پاکستانی سیاست میں ایک اور رنگ بدلتا دن

Spread the love

پاکستان کی سیاست بھی شہراقتدار کے موسم کی طرح رنگ بدلتے دیر نہیں لگاتی ۔خبر یں تو پیپلزپارٹی کے عوامی مارچ کی اسلام آباد تک پہنچنے والے قافلے کی تھیں۔یہ قافلہ 27مارچ کو کراچی سے سفر کا آغاز کر کے جنوبی پاور وسطیٰ پنجاب سے ہوتا9 روز میں راولپنڈی پہنچا، لیکن دسیویں او رآخری روز بھی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں عوامی لانگ مارچ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کےڈی چوک اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ایک اور بڑی خبر نے انٹری ڈال دی جس نے پاکستانی میڈیاکو ششدر کر دیا۔ پاکستانی عوام بھی اسکرینوں پر نظریں جمائے بیٹھ گئی۔

اپوزیشن کی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد

اپوزیشن نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لئے ریکوزیشن اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی۔ جس پرتحریک عدم اعتماد پر 86 ارکان کے دستخط ہیں۔

متحدہ اپوزیشن کے ارکان نے مشترکہ طورپر ریکوزیشن جمع کرانے پہنچے تھے۔

مسلم لیگ ن کا پارلیمانی اجلاس

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ جس میں تحریک عدم اعتماد کی قرارداد تیار کر لی گئی۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر دستخط دیئے۔ شاہد خاقان عباسی نے اجلاس میں ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آنے والی ہے، قومی اسمبلی اجلاس کی ریکیوزیشن جمع کرائی جائے گی، تمام ممبران اسلام آباد میں رہیں، کسی بھی وقت قومی اسمبلی اجلاس ہوسکتا ہے۔

آئینی طریقہ کار کیا ہوگا ؟

لیگل برانچ قومی اسمبلی کے مطابق اپوزیشن ریکوزیشن کے مطابق اسپیکر اب کسی بھی وقت اجلاس بلا سکتے ہیں۔ اجلاس بلانے کی حد 14 روز یعنی 22 مارچ بنتی ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن کی وفات پر پہلے دن کا اجلاس بغیر کارروائی ملتوی کیا جا سکتا ہے۔

آرٹیکل 95 کے تحت وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی کارروائی 7 دن کے اندر مکمل کرنا لازمی ہو گی۔ آئین کے تحت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو گی۔

ایوان میں پارٹی پوزیشن

پاكستان میں وفاقی حكومت كو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف كے 155 اراكین ہیں۔اتحادیوں میں مسلم لیگ ق 5، متحدہ قومی موومنٹ پاكستان 7، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 3، عوامی مسلم لیگ 1، بلوچستان عوامی پارٹی 5، جمہوری وطن پارٹی ایک ارکان كی حمایت حاصل ہے۔

اپوزیشن ارکان کی تعداد

قومی اسمبلی میں اپوزیشن كی نشستوں پر براجمان اراكین اسمبلی میں مسلم لیگ ن 84، پیپلز پارٹی 56، متحدہ مجلس عمل پاكستان 15، عوامی نیشنل پارٹی 1 ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 4 امیدوار ہیں۔

قومی اسمبلی میں 4 آزاد امیدوار ہیں۔ آزاد امیدواروں میں این اے 48 شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، این 50 سے علی وزیر۔ این اے 218 میر پور خاص سے علی نواز شاہ ۔ این اے 272 گوادر سے آزاد امیدوار میر محمد اسلم بھوتانی شامل ہیں۔

2آزاد امیدوار اپوزیشن کے حمایت یافتہ ہیں جبکہ 2 آزاد امیدواروں کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حکومت کے حمایت یافتہ ہیں۔

جماعت اسلامی کا ایک رکن قومی اسمبلی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا۔ تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دینا ہے یا نہیں۔

یوں 341 اراكین پر مشتمل قومی اسمبلی میں حكومتی جماعتوں سے تعلق ركھنے والے ایم این ایز كی تعداد 179 ہے، جبكہ 162 اراكین قومی اسمبلی اپوزیشن بینچز كا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ ہنگو سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی خیال زمان اورکزئی گزشتہ ماہ انتقال کر گئے تھے جس پر الیکشن آئندہ ماہ 10 اپریل کو ہو گا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے 172 ارکان کی حمایت ضروری ہے، اپوزیشن کے پاس 162 ارکان موجود ہیں اور اسے مزید 10 ارکان کی حمایت درکار ہے۔

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں وہ اپنے عہدے سے فارغ تصور ہوں گے جس کے بعد سپیکر فوری طور پر صدر کو تحریری طور پر تحریک عدم اعتماد کے نتیجے سے آگاہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

متحدہ اپوزیشن کے قائدین کی پریس کانفرنس

متحدہ اپوزیشن کے قائدین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف پر امید ہیں عدم اعتماد کامیاب ہو گی، 172 ارکان سے زیادہ ووٹ لیں گے۔

اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی۔مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے کہا کہ کل پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام(ف) اور مسلم لیگ(ن) اور ہمارے ساتھ منسلک اتحادی پارٹیوں کی طرف سے ہم نے مل کر مشاورت کی۔ اور ہم نے فیصلہ کیا کہ آج ہم تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروائیں گے۔

اپوزیشن کا خفیہ پلان

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو خفیہ رکھا تھا اور اس کی سب نے پاسداری کی، آج تمام جماعتوں نے ریکویزیشن اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپنے اراکین سے دستخط لیے اور آج ہم نے اس کو جمع کرا دیا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے عوام کی خواہشات اور دعاؤں کا عکاس ہے۔ہ م نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کیا ۔ آج ہم نے تحریک عدم اعتماد اسپیکر کے دفتر میں جمع ہو چکی ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی ضرورت کیوں پڑی

ان کا کہناتھا کہ پونے چار سال بعد اس تحریک عدم اعتماد کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ اس سلیکٹڈ حکومت اور وزیراعظم نے جو کچھ اس ملک کے ساتھ معاشی، سماجی، معاشرتی حوالے سے کردیا ہے اس کی نظیر پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔

مولانا فضل الرحمان کےحکومت پر وار

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم نے 2018 انتخابات کے ایک ہفتے کے اندر اندر ایک متفقہ مؤقف تیار کر لیا تھا کہ الیکشن ناجائز ہوا ہے۔ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے ۔اور ہم اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ۔اس کے بعد تحریک کا آغاز ہوا۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حکومت سے کوئی خوش فہمی نہیں تھی ۔ جب سے انہوں نے این جی اوز کے ذریعے سے مغربی تہذیب کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی تو ہم نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ پاکستانی نہیں ہے۔ یہ کسی بیرونی ایجنڈے کا ایجنٹ ہے۔

سلیکٹڈحکمرانوں کا چہرہ بے نقاب

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی ریلیوں اور مارچ سے ان سلیکٹڈ حکمرانوں کے اصل چہروں کو بے نقاب کیا ہے ۔ ہم قوم کے سامنے شرمندہ نہیں ہیں ۔ ہم نے جو کہا تھا وہ ایک ایک بات حقیقت بن کر عام آدمی کے سامنے موجود ہے ۔ اور ہر شخص یہ سمجھ رہا ہے کہ ملک انحطاط کی طرف گیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ جب 17-2018 کا بجٹ پیش کیا جا رہا تھا ۔جو تو شرح نمو ساڑھے 5 فیصد تھی اور اگلے سال سالانہ ترقی کا تخمینہ ساڑھے 6 فیصد لگایا گیا تھا لیکن یہ حکومت ہماری سالانہ ترقی کا تخمینہ صفر سے بھی نیچے لے آئی۔ ملک کی معیشت کمزور ہو گئی ۔اور معیشت کمزور ہونے کے بعد اب کوئی ملک آپ کو پیسہ دے کر ضائع کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

حکومت کے دن گنے جا چکے

مولانا فضل الرحمان بھی اپوزیشن جماعتوں کی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر خوش دکھائی دیئے۔انہوں نے کہا کہ اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں، ان کی بساط لپٹ چکی ہے ۔اور اب کوئی آئیڈیل باتیں ان کے لیے سودمند نہیں ہوسکتیں۔

اپوزیشن ملک کے مفاد میں متحد

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ موجودہ اپوزیشن ملک کے مفاد پر متحد ہے ۔ ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان کو مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔کسی ادارے سے بھی کوئی دشمنی نہیں لیکن ان کے فیصلوں اور رویوں سے اختلاف کا جب بھی موقع آیا ہے تو اس کو چھپایا بھی نہیں ہے۔ برملا اور بصداحترام اختلاف رائے کیا ہے۔

مفاہمت کے بادشاہ کا خطاب

اپوزیشن رہنماؤں کی پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب شروع کیا۔ تو سب کچھ لپیٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہم اپوزیشن کے دوستوں نے سوچا کہ اب نہیں تو کبھی نہیں ۔اور یہ اتنا خراب ہو جائے گا کہ اس کو کوئی بنا بھی نہیں سکے گا۔

پاکستان کو آزادی دلانے کا مشن

انہوں نے بتایا کہ اس لیے ہم سب مل کر بیٹھے، مشاورت کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ کوئی اکیلی جماعت پاکستان کو اس مشکل سے نہیں نکال سکتی۔ ہمیں مل کر ساتھ کام کرنا پڑے گا ۔اور ان دوستوں کو بھی دعوت دیں گے جو ہم سے دور ہیں۔ ہم سب مل کر پاکستان کو اس مشکل سے آزادی دلائیں گے۔

172سے زیادہ ووٹ لینے کا دعویٰ

ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ ہم 172ارکان کو ایوان میں لائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان سے 172 سے زائد ووٹ لیں گے ۔ صرف ہم نہیں بلکہ کئی دوست بیزار ہیں ۔ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی اپنی پارٹی اور ان کے اپنے دوست بیزار ہیں ۔ ان کو اپنے حلقوں میں جانا ہے تو وہ کیا جواب دیں گے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ جس طرح 1989 میں غلام اسحٰق خان اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باوجود تحریک عدم اعتماد کو کامیاب نہیں ہونے دیا تھا۔ وہ الگ بات کہ غلام اسحٰق خان نے اسمبلی تحلیل کردی تھی تاہم اب اس صدر کے پاس میں نے وہ طاقت ہی نہیں چھوڑی ہے کہ وہ کوئی اسمبلی تحلیل کر سکے۔

بلاول بھٹو زرداری کا جلسے سے خطاب

 پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ڈی چوک پر جلسے سے خطاب میں کہا کہ تحریک عدم اعتماد جیالوں کا جمہوری ہتھیار ہے ۔ جس کو استعمال کرتے ہوئے غیر جمہوری عمران خان کو گھر بھیجیں گے ۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان کا عمران خان پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے ۔ آج اپوزیشن کا اتحاد اور پیشرفت دیکھ کر وزیراعظم کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، ہرچیزمہنگی کر کے عوام کو نہ گھبرانے کا مشورہ دینے والے کے گھبرانے کا وقت شروع ہوگیا ہے۔

جلسے سے پی پی شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کو باہر نکالنے کا وقت آگیا ہے، مائنس سلیکٹڈ عوام کی حکومت لائیں گے اور سلیکٹڈ کو باہر نکالیں گے، اگر ہم نے اس کو رہنے دیا تو آنے والے ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے، بہت جلد میں اس کو باہر نکالوں گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔