وزیراعظم کی اپوزیشن پر تنقید، عدم اعتماد کا چیلنج

Spread the love

وزیراعظم کا میلسی جلسے سے خطاب

PM IMRAN KHAN JALSA
Spread the love

وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب صوبہ کا بل قومی اسمبلی میں لانے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے 500 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔ میلسی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کےلئے قومی اسمبلی میں آئینی لائیں گے۔ عوام اس پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اصل چہرہ بھی دیکھ لیں گے۔

کرپٹ سیاست دانوں کے خلاف اعلان جنگ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ  خون کے آخری قطرے تک کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی ۔30  سال سے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کو ایک بار پھر اپنے دور کی یاد آ رہی ہے ۔اس لئے انہیں عدم اعتماد کی جلدی ہے۔ یہ لوگ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد جو میں ان کے ساتھ کروں گا اس کیلئے تیار رہیں۔

مسلم لیگ ن پر لفظی گولہ باری

وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف نے مقصود چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں 375 کروڑ روپے ڈالے ۔ لندن میں بیٹھا نواز شریف بھگوڑا اور اس کی بیٹی فوج کو برا بھلا کہتی ہے ۔جبکہ شہباز شریف بوٹ پالش کرتا ہے، ۔ یہ سن لیں کہ یہ جنرل جیلانی کا زمانہ نہیں اب زمانہ بدل چکا ہے ۔

نوکروں کے اکاؤنٹ کا حساب دینا ہوگا

عمران خان نے واضح کر دیا کہ شہباز شریف کو مرضی کر لے اسے نوکروں کے اکاؤنٹ میں 16 ارب روپے آنے کا حساب دینا ہو گا ۔  اس کا بیٹا، داماد باہر بیٹھے ہیں اس کو خوف ہے کہ اگر یہ کیس آ گیا تو یہ جیل میں ہو گا ۔  اسی لئے اسے عدم اعتماد کی جلدی ہے۔

کوئی گیڈر لیڈر بن سکتا ہے

عمران خان نے کہا کہ کہ مسلم لیگ (ن) غور کر ے۔ کیا کبھی کوئی گیڈر لیڈر بن سکتا ہے جو ملک سے دم دبا کر بھاگا ہو۔ مشرف کے دور میں جب معاہدہ کر کے وطن سے بھاگا تو پہلے معاہدے سے انکار کر دیا۔ بعد میں سعودی شہزادے نے اس کا پول کھول دیا تب کہا کہ 10 سال نہیں 5 سال کا معاہدہ کیا۔

زرداری پر بھی لفظی گولہ باری

اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ  عدم ا عتماد لانے والی تیسری بیماری زرداری ہے ۔ بے نظیر کے اقتدار میں آتے ساتھ ہی اس کے حوالہ سے 10 فیصد کمیشن کی دھوم مچ گئی تھی۔ اس سے قبل یہ سینما کے ٹکٹ بلیک میں فروخت کرتا تھا،۔اس پر اور نواز شریف کی چوری پر بی بی سی نے فلمیں بنائیں۔مغرب اخبارات میں مضامین لکھے گئے۔ زرداری کو نواز شریف نے دو بار کرپشن پر جیل میں ڈا لا  ۔ جبکہ حدیبیہ پیپرز مل کا نواز شریف کے خلاف کیس زرداری نے بنایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب زرداری نے سرے محل کی ملکیت سے انکار کیا تو بعد میں پاکستان نے اس کا کیس جیتا یہ بک گیا  ۔ اور مشرف نے این آر او دیا تو اس کے پیسے اور سوئٹزر لینڈ میں پڑے 6 کروڑ ڈالر ہضم کر دیا۔ یہ لوگ ملک کے حالات برے دکھا کر عدم اعتماد کی باتیں کر رہے ہیں۔

عدم اعتماد لانے والا چوتھا کردار

ان کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد لانے والا چوتھا کردار فضل الرحمان ہے  ۔ جسے میں کبھی مولانا نہیں کہوں گا۔ یہ ڈیزل کے پرمٹ بیچ کر پیسے بناتا رہا،۔ دھرنے میں مدرسے کے بچے بلیک میل کرنے کیلئے اسلام آباد لے آیا۔ ان بچوں سے جب پوچھا گیا کہ وہ کیوں آیا تو انہوں نے کہا کہ عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے ۔  فضل الرحمان بتائے کہ ان ڈاکوؤں کے ٹولے کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو پاکستان میں سازش کرنے کی ضرورت کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کو مفت مشورہ

وزیراعظم نے کہا کہ میری اور فضل الرحمان کی عمر برابر ہے ۔اس عمر میں ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہئے۔ کیا فضل الرحمان کو دین کے نام پر پیسے بناتے ہوئے خوف خدا نہیں ہے۔ مدارس کے بچے ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں ا نہیں بلیک میل اور سیاست کیلئے استعمال نہ کریں ۔ اللہ نے اس فعل پر انہیں معاف نہیں کرنا۔

چورٹولہ مسلط ہوا تو ملک پیچھے چلا گیا

عمران خان نے کہا کہ برصغیر میں پاکستان کی مثالیں دی جاتی تھیں تاہم یہ چوروں کا ٹولہ جب مسلط ہوا تو ہم پیچھے چلے گئے ۔ یہ امیرترین اور قوم مقروض ہو گئی ۔ اچھے برے کی تمیز کے بغیر قومی ترقی نہیں کر سکتی ۔  ریاست مدینہ میں اخلاق اور انصاف پر مبنی حکمرانی کی وجہ سے وہ دنیا کے حکمران بنے ۔ باریاں لینے والے یہ کرپٹ لوگ احتساب کرنے والے کے خلاف کھڑے ہیں۔

ا نہوں نے کہا کہ اچھائی کا ساتھ دینے اور برائی کے خلاف جہاد کرنے والے معاشرے ترقی کرتے ہیں۔قانون کی بالادستی کی حامل قومیں ہی ترقی کرتی ہیں ۔ ہندوستان کے مقابلہ میں پاکستان 90 کی دہائی میں آگے تھا۔

میڈیا اچھائی کا ساتھ دے

انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کردار واچ ڈاگ کا ہے ۔ مغرب میں کرپٹ فرد تقریر نہیں کرسکتا ۔  میڈیا میں جو لوگ ڈاکوؤں  کی حمایت کر رہے ہیں ۔  ان سے سوال ہے کہ وہ فضل الرحمان ، بھگوڑا نواز شریف ، زرداری اور شہباز شریف بنانا چاہتے ہیں کوئی بھی ایسا نہیں چاہے گا۔ انہیں اچھائی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔

ملک کا قرضہ

وزیراعظم نے کہا کہ  2008ء سے 2018ء تک ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے بڑھ کر 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، ٹیکس کی آدھی آمدن ان قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں لگ جاتی ہے۔

دنیا کی نسبت پاکستان میں مہنگائی کم ہے

انہوں نے کہا کہ دنیا میں اس مہنگائی کے باوجود پاکستان میں اس وقت 2008ء سے 2013ء کے مقابلہ میں مہنگائی کم ہے۔ حکومت ہم نے اس کے باوجود عوام پر کم بوجھ ڈالا۔ سب سے زیادہ ٹیکس جمع کیا اور اسی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل پر 10 روپے اور بجلی پر 5 روپے فی یونٹ کمی کی۔ قوم سے وعدہ ہے کہ وہ جتنا زیادہ ٹیکس دے گی اتنا سرمایہ عوام پر بوجھ کم کرنے کیلئے لگائیں گے۔

ٹیکس  کاپیسہ،عوام کے لئے ریلیف

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  قوم مزید ٹیکس دے۔ تو ان سے وعدہ ہے کہ یہ ٹیکس ان کو ریلیف دینے پر خرچ کریں گے۔پہلے بھی ٹیکس کی ریکارڈ وصولی پر عوام کو دنیا میں تیزی سے ہونے والی مہنگائی کے مقابلہ میں ریلیف دیاہے۔ لندن میں بیٹھے بھگوڑے سے رقم پاکستان واپس آئے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آدھی کر دیں گے۔

کسانوں کی خوشحالی پر فخر

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے دور میں کسانوں کو سب سے زیادہ پیسہ آیا ۔  مکئی، گندم، کپاس کی فی ایکڑ پیداوار پر نمایاں منافع حاصل ہوا ۔ دنیا میں یوریا کی قلت کے باوجود ہم نے اپنے کاشتکار کو یوریا کی دستیابی کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک لاکھ ٹن یوریا چین سے منگوا رہے ہیں  جو ایک ہفتہ میں پہنچ جائے گی ۔ ہم نے کھاد پر 132 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔

کسان خوشحال تو پاکستان ترقی کرے گا

وزیراعظم  عمران خان کا کہنا تھا کہ  اگر کسان خوشحال ہو گا تو پاکستان ترقی کرے گا ۔ جب ہمیں اقتدار ملا تو اس وقت ملک دیوالیہ تھا ۔  ہم نے اس کو سنبھالا دیا پھر کورونا آ گیا ۔  اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ پاکستان 190 ممالک میں سے ان 3ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کورونا سے بچائو کیلئے بہترین منصوبہ بندی کی۔ پھر دنیا کی تاریخ میں مہنگائی آئی تاہم ہر آزمائش سے پاکستان سرخرو ہو کر نکلا۔

مریم نواز کا وزیراعظم کی تقریر پر ردعمل

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اقتدار ہاتھ سے جاتا دیکھ کر انسان کس طرح ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے۔ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے لکھا کہ اقتدار ہاتھ سے جاتا دیکھ کر انسان کس طرح ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے۔اس کو نہ اخلاقی اقدار نہ دشمنی کا ظرف ہوتا ہے ۔  اور نہ ہی اپنے عہدے کی عزت کا کوئی پاس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے اس نے سب کو گالیاں دیں اور پھر کہا ریاست مدینہ کی بنیاد اخلاقیات تھیں۔  اللّہ پاکستان کو آپ کے شر سے محفوظ رکھے۔

شہبازگل کا مریم نواز کو جواب

ترجمان وزیراعظم ومعاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گِل نے مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیا۔انہوں نے کہا کہ  مریم صفدر کا اخلاقی اقدار کا درس دینا بھونڈا مذاق ہے۔ ویڈیوز اور بلیک میلنگ کی سیاست کرنے والے اخلاقی اقدار کیا جانیں ۔  کلیبری کوئین چور اور کرپٹ والد کی سیاست بچاؤ مہم پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  جن کے ہوش اڑے ہیں وہ لندن مفرور ہیں۔پلیٹ لیٹس اور کمردرد کے بہانے بنانے والے ڈرے ہوئے ہیں۔ مریم صفدر کا اخلاقی اقدار کا درس دینا بھونڈا مذاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار کیلئے سیاست کرنے والے منت سماجت اور پاؤں پڑرہے ہیں ۔ عمران خان اقتدار کی خاطر نہیں۔ عوامی خدمت کیلئے سیاست کر رہے ہیں ۔ ‏‎ عمران خان نےکرپٹ مافیا،اس کے مہرے اور حصہ داروں کو بے نقاب کیا ہے ۔بیرونی قوتوں سے اقتدار کی بھیک مانگنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔

One thought on “وزیراعظم کی اپوزیشن پر تنقید، عدم اعتماد کا چیلنج

  1. […] عمران خان نے میلسی میں جلسہ عام سے خطاب میں روس اور یوکرین جنگ کے معاملے پر یورپی یونین کے […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔