یوکرین حملہ،مغرب کی روس پر پابندیاں

Spread the love

یوکرین حملے پرعالمی ردعمل

یوکرین پرحملہ
Spread the love

عالمی رہنماؤں نے کہا کہ یوکرین پر حملے کی روس کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ انہوں نے ماسکو سے فوراً جنگ روک دینے کی اپیل کی ہے۔

امریکا

امریکی صدر جو بائیڈن نے روس پر مزید سخت پابندیاں لگانے کا اعلان کردیا ہے۔ امریکا نے جرمنی روسی قدرتی گیس پائپ لائن نورڈ اسٹریم 2 کو چلانے والی کمپنی پر پابندیاں عائد کر دی ہے ۔ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا نتیجہ اس پروجیکٹ کا مکمل خاتمہ ہے۔ اب اس پائپ لائن کی حیثیت سمندر کی تہہ میں ایک اسٹیل کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں رہی۔

برطانیہ

برطانیہ نے روس پر پابندیاں عائد کر دیں۔ وزیر اعظم بورس جانسن نےروس کے اہم بینکوں کے برطانیہ میں اثاثے منجمد کر دیئے ہیں۔  اگلے ہفتے سے ایسی روسی کمپنیوں پر بھی پابندی لگانے کی قانون سازی کریں گے۔ جو برطانیہ کی مارکیٹ سے پیسہ اکٹھا کرتی ہیں۔ برطانیہ میں روسی شہریوں کے پیسے جمع کروانے پر حد کا بھی تعین کیا جائےگا۔

بورس جانسن نے کہا کہ روس کی فضائی کمپنی ایروفلوٹ پر بھی برطانیہ میں پابندی عائد کر دی جائے گی ۔اور روس کو فروخت کی جانے والی ٹیکنالوجی کے لیے ’سخت برآمدی ضابطے‘ ہوں گے۔ اسی طرح کی پابندیاں بیلاروس پر بھی عائد ہوں گی۔

یورپی یونین

یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے روس اور یوکرین سمیت اطراف میں سویلین پروازوں پر 90 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ یورپی یونین کے ممالک سمیت تھرڈ کنٹری کی ایئر لائنز پروازوں پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

سیفٹی بلیٹن نے بتایا کہ متعلقہ ایئر اسپیس میں جاری جنگ میں راکٹ اور میزائل سے طیاروں کو خطرہ ہے۔ ایاسا کی پابندی کا اطلاق 24 فروری تا 24 مئی کے لیے ہوگا۔

ڈچ وزیر اعظم مارک رؤٹے نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین کی طرف سے روس پر لگائی گئی پابندیوں کا ہدف روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور ان کی انتظامیہ ہونی چاہیے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک رؤٹے نے کہا کہ یہ تنازعہ روسی عوام نہیں بلکہ روس کی حکومت کے ساتھ ہے اس لیے پوٹن اور ان کی انتظامیہ کو پابندیوں کا نشانہ بنایا جانا چاہیے۔

جرمنی

جرمن چانسلر اولاف شولس نے روس کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور پوری طرح بلا جواز’ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ یوکرائن کے لیے ایک بھیانک اور یورپ کے لیے تاریک دن ہے ۔اور روس کو فوجی کارروائی فوراً روک دینی چاہئے۔

جرمن پارلیمان میں خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ مائیکل روتھ نے بتایا کہ حکومت یوکرائن کو مزید حفاظتی سازوسامان فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔

یورپی کمیشن

یورپی کمیشن کی صدر ارژولا فان ڈیئر لائن نے روسی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ اس "بلا جواز حملے” کے لیے ماسکو کو”ذمہ دار” ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا، "مصیبت کی اس گھڑی میں ہم یوکرائن اور اس کی بے قصور خواتین، مرد اور بچوں کے ساتھ ہیں جنہیں اس بلااشتعال حملے کی وجہ سے اپنی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔”

یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل کا کہنا تھا "اکیسویں صدی میں طاقت کے ذریعہ اور ڈرا دھمکا کرسرحدوں کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔”

اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے روس سے فوراً جنگ بندی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا،” اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی حیثیت سے یہ ان کی زندگی کا سب سے مایوس کن لمحہ ہے۔”

آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن اور ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے بھی روس کی فوجی کارروائی کی مذمت کی۔ اوربان کا کہنا تھا، کہ ہمیں جنگ روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہیے۔

نیٹو

یوکرین پر روس کے حملے پر نیٹو کے چیف جینز اسٹولٹن برگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی امریکا اور یورپ کے اتحادیوں نے نیٹو کے مشرقی رکن ممالک میں پہلے ہی ہزاروں فوجی تعینات کردیے ہیں۔ اور فوجی دستوں کو تیار رہنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری فضائی حدود کے تحفظ کیلئے 100 جنگی طیارے ہائی الرٹ ہیں جبکہ بحیرہ روم میں اتحادیوں کے 120 جنگی جہاز موجود ہیں، ہم روسی جارحیت سے اپنے اتحادیوں کو بچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

نیو سربراہ کا کہنا تھا کہ  ہماری بار بار کی وارننگز اور سفارت کاری کی کوششوں کے باوجود روس نے ایک آزاد اور خود مختار ملک کے خلاف جارحیت کا راستہ چنا ہے ۔

چین

چینی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ یوکرین بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چین نے یوکرین کے بحران کا سفارتی اور پرامن حل تلاش کرنے کی اپیل کی۔

روس اور یوکرین کے مابین تنازع کے معاملے پر چین کے بعد ایران اور کیوبا نے بھی کشیدگی کا ذمہ دار امریکا اور نیٹو کو قرار دے دیا ہے۔

ترکی

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین پر حملہ نا قابل قبول ہے۔ روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ دو دوست ملکوں کے درمیان جنگی صورتحال دیکھ کر دکھ ہوا۔کشیدگی مذاکرات کے ذریعہ حل ہونی چاہیے۔

ایران

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے نیٹو اور امریکا کی یوکرین کے معاملے میں مداخلت کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ امریکا اور یوکرین کی مداخلت سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔

ترجمان کیوبا وزارت خارجہ

کیوبا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ نیٹو کا روس کی سرحد کی جانب پھیلاؤ کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے، امریکا کئی ہفتوں سے روس کو دھمکیاں دے رہا ہے، امریکا نے یوکرین کو ہتھیار دیئے اور خطے کے ممالک میں فوج تعینات کی۔

بیلاروس

روس کے اہم اتحادی بیلاروس کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ان کا ملک یوکرین کے خلاف آپریشن میں حصہ لے گا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیلاروسی صدر لوکاشینکو نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ بیلاروس پر حملے کو روس پر حملہ تصور کریں گے۔

بیلاروسی صدر لوکاشینکو نے کہا کہ روسی صدر نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر بیلاروسی سرحدی علاقوں کی جانب کوئی پیش قدمی ہوئی یا حملہ ہوا تو اسے روس پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

2 thoughts on “یوکرین حملہ،مغرب کی روس پر پابندیاں

  1. […] کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے جولائی 2021 میں پہلی بار یوکرائن پر حملے کا عندیہ دیا تھا ۔ پیوٹن نے لکھا تھا "یوکرین کی حقیقی […]

  2. […] پر جاری بیان میں نویل کھوکھر نے بتایا کہ یوکرین میں 3ہزار پاکستانی طلبہ تھے ۔ جن میں سے اکثریت کو نکالا […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے