فلائنگ آنجیکٹ پر بھارت سے وضاحت طلب

Spread the love

وزارت خارجہ نے بھارت کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر وضاحت طلب کی ہے،شاہ محمود قریشی کا بیان

MIAN CHANNU PAKISTAN ISSUE
Spread the love

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے فلائنگ آبجیکٹ آنا قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔  واقعہ کے اصل محرکات پرغور کر رہے ہیں ۔ وزارت خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر وضاحت طلب کی ہے ۔ بھارت کواس عمل کے لئے جواب دہ ہونا پڑے گا ۔ بھارتی وضاحت کے بعد آئندہ  کا لائحہ عمل طے کریں گے ۔

بھارت نے دوسری بار فضائی حدود کی خلاف ورزی کی

شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت نے دوسری مرتبہ ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ۔  بھارت کی اس حرکت کوان کی تکنیکی ناکامی کہیں، جارحیت یا بدنیتی کہیں ۔ ابھینندن کی چائے ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی لگتا ہے انہیں پھر سے طلب ہو رہی ہے ۔ 26 فروری کو بھارت نے جارحیت کی اور پاکستان نے اسے مناسب اور بروقت جواب دیا۔ حقائق سب کے سامنے آ گئے لیکن دنیا مصلحتاً خاموش رہی۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی اس حرکت سے معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے ۔ معصوم لوگ نشانہ بن سکتے تھے ۔ سعودی ائرلائن کا جہاز ، قطر اور پاکستان کی ڈومیسٹک پروازیں نشانہ بن سکتی تھیں ۔ ایوی ایشن اتھارٹیز کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

بھارت کی جارحیت معاملہ پی 5 میں اٹھانے کا فیصلہ

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ  پی 5 ممالک کے نمائندگان کو وزارت خارجہ میں مدعو کریں گے ۔ انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کریں گے ۔ ہمیں توقع ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے گی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم جارحیت کے قائل نہیں ہیں لیکن دفاع ہم نے کل بھی کیا تھا اور آئندہ بھی کریں گے ۔ بھارت ہندتوا اور اکھنڈ بھارت کی سوچ کی حامل حکومت برسراقتدارہے ۔  بھارت کی صورتحال اتنی بگڑ چکی ہے کہ یورپی یونین پارلیمنٹ کے 21 ممبران نے اسپیکر لوک سبھا کو خط لکھا ہے ۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کی سرکار سے اقلیتوں اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کے ساتھ ناروا سلوک کی وضاحت طلب کی ہے ۔ بھارت کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے ہندوستان کو کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔

بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان سے  محفوظ انخلاء کے لئے جو اقدامات اٹھائے وہ بھی دنیا کے سامنے ہیں ۔ ہم نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کے ٹھوس ثبوت ایک ڈوزیر کے ذریعے عالمی برادری کے سامنے رکھے ۔ ہم نے بھارت کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ۔ دوہرے معیار سے تشویش میں اضافہ ہو گا۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم دیکھ رہی ہے کہ ان کی حکومت ذمہ دارانہ اور آزادانہ طریقے سے ان کی امنگوں کو اجاگر کر رہی ہے ۔ ہم جارحیت کے حامی نہیں، ہم ہندوستان سمیت اپنے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہاں ہیں لیکن بھارت کا رویہ تو دیکھیں؟ ۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سمندری و فضائی حدود کی خلاف ورزیاں سب کے سامنے ہیں ۔دوسری طرف پاکستان کا رویہ ہمیشہ مصالحانہ اور مدبرانہ رہا لیکن دفاع ہمارا حق ہے اور دفاع کے لئے پوری قوم تیار ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی میڈیا بریفنگ

واضح رہے کہ گذشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے بتایا کہ 9 مارچ کو بھارتی حدود سے ایک چیز پاکستان میں داخل ہوئی تھی ۔ پاکستان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار کی پریس کانفرنس

انہوں نے کہا کہ 9 مارچ کو شام 6 بج کر 43 منٹ پر پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے ایئر ڈیفنس آپریشن سینٹر نے ایک تیز رفتار چیز کو بھارتی علاقے کے اندر دیکھا ۔ ابتدائی طور پر وہ بھارتی حدود میں تھی  ۔ پھر اچانک راستہ بدل کر پاکستان کی حدود میں داخل ہوئی اور گرگئی ۔ جس سے شہری تنصیبات کو کچھ نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ پاکستان ایئر فورس نے اس چیز کی مکمل مانیٹرنگ کی ہے ۔ میاں چنوں میں کیا ہوا؟ بھارت کو وضاحت دینا ہو گی۔ہم اس واقعے پر کسی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں کررہے۔

میجرجنرل بابر افتخارنے کہا کہ جس وقت وہ چیز بھارت سے پاکستانی حدود میں داخل ہوئی وہ ممکنہ طور پر غیر مسلح تھی ۔ پاکستانی فضائی حدود میں یہ چیز 3 منٹ چند سیکنڈ موجود رہی تھی جبکہ نشاندہی اور رسپانس کا وقت بالکل درست رہا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی چیز کسی حساس جگہ پر نہیں گری ۔ بھارت کے زیر استعمال ٹیکنالوجی ناقص ہے ۔ اس پر انہیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اڑنے والی چیز گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس موقع پر میجر جنرل بابر افتخار کے ہمراہ ایئر وائس مارشل طارق ضیا نے بریفنگ دی کہ اس وقت صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ چیز ممکنہ طور پر ایک سپرسانک میزائل تھا ۔ زمین سے زمین تک مار کرنے والا میزائل تھا مگر غیرمسلح تھا۔

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں

میجر جنرل بابر افتخار نے ملک کی حالیہ سیاسی صورتحال کے سوال پر مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی امور پر بات نہیں کرنا چاہتے ۔ پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ میں نے اپنی گزشتہ پریس کانفرنس میں یہ بات واضح کردی تھی ۔ یہ ایسا ہی ہے اور ایسے ہی رہے گا ۔ میں درخواست کروں گا ۔ اس سلسلے میں غیرضروری افواہیں نہ پھیلائی جائیں اور نہ ہی غیر ضروری بحث کی جائے ۔ یہی ہم سب کے لیے اچھا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ جو لوگ مداخلت کی بات کرتے ہیں ۔ اس کا جواب بھی ان ہی سے مانگا جائے ۔ ان سے ثبوت مانگا جائے اور اگر کوئی بات کرتا ہے تو اس کے پاس اس کے ثبوت بھی ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔