15 مارچ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن

Spread the love

اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی قرارداد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کرلیا

UNITED NATION GENERAL ASSEMBLY
Spread the love

پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی قرارداد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کرلیا ہے ۔ جس میں 15 مارچ کو اسلاموفوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد عالمی سطح پر رواداری اور امن کے کلچر کو فروغ دینا ہے ۔ قرارداد کی او آئی سی کے 57 اراکین ، چین اور روس و دیگر 8 ممالک نے حمایت کی تھی۔قرارداد میں مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد کی ایسی تمام کارروائیوں اور مذہبی عبادت گاہوں کے ساتھ ساتھ مقدس مقامات کے خلاف ہونے والے تمام حملوں کی سختی سے مذمت کی گئی ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

” اسلامو فوبیا ایک حقیقت ہے”

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے، سفیر منیر اکرم نے 193 رکنی اسمبلی کو بتایا کہ ” اسلامو فوبیا ایک حقیقت ہے” اور کہا کہ اس کا رجحان بڑھ رہا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان پہلے سربراہ ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ میں 2019 کی جنرل اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں اسلامو فوبیا کا مسئلہ اٹھایا ۔ اور اس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی توجہ اور کوششوں کا بار بار مطالبہ کیا۔

آج کی قرارداد تمام رکن ممالک، اقوام متحدہ کی متعلقہ تنظیموں کو عالمی دن کو مناسب انداز میں منانے کی دعوت دیتی ہے۔ اتفاق رائے سے قرارداد کی منظوری کے بعد کئی رکن ممالک نے اس دستاویز کو سراہا لیکن ہندوستان، فرانس اور یورپی یونین کے نمائندوں نے تحفظات کا اظہار کیا، ہندوستانی سفیر ٹی ایس تریمورتی نے شکایت کی کہ قرارداد میں دیگر مذاہب کے علاوہ ہندو مخالف فوبیا کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔ اپنے تعارفی کلمات میں، سفیر منیر اکرم نے کہا کہ اسلامو فوبیا کی شکل میں نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک اور مسلمانوں کے خلاف تشدد، دنیا کے کئی حصوں میں پھیل رہے ہیں۔

اسلامو فوبیا کا پھیلاؤ   خطرناک حد تک پہنچ چکا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں منیر اکرم نے مزید کہا کہ  اسلامو فوبیا کا پھیلاؤ   خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے ۔ مذہبی آزادی ہرشخص کا بنیادی حق ہے۔نائن الیون کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف منفی جذبات میں اضافہ ہوا۔ مختلف ملکوں میں سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے اسلامو فوبیا کو ہوا دی جاتی ہے ۔ یہ نسل پرستی کی ایک نئی شکل کے طور پر ابھری ہے ۔

منیر اکرم نے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کو روکنا ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھائی۔اسلامو فوبیا کے خلاف آگاہی اور تدارک کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلئے مذہبی رواداری کا فروغ   وقت کا تقاضا ہے ۔

اسلامو فوبیا کی قراردادمنظورہونے پروزیراعظم کی مبارکباد

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’میں امت مسلمہ کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں ۔ اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر کے خلاف ہماری آواز سنی گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے او آئی سی کی پاکستان کی جانب سے متعارف کرائی گئی قرارداد منظور کرلی ہے۔‘

اسلاموفوبیا کے خلاف پر وزیراعظم عمران خان کی کاوشیں

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی کوششوں پر زور دے چکے ہیں۔ 2020 میں اسلام آباد میں رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’وہ اسلاموفوبیا کے خلاف مہم چلائیں گے اور باقی اسلامی ممالک کے لیڈروں کو بھی خط لکھیں گے۔‘

’مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کو روکنے کے لیے اسلامی ممالک کے سربراہوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔‘

ان کا کہنا تھا ’کہ ہمیں یہ نظر آرہا تھا کہ اسلامو فوبیا میں اضافہ ہوگا اور اسی لیے میں نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے پلیٹ فارم سے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وہ مسلمان حکمرانوں کے ساتھ مل کر مغربی دنیا کو سمجھائیں گے ۔مسلمانوں کی پیغمبر اسلام سے کتنی عقیدت ہے ۔ اور یقین ہے کہ ہم اپنی بات ان کو سمجھا سکیں گے۔ ہم آزادی اظہارِ رائے کو مانتے ہیں لیکن اس کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ پیغمبرِ اسلامؐ کے خاکے اور کارٹون اظہار رائے نہیں بلکہ سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے۔

گزشتہ سال وزیر اعظم عمران خان نے امت مسلمہ کی بھرپور ترجمانی کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران پوری دنیا کی توجہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کی جانب مبذول کرائی تھی۔ وزیر اعظم عمران خان ناموس رسالت ؐ پر امت مسلمہ کی آواز بنے تو روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پوری دنیا کو آزادی اظہار رائے کی آڑ میں مسلمانوں کی دل آزاری سے باز رہنے کاپیغام دیا ۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسدعمر نے کہا ہے کہ ‏اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ کہ ہر سال 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے تدارک کا بین الاقوامی دن ہو گا۔پوری مسلم امہ کے لئے انتہائی فخر کی بات ہے۔

اپنے ٹویٹ میں کہا ہےکہ یہ فیصلہ اس قرارداد کی بنیاد پر ہوا جو پاکستان نے پیش کی تھی، جس کی تمام مسلم ممالک نے سپورٹ کی، ہر پاکستانی لیے بہت بڑا اعزاز ہے ۔

وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کی قرارداد منظور ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔ فرخ حبیب نے ٹوئٹ کیا کہ  وزیراعظم عمران خان پورے عالم اسلام کا فخر بن گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  2019 میں اسلاموفوبیا کے خلاف  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  میں اسلام کا مقدمہ پیش کرکے پوری امت مسلمہ کی ترجمانی کی۔

گونر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ اسلامو فوبیا کےخلاف وزیراعظم  عمران خان کی کاوشیں ثمر آور ثابت ہورہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانےکی قرارداد منظور  ہونےپرگورنر نےامت مسلمہ کومبارکباد دیتےہوئے کہاکہ آج عالمی سطح پر مسلم امہ کےمؤقف کی فتح کا دن ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔