ایتھوپیا :جولائی سے دسمبر2021 میں 750افرادہلاک

Spread the love

نومبر 2020سے ایتھوپیا کی فوج اور باغیوں کی لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھرہو چکے ہیں۔

750 civilians killed in Amhara
Spread the love

ایتھوپیا کے انسانی حقوق کمیشن (ای ایچ آر سی) کی رپورٹ کے مطابق شمال کے 2 علاقوں میں جہاں گزشتہ 16 ماہ سے جنگ جاری ہے۔ جولائی سے دسمبر 2021 کے درمیان کم از کم 750 شہری مارے گئے ہیں۔
آزاد لیکن حکومت سے وابستہ ادارے نے افار اور امہارا علاقوں میں اپنی تحقیقات کیں۔ جہاں نومبر 2020 میں تیگرےمیں باغیوں اور حکومت کی حامی افواج کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا فضائی ، ڈرون اور توپ خانے سے کی گئی بمباری میں کم از کم 403 شہری مارے گئے ۔346 شہری ماورائے عدالت قتل ہوئے۔ تیگرائن باغی گینگ ریپ، تشدد، لوٹ مار میں ملوث پایا گیا۔ تیگرے میں ’’باغی‘‘ فورسز کے اغوا ، جبری گمشدگیوں واردتوں میں ملوث ہیں ۔

ایتھوپیا کےامہارا اور عفار میں اسپتال اوراسکول تباہ

رپورٹ کےمطابق امہار اور عفار میں 2ہزار400 سے زیادہ صحت کے مراکزتباہ ہو نے کے باعث کام بند کر چکے ہیں۔ ایک ہزار سے زیادہ سکول تباہ اور 3ہزار220 کو نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ نے ایتھوپیا میں حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا ۔ اس اقدام کی ایتھوپیا کی حکومت نے سخت مخالفت کی ۔ اگرچہ لڑائی میں نرمی آئی ہے ۔ اقوام متحدہ نےانکشاف کیا کہ نومبر سے لے کر اب تک شمالی علاقوں میں فضائی حملوں میں کم از کم 304 شہری مارے گئے ہیں۔

امہارا اور عفار کا تنازعہ

ایتھوپیا کے شمالی علاقے امہارا اور عفار میں تنازعہ نومبر 2020 میں اس وقت شروع ہوا ۔جب ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے میں پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) باغیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ یہ اقدام ان کے بقول فوجی کیمپوں پر باغی گروپ کے حملوں کے جواب میں آیا۔ اس کی وجہ سے خطے میں تنازعہ بہت تیزی سے پیچیدہ صورت اختیار کر گیا۔

باغیوں کادعوے اور حکومتی جوابی کارروائی

تیگرے کی پیپلز لبریشن فرنٹ نامی باغی تنظیم نے شہروں اور قصبوں پر قبضہ کرنے کے بعد افار اور امہارا میں جارحیت شروع کی ۔ اور دارالحکومت ادیس ابابا پر پیش قدمی کا دعویٰ کیا ۔ لیکن حکومت نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا ۔ امہارا اور عفار میں باغیوں کے پاس چلے جانے والے علاقوں کو واپس لے لیا۔
افریقہ کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں جنگ نے ہزاروں افراد کی جان لے لی۔ اقوام متحدہ اور ریاستہائے متحدہ کے مطابق لاکھوں افراد کو فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

ایتھوپیا میں مارچ 2021 میں ایمرجنسی کا نفاذ

اس سے پہلے ایتھوپیا کی حکومت نے مارچ 2021 میں ایتھوپیا کی حکومت نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی ۔ عوام سے درالحکومت عدیس ابابا کے دفاع کے لئے تیار رہنے کی اپیل کی گئی۔ تیگرائی خطے امہاراکے 2 اہم شہروں پر قبضہ کرنے کے بعد جنگجووں نے دارالحکومت کی طرف کوچ کرنے کی دھمکی دی تھی۔حکومت کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا مقصد ملک کے متعدد حصوں میں دہشت گرد گروپ پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں سے شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔

ایتھوپیا کے وزیراعظم کا دعویٰ

ابی احمد نے جون کے اواخر میں جنگجووں کے خلاف کامیابی کا دعوی کیا تھا ۔تاہم تیگرائی جنگجووں نے خود کو دوبارہ منظم کرکے خطے کے بیشتر علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس کے بعد جنگ پڑوسی امہارااور عفار خطے میں بھی پھیل گئی۔

امریکاکا ایتھوپیا کے ساتھ خصوصی معاہدے کا اختتام

جو بائیڈن انتظامیہ نے امریکا کے تاریخی اتحادی ایتھوپیا پر”انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں” کا الزام لگایا ۔ اسے ایک اہم تجارتی معاہدے ’افریقن گروتھ اینڈ اپورچونیٹی ایکٹ(اے جی او اے)‘ سے نکال دیا ۔

تیگرائے تنازعہ، قرن افریقہ تک پھیلنےکااندیشہ

ماہرین کے مطابق تیگرائے تنازعہ قرن افریقہ میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ ایتھوپیا میں جس فوجی آپریشن کا آغاز نومبر 2020 میں شروع ہوا تھا ۔ اس سے ملک کی صورتحال کشیدہ ہو چکی ہے۔
افریقی ملک ایتھوپیا میں سنگین مسلح بحران میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ اس کے متحارب فریقین میں ایک ادیس آبابا کی حکومت ہے ۔جس کو تیگرائے کے جنگجوؤں نے للکار رکھا ہے۔
ایتھوپیا تنازعے کے ساتھ ساتھ اریٹریا میں بھی حالات خراب ہوتے رہیں ۔ مبصرین کے مطابق اس مسلح تنازعے سے ایتھوپیا اور اریٹیریا کے ساتھ ساتھ قرنِ افریقہ کا سارا خطہ عدم استحکام کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔

ایتھوپیا بحران کے فریقین

تیگرے تنازعے میں ایک فریق وزیر اعظم آبی احمد اور ان کی فوج ہے ۔ دوسرا فریق تیگرے کے مسلح جنگجو ہیں۔ ان جنگوؤں کا تعلق تیگرائے عوامی محاذِ آزادی یا پیپلز لبریشن فرنٹ ہے ۔ لبریش فرنٹ کی قیادت اور جنگجو ملکی وزیر اعظم آبی احمد کو اپنا کھلا دشمن قرار دیتے ہیں۔

تیگرائے پیپلزلبریشن فرنٹ

2018 سے قبل تیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ کا ملکی سیاست میں کردار انتہائی فعال تھا۔ مبصرین کے مطابق لبریشن فرنٹ کی قیادت آمرانہ انداز میں اپنے معاملات جاری رکھے ہوئے ہے۔وہ مصالحت کی جانب جھکاؤ نہیں رکھتی اور نہ ہی تیار ہے۔
آبی احمد نسلی اعتبار سے ایتھوپیا کے قبیلے اورومو سے تعلق رکھتے ہیں ۔انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد تیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ کومرکزی سیاسی دھارے سے باہر کر رکھا ہے۔

لڑائی ختم نہ ہونے کی وجوہات

عوامی محاذ آزادی نامی تنظیم (ٹی پی ایل ایف) کے رہنما گیبرے مائیکل نے اس بات کا اعلان کیا تھا۔ ان کی ایتھوپیا کی فوج کے خلاف لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ ان کے جنگجو ایتھوپیا کی فوج کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ اس لڑائی کو اس وقت تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا جب تک تیگرائے کے علاقے میں زبردستی کے قابض موجود رہیں گے۔ ایتھوپیا کے وزیر اعظم آبی احمد تو ابتدائی لڑائی کے بعد ہی اعلان کر چکے تھے کہ ملک میں پیدا خونریز تنازعہ اب ختم ہو گیا ہے۔
ایتھوپیا کے ہمسایہ ملکوں کی رائے
تیگرے تنازعے سے ہارن آف افریقہ یا قرن افریقہ کے سبھی ممالک میں گھبراہٹ پیدا ہو چکی ہے۔ اریٹیریا کی حکومت تو ادیس آبابا کی کھلی حامی ہے۔ ان کی دوستی کی بڑی وجہ ان ممالک کا 2ہزار سے التوا کے شکار ایک خونی تنازئے کو خوش اسلوبی سے حل کرنا خیال کیا جاتا ہے۔

سوڈان 50 ہزار تیگرے مہاجرین پناہ دیئے ہوئے ہے۔ اس باعث ایتھوپیا اور سوڈان میں بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس تنازعے نے گرینڈ ایتھوپین رینائےساں ڈیم کے انتہائی بڑے پروجیکٹ کو بھی تاخیر کا شکار ہے۔ اس ڈیم کے حوالے سے سوڈان اور مصر کو بھی شدید تحفظات لاحق ہیں۔

سنگین قحط پیدا ہونے کے خدشات

آئی پی سی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بحرانی حالات کی وجہ سے آبادی کی نقل مکانی، نقل و حرکت پر پابندیاں، محدود انسانی رسائی، فصل اور روزگار کے مواقع کا ختم ہونے جیسے عوامل شامل ہیں۔ اگر تنازعہ مزید شدت اختیار کرتا ہے یا کسی اور وجہ سے انسانی امداد میں رکاوٹیں آتی ہیں تو تیگرائے کے بیشتر علاقوں میں سنگین قحط کا خطرہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔

20لاکھ افراد شدید قلت کا شکار

فوڈ سیکیورٹی کی ایک تنظیم آئی پی سی نے 2021 کی رپورٹ کے مطابق تیگرے میں تقریباً ساڑھے 3لاکھ لوگ خطِ غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس تنظیم کے مطابق تقریبا ًسوا لاکھ3 افراد میں غذائی قلت کی سطح بحران کی حد تک پہنچ گئی ۔ سوا 2 لاکھ کے قریب افراد ہنگامی صورت میں زندگی بسر گزار رہے ہیں۔
رواں سال جنوری کے آخر میں اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق تیگرے میں 4اعشاریہ6 ملین افراد ’’جو خطے کی آبادی کا 83فیصد بنتے ہیں ‘‘ خوراک کے عدم تحفظ کا شکار تھے ۔ جن میں 20 لاکھ "خوراک کی شدید قلت” کا شکار تھے۔
خوراک اور زاعت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسیف نے بھی مشترکہ طور پر خبردار کیاتھا ۔ اگر”فوری طور پر اقدامات نہیں کیے گئے تو مزید 20 لاکھ افراد بھوک سے مر سکتے ہیں۔”
عفر کے کچھ علاقوں میں مسلح جھڑپوں کے باعث صورتحال بدستورخراب ہے۔ تیگرے کےساتھ سرحد بند ہونے سے اشیائے خورونوش کی شدیدقلت ہے اور ایندھن کا ذخیرہ تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
اقو ام متحدہ کا کہنا ہے کہ تیگرے میں جاری تصادم کی وجہ سے انسانی بحران کی صورت پیدا ہوگئی ہے۔ لاکھوں افراد کو خشک سالی جیسی صورت حال کا سامنا ہے ۔ ہزاروں افراد اب تک مارے جاچکے ہیں اور25 لاکھ سے زیادہ کو اپنے وطن چھوڑ نے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اگر تنازعہ مزید شدت اختیار کرتا ہے یا کسی اور وجہ سے انسانی امداد میں رکاوٹیں آتی ہیں تو، تیگرائی کے بیشتر علاقوں میں قحط کا خطرہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔
ایتھوپیا کے وزیر خارجہ دیمکے میکونن نے قوام متحدہ کی اس رپورٹ کویہ کہہ کر مسترد کر دیا تھاکہ یہ غلط معلومات پر مبنی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔