمدات پرامریکا اور یورپ کی پابندیوں کے نفاذ کےبعد تیل کے عرب برآمد کنندگان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانا ہے۔

روس عالمی پابندیوں کا سامنا کرنے ملکوں میں سرفہرست

واضح رہے کہ یوکرین پر حملے کے نتیجے میں دنیا کے سب سے زیادہ پابندیوں والےممالک میں روس سرفہرست ہے۔ روس کے خلاف پابندیوں کی تعداد 6ہزار400 سے بھی بڑھ گئی ہے۔

عالمی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ڈیٹا بیس کے مطابق روس پر 22 فروری سے اب تک 3ہزار646 نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اس طرح روس پر عائد پابندیوں کی تعداد 6 ہزار 400 تک پہنچ گئی۔ روس کے بعد 3ہزار616 پابندیوں کے ساتھ ایران دوسرے نمبر پر ہے۔ شام پر 2ہزار608 پابندیوں کے ساتھ تیسرے اور شمالی کوریا پر 2ہزار077 پابندیوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ 651 پابندیوں کے ساتھ وینزویلا پانچویں ، 510 پابندیوں کے ساتھ میانمار چھٹے جبکہ 208 پابندیوں کے ساتھ کیوبا ساتویں نمبر پر ہے

22 فروری تک، جس ملک نے روس کے خلاف سب سے زیادہ پابندیاں لگائیں۔ وہ یورپی یونین کے رکن ممالک ہیں ۔جنہوں نے روس کے 678 پر مختلف شعبوں میں پابندیاں لگائی ہیں۔ یورپی یونین کے ان ممالک میں سے فرانس کی جانب سے 572 پابندیاں، سوئٹزرلینڈ ، کی جا نب سے پر 568 ، کینیڈا کی جانب سے 511 پابندیاں اور آسٹریلیا کی جانب سے 464پابندیاں عائد ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے روس کے خلاف 22 فروری تک 278 مختلف شعبوں میں پابندیاں عائد کی ہیں۔

یوکرین پر حملے کے نتیجے میں دنیا کے سب سے زیادہ پابندیوں والےممالک میں روس سرفہرست ہے۔ روس کے خلاف پابندیوں کی تعداد 6ہزار400 سے بھی بڑھ گئی ہے۔

عالمی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ڈیٹا بیس کے مطابق روس پر 22 فروری سے اب تک 3ہزار646 نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اس طرح روس پر عائد پابندیوں کی تعداد 6 ہزار 400 تک پہنچ گئی۔ روس کے بعد 3ہزار616 پابندیوں کے ساتھ ایران دوسرے نمبر پر ہے۔ شام پر 2ہزار608 پابندیوں کے ساتھ تیسرے اور شمالی کوریا پر 2ہزار077 پابندیوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ 651 پابندیوں کے ساتھ وینزویلا پانچویں ، 510 پابندیوں کے ساتھ میانمار چھٹے جبکہ 208 پابندیوں کے ساتھ کیوبا ساتویں نمبر پر ہے

22 فروری تک، جس ملک نے روس کے خلاف سب سے زیادہ پابندیاں لگائیں۔ وہ یورپی یونین کے رکن ممالک ہیں ۔جنہوں نے روس کے 678 پر مختلف شعبوں میں پابندیاں لگائی ہیں۔ یورپی یونین کے ان ممالک میں سے فرانس کی جانب سے 572 پابندیاں، سوئٹزرلینڈ ، کی جا نب سے پر 568 ، کینیڈا کی جانب سے 511 پابندیاں اور آسٹریلیا کی جانب سے 464پابندیاں عائد ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے روس کے خلاف 22 فروری تک 278 مختلف شعبوں میں پابندیاں عائد کی ہیں۔

اس تاریخ کے بعد سے، روس کے خلاف 3,257 افراد پرپابندیوں کا اطلاق کیا گیا ہے۔، جب کہ 379 نے تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا اور 7 بحری جہازوں کو اور 3 ہوائی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

21 فروری کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مشرقی یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسندوں کی نام نہاد حکمرانی کو تسلیم کرنے والے فرمان پر دستخط کیے تھے۔ پوتن کے فیصلے کے ردعمل میں، مغربی ممالک نے 22 فروری کو روس کے خلاف اپنی پہلی پابندیوں کا اعلان کیا تھا ۔

24 فروری کو پوتن نے مشرقی یوکرین میں ڈونباس میں ایک خصوصی فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔