مصری ٹی وی ڈرامہ النہایہ اور اسرائیلی بوکھلاہٹ

Spread the love

پوری دنیا یہ سن کر ششدر رہ گئی کہ ایک ٹی وی سیریل نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو کیسے ہلا کر رکھ دیا ہے؟ اور عرب کے ایک چھوٹے سے ملک نے کیسے اتنی بڑی گستاخی کر لی؟  پوری دنیا کے لوگ اس سوال کی کھوج میں لگ گئے تھے کہ آخر ہوا کیا ہے جو پورا یورپ اور امریکہ اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کر رہے ہیں اور مصر کو دھمکیاں دے رہے ہیں، اور وہ بھی محض ایک ڈرامہ بنانے پر۔

aur life
Spread the love

تحریر : علی جنید قاضی

گزشتہ برس اپریل کے اوائل میں دنیا بھر کے بڑے اخبارات میں ایک مصری ٹی وی ڈرامہ کا تذکرہ بڑے زور و شور سے ہوا۔ اسرائیل، امریکہ اور ان کے اتحادی ممالک نے مصری ڈرامہ پر کھل کر تنقید کی۔ اسرائیل نے تو مصری حکومت کو کھری کھری سنا دیں کہ آپ کو اسرائیل مصر امن معاہدے تک کا خیال نہ آیا جو کہ پچھلے 41 سال سے دونوں ممالک کے درمیان چل رہا ہے۔

پوری دنیا یہ سن کر ششدر رہ گئی کہ ایک ٹی وی سیریل نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو کیسے ہلا کر رکھ دیا ہے؟ اور عرب کے ایک چھوٹے سے ملک نے کیسے اتنی بڑی گستاخی کر لی؟  پوری دنیا کے لوگ اس سوال کی کھوج میں لگ گئے تھے کہ آخر ہوا کیا ہے جو پورا یورپ اور امریکہ اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کر رہے ہیں اور مصر کو دھمکیاں دے رہے ہیں، اور وہ بھی محض ایک ڈرامہ بنانے پر۔ اب آپ بھی پوری دنیا کی طرح سوچ رہے ہوں گے کہ مصر کے ایک معمولی ڈرامے میں کیا ایسی گستاخی ہو گئی جو پورا یورپ،امریکہ اور اسرائیل مصری حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے مصری حکومت سے باضابط احتجاج کیا اور مذکورہ ڈرامہ رکوانے کی درخواست بھی کی تھی۔ مصر میں ایک طویل عرصے کے بعد اسرائیل مخالف ڈرامہ نشر کیا گیا،جس نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔

ناظرین مصری ڈرامہ "النھایۃ” اردو ڈبنگ میں ملاحظہ فرمائیں گے بہت جلد صرف "اور لائف” پر

سب سے پہلے اس خبر کے پس منظر میں جاتے ہیں۔ گزشتہ برس 2020 میں مصر کی ایک ٹی وی سیریز ” النھایۃ” میں بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل جلد تباہ ہونے والا ہےاور اس کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادی ممالک کی تباہی کے بارے میں پیشنگوئی کی گئی، بس اس بات پر اسرائیل، امریکہ اور ان کے اتحادی سخت ناراض ہو گئے۔

چلیں جانتے ہیں کہ اس مصری ٹی وی سیریل "النھایۃ” نے ایسا کیا  کہہ کہ دیا ہے جو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ناگوار گزرا۔ "النھایۃ” ایک مصری ٹی وی سیریل ہے، اور مصر کے نیشنل ٹی وی چینل پر دکھایا جا رہا ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی ترکی کے ڈرامے ارتغرل کی طرح پرانے زمانے کی نہیں ہے بلکہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے دور کی ہے۔ یہ ڈرامہ سائنسی افسانوں کے مناظر پر مبنی ہے جس کے مناظر ہولی ووڈ کے معیار سے بلکل بھی کم نہیں ہے۔

اس ڈرامے کی کہانی ایک کمپیوٹر انجنیئر کی زندگی کے متعلق گھومتی ہے،جو کہ ایک ایسے ملک میں رہتا ہے جہاں بد امنی،دہشتگردی اور ظلم وبربریت کا راج ہے اور اس ملک پر ایسے  انسانوں کا قبضہ ہے جو بظاہر ہیں تو انسان، لیکن ان کے جسم کے بعض حصے جدید مشینیں ہیں۔یہ مشین نما انسانوں نے اس ملک میں افراتفری کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

ڈرامے کی پہلی قسط میں ایک استاد طلباء کی ایک کلاس کو "یروشلم کو آزاد کرانے کی جنگ” کے بارے میں بتاتا ہے۔ استاد کے مطابق یہ جنگ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے 100 سال سے بھی کم عرصے میں ہوئی تھی۔ استاد کے مطابق یہودی ریاست کا اہم ترین اور مرکزی دوست امریکہ تھا۔ کلاس روم میں امریکہ کا ایک ایسا نقشہ بھی دکھایا جاتا ہے جس میں امریکہ مختلف حصوں میں بکھرا ہوا نظر آتا ہے۔

ڈرامے کی پہلی قسط میں آگے چل کر استاد بتاتا ہے کہ عرب ممالک کو دشمنوں سے چھٹکارے کا جب وقت قریب آتا ہے تو ایک بڑی عالمی جنگ چھڑ جاتی ہے، جس کو بیت المقدس آزاد کروانے کی جنگ کا نام دیا گیا۔ استاد مزید بتاتا ہے کہ جنگ چھڑنے کے تھوڑے عرصے کے بعد ہی جنگ جلد ختم ہو جاتی ہے اور اسکا نتیجہ 100 سال قبل غیر قانونی طریقے سے عربوں کی سرزمین  پر قبضہ کر کے قائم ہونے والی یہودی ریاست کے مکمل تباہی ہونے پر نکلتا ہے۔ اس ڈرامے میں لکھاری نے عرب سرزمین پر غیر قانونی قبضہ کر کے یہودی ریاست کے قیام، اس قیام کے پیچھے محرکات اور پھر انکی ایک بڑی جنگ میں تباہی کے بارے میں بتایا ہے۔

مذکورہ ڈرامے کو مصر کے سینسر بورڈ نے مکمل طور پر منظور کیا ہے۔ اس ڈرامے کو بنانے والی کمپنی "سائنرجی” مصر کی سب سے بڑی پروڈکشن کمپنی ہے، جس کے موجودہ مصری حکومت سے مضبوط روابط ہیں۔سیریز کے لکھاری امر سمیر عاطف کا اپنی اس سیریز کے متعلق کہنا ہے کہ خطے میں حقیقی امن اور حقیقی استحکام اسرائیل کی تباہی میں مضمر ہے۔

پاکستان میں میڈیا کے افق پر نمودار ہونے والے ایک تفریحی  چینل "اور لائف” ہمیشہ سے منفرد طریقے سے اپنے ناظرین کی زندگیوں میں خوشیوں میں رنگ بھر رہا ہے، اور اس بار بھی "اور لائف” نے اپنے ناظرین کے لیے مذکورہ منفرد ڈرامہ "النھایۃ” کو اردو میں ڈب کر کے نشر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

ڈرامہ "النھایۃ” تمام مسلم امہ کے جذبات کی مکمل ترجمانی کرتا ہے اور تمام مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینوں کی اپنی سرزمین پر دوبارہ قبضے اور اسرائیلی ریاست کے خاتمے تک عرب میں امن نہیں آ سکتا۔قبلہ اول سے پاکستانیوں کی عقیدت اور فلسطینیوں سے پیار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،اسی لیے "اور لائف” جانتا ہے کہ دنیا میں پاکستانی عوام فلسطینی عوام سے سب سے زیادہ دلی لگاؤ رکھتی ہے اور اسرائیل ریاست کے وجود کو فلسطینیوں کی سرزمین پر ایک غیر قانونی قبضہ سمجھتی ہے۔

پاکستانی حکومت اور عوام کا ایک ہی مؤقف رہا ہے کہ فلسطین اسرائیل تنازعہ کا واحد حل فلسطینوں کی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ "اور لائف” پر نشر ہونے والا ڈرامہ "النھایۃ”  ضرور پاکستانیوں کے دل میں گھر کر جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔