شمالی کوریا کےجوہری تجربات کی جانب لوٹنے کا خدشہ

Spread the love

شمالی کوریا کی جاسوس سیٹلائیٹ بھیجنے کی تیاری

north korean leader
Spread the love

امریکی خفیہ ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا رواں برس جوہری اور بین البراعظمی میزائلوں کے تجربات دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ 2018 میں شمالی کوریا نے جس جوہری تجرباتی مقام کو بند کیا تھا، اب دوبارہ وہاں تعمیراتی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔

امریکی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ

امریکی ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل انٹیلی جنس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اب دوبارہ  وہاں تعمیراتی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں ۔ امریکی تجزیہ کاروں میں بھی یہ موضوع زیر بحث ہے ۔ تصدیق بھی کر رہے ہیں کہ  کمرشل سیٹلائٹ کی تصاویر میں  شمالی کوریا کے جوہری ٹیسٹنگ سائٹ پر 2018 میں بند ہونے کے بعد سے تعمیر کا کام دکھایا گیا ہے۔

امریکی ایجنسی کی سالانہ ورلڈ وائیڈ تھریٹ اسسمنٹ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن جوہری اور میزائل تحقیق کے شعبے میں مزید وسعت چاہتے ہیں۔

شمالی کوریا کے 9 میزائل تجربات

شمالی کوریا نے رواں سال میزائل تجربا ت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے ۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے رواں سال 9 تجربے کیے ۔ آخری میزائل تجربہ رواں ماہ اتوار کو کیا گیا ۔ جنوبی کوریا اور جاپان نے مذمت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ  کے دوران ہی مزید ایسے تجربات ہوسکتے ہیں۔

امریکا اور جنوبی کوریا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے مذاکرات کی معطلی کے بعد سے شمالی کوریا نے میزائل تجربات تیز تر کررکھے ہیں ۔ جن میں 2017 کے بعد کا سب سے بڑے ہتھیار ہائپرسونک میزائل کا تجربہ رواں سال  جنوری میں کیا ۔ یہ میزائل 1000 کلومیٹر دورسمندر میں ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

عالمی پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر امریکہ سمیت دیگر ملکوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔2021 میں امریکا نے بھی ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کیا جو ناکام ہو گیا جس کی تصدیق پینٹا گون نے کی تھی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکا سمیت 11 ارکان نے رواں سال کے دوران شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے9 میزائل تجربات کی مذمت کی ہے۔

امریکا کی جانب سے جاری اس بیان پر دستخط کرنے والے ملکوں میں البانیہ، آسٹریلیا، برازیل، فرانس، آئرلینڈ، جاپان، نیوزی لینڈ، ناروے، جنوبی کوریا اور برطانیہ شامل ہیں۔

رپورٹس کےمطابق 11ممالک نے شمالی کوریا کو مناسب جواب دینے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ناکامی پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ سب کا مؤقف ہے کہ پیانگ یانگ کے خلاف اقدامات نہ کرکے عالمی ادارے نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

واضح رہے کہ یہ مشترکہ مذمتی بیان شمالی کوریا کی جانب سے ایک اور بیلسٹک میزائل کے تجربہ کیے جانے کے 2 دن بعد جاری کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کی جاسوس سٹیلائٹ کی تیاری

رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا مستقبل قریب میں جاسوس سٹیلائٹ بھیجنے کی بھی تیاری کر رہا ہے ۔ آنے والے سالوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی کارروائیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے متعدد جاسوسی سیٹلائٹ لانچ کرے گا ۔ 2016 کے بعد مدار میں بھیجے جانے والا پہلا سیٹلائٹ ہوگا۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے نیشنل ایرو اسپیس ڈیویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن کا معائنہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ فوجی جاسوسی مصنوعی سیارہ سورج کے ہم آہنگ قطبی مدار میں ڈالے جائیں گے۔ یہ منصوبہ 5 سال میں مکمل ہو گا۔

جاسوس سیٹلائٹ بھیجنے کے مقاصد

رپورٹس کے مطابق فوجی جاسوسی سیٹلائٹ کو تیار کرنے اور چلانے کا مقصد کی مسلح افواج کو اس کے خلاف امریکی ، جنوبی کوریا، جاپان کے جارح افواج کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بارے میں حقیقی وقت کی معلومات فراہم کرنا ہے۔

ماہرین کو بھی ایسا لگتا ہے کہ شمالی کوریا ایک جاسوسی سیٹلائٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔ جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک کے ہتھیاروں کے تجربات کی طرح متنازعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔

شمالی کوریا  کے مطابق 27 فروری اور 5 مارچ کو سیٹلائٹ سسٹم کے دو تجربات کیے ہیں ۔ جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان تجربات میں بیلسٹک میزائلوں کے تجربات شامل تھے۔

امریکہ نے یہ بھی کہا کہ اس نے شمالی کوریا کے میزائل تجربات میں "نمایاں اضافہ” کے بعد اپنی بیلسٹک میزائل دفاعی تیاری کو بڑھا دیا ہے۔

کم جونگ اُن نے سیٹلائٹ کے کام کا دفاع نہ صرف معلومات اکٹھا کرنے بلکہ شمالی کوریا کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ، اپنے دفاع کے اپنے جائز حقوق کا استعمال کرنے اور قومی وقار کو بلند کرنے کے طور پر کیا۔

شمالی کوریا نے 2017 سے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نہیں کیا ۔ اس نے تجویز دی ہے کہ وہ ایسے تجربات دوبارہ شروع کر سکتا ہے کیونکہ امریکہ کے ساتھ بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔