پاکستان: آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 3 سال

Spread the love

پاکستان کی جانب سے بھارت کے لئے سرپرائزڈے

آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 3 سال
Spread the love

آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 3سال مکمل ہو گئے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ آج کے دن مسلح افواج نے بھارتی ناکام مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا ۔ پاکستان ایئر فورس نے 27 فروری کو "آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ ” کے دوران بھارتی فضائیہ کے 2 طیارے مار گرائے۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ پاک بحریہ کی جانب سے سمندر میں بھارتی آبدوز کا سراغ لگایا گیا ۔ پاک فوج کی طرف سے ایل اوسی پر شاندار ردعمل دیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ مادروطن کی حفاظت کے لیے آج کا دن پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ اسلحہ اور تعداد میں زیادہ ہونا نہیں صرف قومی عزم اور پیشہ وارانہ تیاری سےہی کامیابی ملتی ہے ۔

پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ کا بیان

ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ہر قیمت پر تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے ۔ آج  بھارت کے غلط تصور شدہ فوجی فضائی حملوں کے خلاف پاکستان کے مثالی ردعمل کو تین برس مکمل ہو گئے ہیں ۔

عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی سراسر خلاف ورزی کی ۔ اور 26 فروری 2019 کو پاکستانی حدود میں فضائی حملہ کیا ۔ پاکستان کی خودمختاری کو پامال کرنے کی بھارت کی ناکام کوشش کو ہماری بہادر مسلح افواج نے تیزی سے ناکام بنا دیا۔

دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف عزم کے ساتھ اپنی خودمختاری کا تحفظ کیا بلکہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا ۔  27 فروری 2019 کو ایک بار پھر دو بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ۔ ان دونوں طیاروں کو پاک فضائیہ کے طیاروں نے مار گرایا۔

پاکستان کا جذبہ خیرسگالی

انہوں نے کہا کہ گرائے گئے بھارتی طیارے کے پائلٹ کو بعد میں جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھارت واپس کر دیا گیا۔پاکستان علاقائی امن و استحکام کا حامی ہے ۔

ترجمان کابیان میں مزید کہنا تھا کہ بھارت کو فروری 2019 میں اپنے طرز عمل کے نتائج کو ذہن میں رکھنا چاہیے ۔ اور مستقبل میں ایسی کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنا چاہیے ۔ پاکستانی حکومت، مسلح افواج اور عوام کسی بھی جارحیت کے خلاف ملک کی خودمختاری اور تحفظ کے اپنے عزم پر ثابت قدم رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں ۔ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر تنازعہ کے پرامن حل کے لیے اپنے عزم پر زور دیتے ہیں ۔

افواج پاکستان کو خراج تحسین

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا دفاع وطن کے لئے افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ 27 فروری 2019 پاکستان کی تاریخ کا ناقابل فراموش لیکن قابل فخر دن ہے ۔ آج کے دن پاکستان نے دنیا کو پیغام دیا کہ ہم سے جو ٹکرائے گا ، پاش پاش ہوجائے گا ۔

شہبازشریف نے کہا کہ بالاکوٹ کی بھارتی جارحیت نے جنوبی ایشیاءاور دنیا کے امن وخطرے سے دوچار کیا  ۔ نپی تلی موثر جوابی کارروائی سے پاکستان نے ذمہ دار، خودمختار ملک ہونے اور اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ۔ پاکستان کی فضائیہ اور اپنے شاہینوں کو سلام پیش اور خراج تحسین کرتے ہیں جنہوں نے دشمن کے دانت کھٹے کئے ۔

قوم اپنے شیروں کے ساتھ

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ افواج پاکستان شیر دلیر اورجذبہ ایمانی سے لیس ہیں، پوری قوم اپنے شیروں کے ساتھ ہے ۔  پاکستان کی سلامتی، ترقی، دفاع اور ہر بیرونی جارحیت کے خلاف پورا پاکستان ایک تھا، ہے اور رہے گا ۔ آج کا دن ہمارے لئے سبق ہے کہ ہم اپنی پوری تیاری رکھیں،مضبوط معیشت، دفاع اور قومی یک جہتی ہمارے دفاعی حصار ہیں ۔

26،27فروری کی درمیان شب کاواقعہ؟

25 اور 26 فروری کی درمیانی شب، 2 بج کر 54 منٹ پر بھارت نے اقوامِ متحدہ کے آرٹیکل 2 (4) کی خلاف ورزی کی۔ اور پاکستان پر ایک فضائی حملہ کرنے کی ناکام کوشش کر ڈالی ۔ تاہم پاکستانی شاہینوں کی فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کی۔ بزدل دشمن خوفزدہ ہو کر جنگی جہاز بوکھلاہٹ میں اپنا پے لوڈ گرا کر بھاگ گئے۔

پاکستانی قیادت نے ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور پختہ کار ریاست کے طور پر دُنیا کو فی الفور آگاہ کیا ۔ اور 4 بج کر 42 منٹ پر تمام حقائق دُنیا کے سامنے رکھ دیئے۔

26 فروری 2019 کو، صبح 6 بج کر 36 منٹ پر پاکستان نے اس علاقے اور بھارتی رُوٹ کی نشاندہی کردی ۔ اور کسی بھی قسم کا نقصان نہ ہونے کے واضح ثبوت دکھادیئے۔

بھارت نے پہلے ایک مدرسے کو مکمل تباہ کرنے، اور پھر 300 سے 350 پاکستانیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ لیکن جب پاکستان نے دُنیا کے سامنے ٹھوس ثبوت رکھے ۔ بھارتی وزارت خارجہ کے تمام بیانات کا جھوٹ کھل گیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کارروائی میں کوئی پاکستانی شہید نہیں ہوا۔

پاکستان کا بھارت کے لئے سرپرائز

3سال قبل 27 فروری 2019 کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارت کا گھمنڈ خاک میں ملاتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے دو جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ جبکہ پائیلٹ ابھی نندن گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ اور پھر  جذبہ خیر سگالی کے تحت اسے چائے پلا کر رخصت کیا گیا۔

بھارتی ونگ کمانڈر کی وردی، جہاز کی باقیات اور چائے کا کپ پی اے ایف میوزیم کراچی کی آپریشن سوئفٹ ری ٹورٹ گیلری میں محفوظ ہیں ۔ پی اے ایف میوزیم کراچی میں رکھے سرپرائز بھارت کو غلط فہمی کے آسمان سے گرانے والے زمینی حقائق بتا رہے ہیں۔

گیلری کی ایک دیوار پر ابھینندن کے طیارے کو مارگرانے والے ونگ کمانڈر نعمان علی خان تصاویر آویزاں ہیں ۔ بھارت کے دوسرے جہاز کو مارگرانے والے سکوارڈن لیڈر حسن صدیقی ۔ بھارت کے خلاف اہم مشن میں شامل گروپ کیپٹن فہیم خان کی تصاویر آویزاں ہیں۔

ستائس فروری کو پاک فضائیہ کی جرات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جنگوں کے دوران پاکستان ائیرفورس کی جانب سے دشمن ملک کے ہوابازوں کوناکوں چنے چبوانے ۔ انہیں کاری ضرب لگانے کی داستانیں آج بھی موجود ہیں۔

فروری 2019 کی پاک بھارت کشیدگی

برسوں سے روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان فروری 2019 میں کشیدگی میں شدت اس وقت آئی ۔ جب 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے شہر پلوامہ میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے میں 44 بھارتی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے ۔ بھارت نے ہمیشہ کی طرح ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا ۔ پاکستان نے انتہائی واضح الفاظ میں ان الزامات کی تردید کی۔

پلوامہ حملے کے بعد سے ہی بھارتی حکومت کی جانب سے مسلسل غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ انہی غیر ذمہ دارانہ رویوں کو بنیاد بناتے ہوئے بھارتی طیاروں نے پاکستانی حدود میں گھسنے کی ناکام کوشش کی تھی۔

پاک فضائیہ کے اہداف

27 فروری کی صبح پاک فضائیہ کے طیاروں نے لائن آف کنٹرول پر مقبوضہ کشمیر میں 6 ٹارگٹ کو انگیج کیا ۔ فضائیہ نے اپنی حدود میں رہ کر ہدف مقرر کیے ۔ پائلٹس نے ٹارگٹ کو لاک کیا لیکن ٹارگٹ پر نہیں بلکہ محفوظ فاصلے اور کھلی جگہ پر اسٹرائیک کی ۔ جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ پاکستان کے پاس جوابی صلاحیت موجود ہے ۔ لیکن پاکستان کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتا جو اسے غیر ذمہ دار ثابت کرے۔

جب پاک فضائیہ نے ہدف لے لیے تو اس کے بعد بھارتی فضائیہ کے 2 جہاز ایک بار پھر ایل او سی کی خلاف ورزی کرکے پاکستان کی طرف آئے ۔ اس بار پاک فضائیہ تیار تھی جس نے دونوں بھارتی طیاروں کو مار گرایا ۔ ایک جہاز آزاد کشمیر جبکہ دوسرا مقبوضہ کشمیر کی حدود میں گرا۔

پاکستان حدود میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ کو پاکستان نے حراست میں لیا ۔ جس کا نام ونگ کمانڈر ابھی نندن تھا جسے بعد ازاں پروقار طریقے سے واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا۔

بھارتی طیاروں نے 27 فروری 2019 کو پاکستانی فضائی حدود کی پہلی مرتبہ خلاف ورزی نہیں کی ۔ اس سے ایک روز قبل بھی وہ ایسا کرچکے تھے ۔ تاہم پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی کی وجہ سے وہ واپس لوٹ گئے تھے۔

بھارت کا الزام کیا تھا ؟

بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پلوامہ حملہ کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی جانب سے کروایا گیا ۔ ساتھ ہی انہوں نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا تھا ۔ بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے اس معاملے کو پاکستان سے جوڑتے ہوئے 1995 میں دیا گیا ۔ پسندیدہ تجارتی ملک‘ کا درجہ واپس لے لیا تھا۔

17 فروری 2019 کو بی جے پی حکومت نے بھارت میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 4 کی نشریات پر پابندی عائد کردی تھی ۔ یہی نہیں بلکہ بھارتی درآمدکنندگان نے پاکستانی سیمنٹ کی درآمد روک دی تھی ۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کی سیمنٹ فیکٹریوں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان کا بھارتی الزامات پرمثبت جواب

بھارتی حکام کی الزام تراشیوں کے جواب میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے مثبت جواب دیا ۔اور بھارت کو ’قابلِ عمل معلومات‘ فراہم کرنے کی صورت میں تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی ۔ خبردار بھی کیا تھا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی جارحیت کی ۔ پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔

بھارت نے تحقیقات کی پیشکش کو نہ صرف مسترد کیا تھا بلکہ وزیراعظم عمران خان کے بیان کو حقیقت کے برعکس قرار دیا تھا۔

پلوامہ واقعے کے بعد جہاں دونوں ممالک میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا ۔ تو وہیں 26 فروری کو بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا ۔ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی حدود میں در اندازی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مبینہ کیمپ تباہ کردیا۔

بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس کی فضائیہ نے دہشت گردوں کے مبینہ کیمپ پر حملے میں 350 افراد کو ہلاک کیا ۔ تاہم بعد ازاں بھارتی حکومت کی جانب سے اس دعوے کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے تھے ۔ اور اسے اپنے ہی ملک میں ہزیمت اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاک فوج کے ترجمان کی وضاحت

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا تھا کہ مظفرآباد میں بھارتی طیاروں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کی ۔ پاک فضائیہ کے بروقت ردعمل کے باعث بھارتی طیارے نے عجلت میں بالاکوٹ کے قریب پے لوڈ گراتے ہوئے فرار ہوگئے۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا ۔ اس اجلاس بھارتی دعوؤں کو مسترد کرتے پاکستان نے واضح کیا تھا کہ مناسب وقت اور جگہ پر بھارتی مہم جوئی کا جواب دیا جائے گا۔

اس اہم اجلاس کے فوری بعد وزیر خارجہ شاہ محمود ، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ اسد عمر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی۔ جس میں بھی شاہ محمود قریشی نے بھارتی عمل کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اس کا جواب دے گا۔

اس کے بعد پاک فوج کے ترجمان نے بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارت کو خبردار کیا تھا ۔ اب وہ پاکستان کے جواب کا انتظار کرے جو انہیں حیران کردے گا۔ ہمارا ردِعمل بہت مختلف ہوگا، اس کے لیے جگہ اور وقت کا تعین ہم خود کریں گے۔

ابھی نندن کے لئے ایوارڈ

واضح رہے کہ 2019 میں بھارتی پائلٹ ابھی نند نے پاکستان مار کھائی ۔ بھارتی طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کو مشن میں ناکامی کے باوجود بھارت کے تیسرے سب سے بڑے فوجی اعزاز سے نواز دیا گیا۔

پاکستان نے نئی دہلی حکومت کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن کو تیسرے بڑے فوجی اعزاز دینے پر کہا ۔ بھارتی جعلسازی اور فرضی قصے کہانیوں کی ایک بہترین مثال ہے جس کا مقصد اپنے عوام کو خوش کرنا ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر بھارتی دعویٰ مسترد کیا تھا کہ ابھی نندن نے فروری 2019 میں آزاد جموں کشمیر میں گرفتاری سے قبل ایک پاکستانی جنگی طیارہ ایف 16مار گرایا تھا۔

بھاتی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق ابھی نندن نے ویر چکرا وصول کیا ۔ یہ بھارتی فوج کا تیسرا اعلیٰ سطح کا اعزاز ہے، جبکہ پہلے نمبر پر پرم ویر چکرا اور دوسرے نمبر پر ماہا چکرا ہے۔

ویر چکر پرم ویر چکر اور مہا چکرا کے بعد جنگ کے وقت بھارت کا تیسرا سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔