پارلیمنٹ لاجز سےگرفتار افراد رہا

Spread the love

پارلیمنٹ لارجزسےگرفتار افراد کی رہائی کے بعد لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں دھرنے ختم کر دیئے گئے

Parliment logues
Spread the love

پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار جے یو آئی ف کے ممبران اسمبلی اور کارکنوں کو رہا کر دیا گیا ہے ۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں دھرنے ختم کر دیئے گئے ہیں۔

جے یو آئی( ف) کے تمام کارکنوں کو شخصی ضمانت اور ضمانتی مچلکوں پر رہا کیا گیا ۔ رہائی کے بعد جےیوآئی ف کے کارکن اور دونوں ایم این ایز تھانہ آبپارہ سے روانہ ہو گئے ۔ جے یو آئی ف کے گرفتار کارکنان کو جیل وین میں تھانہ آبپارہ متقل کیا گیا تھا۔

وفاقی پولیس نے گزشتہ رات پارلیمنٹ لاجز میں  آپریشن کے دوران ایم این اے جمال الدین اور مولانا صلاح الدین ایوبی سمیت 21 افراد کو حراست میں لیا تھا۔

گرفتاریوں کے بعد جے یوآئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر جے یو آئی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں دھرنے دیئے۔ کارکنان نے کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور سمیت دیگر شہروں اور علاقوں میں احتجاج شروع کیا تھا ۔ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پراحتجاج اور دھرنا آج صبح تک ملتوی کردیا گیا تھا۔

فضل الرحمان کی کارکنوں کی رہائی کی تصدیق

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ صبح ہونے سے پہلے ارکان قومی اسمبلی اور کارکن رہا ہو چکے ۔ رہائی کے بعد دوبارہ سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ  پارلیمنٹ لاجزپرپولیس نےدھاوابولا ۔ پولیس نےارکان پارلیمنٹ پر بلاجواز تشدد کیا ۔ عوام کےمنتخب نمائندوں کو گھسیٹتے ہوئے گرفتار کیا گیا ۔ جھوٹا بیانیہ اپنے سیاہ کردار کی پردہ پوشی کی کوشش ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے گرفتار جے یو آئی کے کارکنوں کی مخالفت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ جمیعت کے غنڈوں نے کان پکڑ کر معافی مانگ لی اورنکل گئے ۔ واقعے سے جعلی دانشور ایک بار پھر ظاہر ہو گئے ۔

فوادچودھری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اور میڈیا میں ان کے حمائیتی ایک مخصوص مافیا کا حصہ ہیں جو اپنے مفادات کے کے لئے اکٹھے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا تھا کہ فضل الرحمن صاحب رات بھر ادھر ادھر فون کرتے رہے ۔ مافیاؤں مانگتے رہے کہ میرے بندے چھڑوا دیں ۔ میری کچھ عزت رہ جائے گی۔  پھر اپنے بندوں سے معافی منگوائی۔

انہوں نے ٹوئٹ میں لکھا کہ ایک ہی رات میں سارا بخار اتر گیا ۔ اصلولاً انہیں چھوڑنا نہیں چاہئے تھا لیکن ہم انہیں اس بہانے سیاسی میدان سے بھاگنے نہیں دینا چاہتے ۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ تیمرگرہ کا موسم بدلنے والا ہے – یہاں کوئی آنے والا ہے ۔ اسمبلی میں آؤ اور اپنا نمبر پورا کرو ، ہم  بھاگنے نہیں دیں گے۔

انہوں ںے کہا کہ عدم اعتماد کا ووٹ  نہیں عدم اعتماد کا نوٹ چلا رہے تھے ۔

پارلیمنٹ میں آپریشن کی کہانی

یاد رہے کہ اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں جے یو آئی کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے رضاکاروں کی موجودگی پر پولیس نے آپریشن کیا۔ چوتھے فلور پر ایم این اے صلاح الدین ایوبی کے کمرے کا گھیراؤ کیا گیا جبکہ پارلیمنٹ لاجز میدان جنگ بنا رہا۔

پولیس نے دروازہ توڑ کر متعدد رضاکاروں کو گرفتار کیا۔ جے یو آئی کے دو ارکان قومی اسمبلی صلاح الدین اور جمال الدین کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس آپریشن 30 منٹ تک جاری رہا ۔ مزید نفری بھی طلب کی گئی۔ انصار الاسلام کے متعدد رضاکار کپڑے تبدیل کر کے لاجز سے نکل گئے۔

لیگی رہنما ایاز صادق، خواجہ آصف، سعد رفیق، رانا ثنااللہ بھی اظہار یکجہتی کے لئے پہنچے ۔ دھکم پیل کے دوارن دروازہ لگنے سے سعد رفیق کے پاؤں پر چوٹ آئی۔ ایم این اے صلاح الدین ایوبی نے کارکنوں کی گرفتاریوں پر مزاحمت بھی کی۔

اطلاع ملتے ہی مولانا فضل الرحمان، اکرم درانی اور جے یو آئی کے دیگر رہنما بھی پہنچے ۔ سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ان کے ارکان کو یرغمال بنانے کی اطلاع پر آنے والے رضا کار غیر مسلح تھے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا پارلیمانی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔

دوسری طرف انصارالاسلام فورس کے پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہونے کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد احسن یونس نے نوٹس لے لیا اور ڈی چوک پر قائم ناکہ انچارج، پارلیمنٹ لاجز کے انسپکٹر انچارج، لائن افسر معطل کر دیئے گئے۔

ترجمان کے مطابق افسران اور اہلکاروں کو ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر معطل کیا گیا، ایس ایس پی آپریشنزمعاملے کی انکوائری کریں گے۔

اُدھر پارلیمنٹ لاجز میں پولیس اور اراکین اسمبلی آمنے سامنے ہوئے اس دوران تلخ کلامی بھی ہوئی جبکہ پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ اور اہلکاروں میں ہاتھا پائی ہوئی۔

وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا ردعمل

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں دھاوا بولا اور پارلیمنٹ لاجز میں ڈرامہ کیا ۔ مسئلہ انصار الاسلام کا تھا ۔ سیاست کرنے کے لیے دوسری پارٹیاں آگئیں ۔ گھیراؤ سے پہلے 101 بارسوچنا، جو بھی تشدد کرے گا اسے کچل دیا جائے گا ۔ کسی ایم این اے کو نہیں، پرائیویٹ ملیشیا کے 19 افراد کو گرفتار کیا ہے ۔صلاح الدین ایوبی کمپنی کی مشہوری کے لیے تھانے میں بیٹھے ہیں ۔ مخالفین سے عدم اعتماد کیلئے 172 ووٹ پورے نہیں ہورہے ۔ ملک میں بحران پیدا نہ کریں ورنہ قانون حرکت میں آئے گا۔

کمانڈ اینڈ کنٹرول آفس کھول دیا

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول آفس کھول دیا ہے ۔ 20 سے 22 دنوں تک وزارت داخلہ 24 گھنٹے دستیاب ہوگی ۔ 23مارچ کو مسلح افواج پریڈ کرنے جا رہی ہیں، جو قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا اس سے نمٹا جائے گا۔

انہوں نے  نیوز کانفرنس میں اشتعال انگیز ویڈیو بیان سناتے ہوئے کہا کہ یہ جتھا لے کر چلے ہیں ان کا یہ حال ہے ۔ عدم اعتماد ان کا قانونی حق ہے ۔ 14دن کے اندر اسپیکر جب چاہیں اجلاس بلا لیں گے ۔ ان کے پاس 172 بندے اکٹھے نہیں ہو رہے ۔ انہیں بہانہ چاہیے ۔ اگر کوئی قانون ہاتھ میں لے گا تو پھر چیخیں نہ مارنا ۔ ہم نے چار سال پورے کرلیے آپ کے ساتھ وہ ہوگا جو آپ نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔

لاٹھیاں تیل میں بھگوائی ہوئی ہیں

وزیر داخلہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مولانا نے کہا لاٹھیاں تیل میں بھگوئی ہوئی ہیں ۔ ہم نے تو کوئی لاٹھی نہیں چلائی ۔ ہم کمپنی کی مشہوری کے لیے انہیں گرفتار نہیں کریں گے ۔ تحریک عدم اعتماد ناکام، ناکام ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بہت اچھی بات ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔