سسپنس ڈرامہ سیریز "سوچا نہ تھا”

Spread the love

لرزہ خیز اور تجسس سے بھرپور کہانیوں سے پردہ اٹھانے، جرائم کو بے نقاب کرنے لیے "اور لائف” لا رہا ہے ڈرامہ سیریز "سوچا نہ تھا” 

aur life
Spread the love

تحریر : روزینہ  علی

روزینہ علی کا تعلق شعبہ صحافت سے ہے۔ اور آج کل وہ بحیثیت رپورٹر ایک پاکستانی نشریاتی ادارے سے منسلک ہیں

عنوان سے آپ قارئین کے ذہنوں میں کئی سوالات اٹھ رہے ہونگے کہ آخر کیا نہیں سوچا تھا؟ ایک تجسس کی کیفیت آپ پر طاری ہوگی، ہر وہ بات جس سے تجسس پیدا ہو خیالات کی لڑیاں الجھنے لگیں، الفاظ اور سوچ میں کشمکش کا عنصر حائل ہو اسکی کی تہہ تک ہم لازمی پہنچنا چاہتے ہیں معاملے کی ٹوہ میں لگ جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ آخر ہوا کیسے؟ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ کس نے کیا؟ کب کیا؟ وغیرہ وغیرہ بعض دفعہ ہم معاملے کی تہہ تک پہنچتے پہنچتے الجھنا شروع ہو جاتے ہیں، کبھی خود سے کبھی لوگوں سے اور کبھی ان گزرے لمحات سے جسکے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں ہوتا،یہ تجسس کبھی کبھی خوف کی صورت اختیار کر لیتا ہے، ہلکی سی آہٹ بھی دل پر بھاری محسوس ہونے لگتی ہے، اور کبھی تو کسی اپنے کا ساتھ بھی کسی خطرے کا احساس دلانے لگتا ہے،رات کی تاریکی دنیا کا بھیانک اندھیرا حواسوں پر محسوس ہونے لگتا ہے ،دن کا اجالا بھی گھٹن بڑھانے لگتا ہے مگر کیوں؟

صرف ارد گرد کے کے حالات ہی نہیں، ڈرامے، فلمیں، تھیٹر، موسیقی سب ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے ہم خوش ہوں تو بہت ڈسکو میوزک سنتے ہیں اور جب غمگین ہوں تو ایسی موسیقی سننا پسند کرتے ہیں جو ہمارے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہوں یا پھر کم از کم ایسی فلم یا ڈرامہ دیکھتے ہیں جس سے اپنے آپ کو ہیجانی کیفیت سے نکال سکیں تو سب ہی چیزیں اثر ضرور کرتی ہیں ہم پر۔ لیکن حقیقی کہانیاں تو ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں، ہمارے معاشرے میں روز کئی ایسے حالات و واقعات سننے کو ملتے ہیں جن میں  دل دہلا دینے والی کہانیاں چھپی ہوتی ہیں، موجودہ حالات و واقعات خوفناک بادلوں کے سائے کی طرح خیالات پر منڈلانے لگتے ہیں، کسی کی کہانی کسی کا واقعہ سنتے ہی خود کو اس جگہ رکھ کر سوچنے سے بھی روح کانپ سی جاتی ہے،، معاشرے کی ایسی ہی لرزہ خیز تجسس سے بھرپور کہانیوں سے پردہ اٹھانے کے لیے جرائم کو بے نقاب کرنے لیے ہی "اور لائف” ڈرامہ سیریز لا رہا ہے "سوچا نہ تھا”.  خوف تجسس اور جرائم پر مبنی یہ منفرد کہانیاں بھی دیکھنے والے دیکھ کر ضرور کہیں گے کہ آج سے پہلے یہ کہانیاں نہیں دیکھیں، سوچا نہ تھا کہ ایسا بھی ہوتا ہے، یہ منفرد سچی اور حقیقی کہانیوں پر مبنی سیریز ہے

ڈرامہ حاضرین کا تجسس ہر لمحہ بڑھے گا، ہر اگلا منظر غیر متوقع ہو گا

جرائم پر مبنی کہانیاں ہی کیوں پیش کی جا رہی ہیں، اور ایسی سیریز تو بہت سے دیگر چینل پر بھی چلتی ہیں، ایسے کئی سوالات بہت سے لوگوں کے ذہن میں ابھر رہے ہیں، سوچتے ہیں اس الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ کیا ہوگا مگر بہت سی ایسی کہانیاں بھی ہیں جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آئیں یا پھر وہ ریٹنگ کے لیے تو ہوتی ہیں حقیقت سے قریب نہیں، اس سیریز کا مقصد معاشرے کو حقیقت سے قریب کر کے شعور کے راستے پر لے جانا ہے، گرد و نواح میں پیش آنے والے واقعات کو محفوظ کر کے اگلی نسلوں تک پہنچانا بھی مقصد ہے تاکہ نصیحت آموز  سبق حاصل کیا جا سکے.

جرائم کی ان کہانیوں میں شہد کی طرح میٹھے احساسات و جذبات کی آڑ میں چھپے دل دہلا دینے والے واقعات دیکھنے کو ملیں گے، کچھ کہانیوں میں قوس قزح کی طرح عشق و محبت کے رنگ بھی ملیں گے، چاکلیٹ کیک کی سی میٹھی میٹھی سی خوشیوں کو کیسے قتل کیا جاتا ہے جب آپ دیکھیں گے تو پھر یہی سوچیں گے کہ "سوچا نہ تھا”.. اگر مگر کیوں کیسے سب سے پردے اٹھتے جائیں گے، عوام کے لیے ابھی تک ڈرامہ انڈسٹری میں پیش کی جانے والی تمام سیریز سے یہ سیریز ذرا ہٹ کے ہے، یعنی مختصر دورانیے کی کہانیوں میں زندگی کے بڑے راز اور اسباق ملیں گے۔

شوبز میں فلم، ڈرامہ  اورمختلف سیریز بھی معاشرے میں ایک بڑے استاد کا کام کرتی ہیں، سبق آموز کہانیاں بھی اصلاح کا بہترین ذریعہ بنتی ہیں، ڈرامہ اورفلم دیکھنے والوں میں چھوٹے بڑے سب شائقین محظوظ ہوتے ہیں اس لیے ” اور لائف” نے بھی سوچا نہ تھا کہ وہ ان اقدام کے ذریعے سماج کو اخلاقی زوال سے بچانے میں کچھ کردار ادا کر سکیں گے۔

اس سیریز کے ہدایتکار اور مصنف روحیل خان کسی تعارف کے محتاج نہیں، اپنے 20 سالہ کیریئر میں بطور ہدایتکار اور پروڈیوسر کئی منفرد سیریز، ریئلیٹی گیم شوز میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا چکے ہیں، روحیل خان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں بہترین کہانیاں حقیقت سے قریب تر ہوں تاکہ دیکھنے والے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔

اس سیریز میں شامل خان، لیلیٰ زبیری، ارباز خان اور دیگر بہت سے ایسے ہی بہترین کردار آپکو نظر آئیں گے، بس زیادہ نہیں تھوڑا سا انتظار آپ جلد ہی ” سوچا نہ تھا دیکھیں گے” اور لائف پر”۔

One thought on “سسپنس ڈرامہ سیریز "سوچا نہ تھا”

  1. […] دنیا یہ سن کر ششدر رہ گئی کہ ایک ٹی وی سیریل نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو کیسے ہلا کر رکھ […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔