پیوٹن نے یوکرائن پر حملے کا پہلا اشارہ کب دیا

Spread the love

ولادی میر پیوٹن کے مطابق "ہمارے (روس اور یوکرائن کے) روحانی، انسانی اور تہذیبی تعلقات صدیوں سے قائم ہیں اور ان کی ابتدا ایک ہی ذرائع سے ہوئی ہے، وہ مشترکہ آزمائشوں، کامیابیوں اور فتوحات سے گزرے ہوئے ہیں۔ ہم ہمیشہ ساتھ رہے ہیں اور ایک لوگ ہیں

روس کے صدر ولادیمیرپیوٹن
Spread the love

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے جولائی 2021 میں پہلی بار یوکرائن پر حملے کا عندیہ دیا تھا ۔ پیوٹن نے لکھا تھا "یوکرین کی حقیقی خودمختاری صرف روس کے ساتھ شراکت میں ممکن ہے”۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرائن میں ایک "خصوصی فوجی آپریشن” کا اعلان کرکے فوجی دستوں کو یوکرائن میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے۔ لیکن پیوٹن نے پہلی بار جولائی 2021 میں حملے کے حوالے سے انتباہ دیا تھا۔

پیوٹن نے روس اور یوکرائن کی صدیوں پرانی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایک آزاد یوکرین کا نظریہ ایک "روس مخالف” پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے۔ پیوٹن کے مطابق مشرقی یورپ میں موجود روس کے جغرافیائی سیاسی دشمنوں کی موجودگی بھی صدیوں پرانی ہے۔ اس لئے یوکرائن کی حقیقی خودمختاری صرف روس کے ساتھ شراکت میں ممکن ہے۔ ولادی میر پیوٹن کے مطابق "ہمارے (روس اور یوکرائن کے) روحانی، انسانی اور تہذیبی تعلقات صدیوں سے قائم ہیں اور ان کی ابتدا ایک ہی ذرائع سے ہوئی ہے، وہ مشترکہ آزمائشوں، کامیابیوں اور فتوحات سے گزرے ہوئے ہیں۔ ہم ہمیشہ ساتھ رہے ہیں اور ایک لوگ ہیں۔

پیوٹن نے یہ دعوی بھی کیا تھا "روسی، یوکرینی اور بیلاروسی باشندے سبھی قدیم روس کی اولاد ہیں، جو یورپ کی سب سے بڑی ریاست تھی۔ وسیع علاقے میں موجود سلاو اور دیگر قبائل بھی ایک زبان سے جڑے ہوئے تھے (جسے اب ہم قدیم روسی زبان کہتے ہیں)۔ ان لوگوں کے اقتصادی تعلقات، رورک خاندان کے شہزادوں کی حکمرانی سمیت سب کچھ ایک جیسا تھا”۔

‘ایک بڑا مشترکہ ملک’

روسی صدر نے کہا تھا کہ "یوکرائن” کا نام 1100 صدی عیسوی میں لکھی گئی تحریروں میں سامنے آیا تھا جو پرانی روسی دنیا "اوکرین” (یعنی علاقے) سے اخذ شدہ ہے۔ اور پرانی دستاویزات کے مطابق لفظ ‘یوکرین’ اصل میں سرحدی محافظوں کے لئے بولا جاتا تھا جو بیرونی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔” پیوٹن نے یوکرین کو "مالوروشیا” (چھوٹا روس) سے بھی تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مالورسیوں نے ایک بڑے مشترکہ ملک کی تعمیر میں مدد کی تھی- اور یوکرائن کے باشندے سابق سوویت یونین میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔”

ولایمیر پیوٹن کے مطابق روس کے تاریخی دشمن یعنی پولینڈ اور آسٹریا ہنگری نے یوکرائن کو روس سے الگ کرنے کے لیے داستانیں گھڑیں۔ پولینڈ کے رہنماؤں کی خواہش ہے کہ وہ ‘یوکرائنی مسئلے’ کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں۔ پیوٹن نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرائن کو روس سے الگ کرنے کا کوئی تاریخی جواز نہیں تھا لہٰذا من گھڑت پراپیگنڈا کیا گیا کہ یوکرائنی حقیقی سلاو ہیں اور روسی، ماسکوائٹس حقیقی سلاو نہیں ہیں۔

پیوٹن نے الزام لگایا کہ اصل میں، یوکرین کے حکمران حلقوں نے اپنے ملک کی آزادی کو ماضی سے منکر ہو کر جواز فراہم کیا تھا۔ انہوں (یوکرائن کے حکمران طبقہ) نے افسانہ نگاری اور تاریخ کو دوبارہ لکھنا شروع کیا، ہر اس چیز کی تدوین کی جس نے ہمیں متحد کیا تھا، پیوٹن نے اس دور کا حوالہ دیا جب یوکرین روسی سلطنت یعنی سابق سوویت یونین کا حصہ تھا۔

‘روس کے خلاف اسپرنگ بورڈ’

پیوٹن نے دعویٰ کیا تھا کہ ” یوکرائن کو ایک خطرناک جغرافیائی سیاسی کھیل میں گھسیٹا گیا جس کا مقصد یوکرائن کو یورپ اور روس کے درمیان ایک رکاوٹ بنانا تھا، ایک ایسا ملک جو یورپ میں ہو اور روس کے خلاف ہو۔ اس پروجیکٹ کے مالکان نے ‘ماسکو مخالف روس’ بنانے کے لیے پرانے پولش-آسٹرین نظریات کو بنیاد بنایا۔”

صدر پیوٹن نے تحریر میں اظاہر افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ بدعنوان یوکرائنی حکام نے کئی نسلوں کی کامیابیوں کو ضائع کرتے ہوئے یوکرین کو روس سے الگ کیا تھا، حالانکہ دونوں ملک "قدرتی اقتصادی شراکت دار” ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ لاکھوں یوکرائنی کام کرنے کے لیے روس آتے ہیں، اور انہیں خوش آئند پذیرائی اور حمایت ملتی ہے۔ تو یہی روس ‘جارح ریاست’ ہے۔

امریکی خطرہ

پیوٹن کی تحاریر کے بعد کچھ ایسے واقعات بھی ہوئے جنہوں نے جنگی ماحول پیدا کیا۔ 16 فروری 2022 کو نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکہ روس کی سرحد سے صرف 100 میل کے فاصلے پر پولینڈ میں "ایک انتہائی حساس امریکی فوجی تنصیب” بنا رہا ہے۔ یہ اڈہ، جو اس سال شروع ہونے والا ہے، ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے امریکہ جوہری ہتھیاروں سے لیس میزائل تعینات کر سکتا ہے۔

سینٹ میری کالج میں سیاست اور معاشیات کے پروفیسر جیک راسمس نے لکھا "پولینڈ، رومانیہ اور بحیرہ اسود میں جدید اور ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے لیس میزائلوں کی تعیناتی روس کے لیے ایک واضح خطرہ ہے”۔

روس امریکہ سے ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جس کے تحت یوکرائن کو روس مخالف فوجی اتحاد، نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اور ساتھ ہی دیگر حفاظتی ضمانتیں بھی دی جائیں گی۔ راسموس کے مطابق "ایک نیٹو حمایت یافتہ یوکرین کا مطلب ہے کہ رومانیہ اور بحیرہ اسود میں موجود امریکی میزائلوں کو یوکرائن سے روس کی سرحد تک منتقل کر دیا جائے۔” بالٹکس میں نیٹو افواج آنے سے روس ماسکو سے چند منٹ کے فاصلے پر نیٹو کے میزائلوں سے گھرا ہو گا۔”

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے 14 فروری 2022 کو اپنے بیان میں کہا تھا روس "یورپی سیکورٹی کے دائرے میں بنیادی تبدیلیاں” چاہتا ہے، مشرقی یورپ میں نیٹو فوجیوں کی واپسی، اور جارحانہ ہتھیاروں پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر پابندیاں لگانا چاہتا ہے۔ یہ تجاویز دو معاہدوں میں شامل ہیں جو روس نے 22 دسمبر 2021 کو تجویز کیے تھے تاکہ خطے کو زیادہ محفوظ اور جنگ کا خطرہ کم سے کم کیا جا سکے۔ ایک معاہدے کے فریق نیٹو اور روسی فیڈریشن ہوں گے جبکہ دوسرے معاہدے کے فریق امریکہ اور روسی فیڈریشن ہوں گے۔

2014 کی یوکرائن بغاوت اور امریکی کردار

 کہا جاتا ہے کہ امریکی پشت پناہی میں 2014 میں یوکرائن میں بغاوت کی گئی تھی جس نے یوکرائن کے منتخب صدر کا تختہ الٹ دیا تھا۔ 2013 میں یوکرائنی صدر وکٹر یانوکووچ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی طرف سے یوکرین کو سرمایہ کاروں کے لیے مزید دلکش بنانے کے لیے مانگی گئی اقتصادی اصلاحات کی مزاحمت کی تھی۔ ان اصلاحات میں اجرتوں کو کم کرنا اور تعلیم اور صحت کے شعبوں کو کم کرنا (جس میں زیادہ تر یوکرائنی ملازمتیں شامل ہیں) شامل ہیں۔ نیز قدرتی گیس کی سبسڈی کو کم کرنا بھی شامل تھا۔ بغاوت کے بعد، نئی امریکی حمایت یافتہ حکومت نے توانائی پر سبسڈی کو نصف کیا، اور بدلے میں، آئی ایم ایف سے 27 بلین ڈالر لینے کا وعدہ لیا۔

بغاوت کے بعد، امریکہ نے یو ایس ایڈ اور نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی  (نیڈ) کے ذریعے حکومت مخالف رائے کو فروغ دیا۔ نیڈ امریکی سافٹ پاور کے نیٹ ورک میں شامل ایک کلیدی تنظیم ہے جو ہر سال 170 ملین ڈالر کے بجٹ سے امریکہ کی دوست حکومتوں کا دفاع کرنے یا انہیں انسٹال کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ این ای ڈی ان حکومتوں کو نشانہ بناتی ہے جو امریکی فوجی یا اقتصادی پالیسی کی مخالفت کرتی ہیں، اور حکومت مخالف اپوزیشن کو بھڑکاتی ہیں۔ 2013 میں نیڈ  کے صدر کارل گرشمین نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا تھا کہ یوکرین مشرق اور مغرب کے درمیان دشمنی میں سب سے بڑا انعام تھا۔

امریکی اسسٹنٹ سکریٹری برائے یورپی امور خارجہ وکٹوریہ نولینڈ نے بغاوت کی انجینئرنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اور یوکرائن کے اندر نیو نازی گروپوں کے ساتھ علیک سلیک بڑھائی۔ حکومت کا تختہ الٹنے والی واشنگٹن کی حمایت یافتہ اپوزیشن کی انتہائی دائیں بازو اور نازی عناصر نے کھلے عام حمایت کی تھی۔ بغاوت کے بعد، ان نیو نازی عناصر کو یوکرائن کی فوج میں شامل کر لیا گیا، جس کے لیے امریکہ نے اڑھائی ارب ڈالر خرچ کیے۔

وکٹوریہ نولینڈ اب بائیڈن انتظامیہ کے محکمہ خارجہ میں سیاسی امور کے انڈر سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ صرف ریاستہائے متحدہ اور یوکرائن نے دسمبر 2021 کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جس میں "نازی ازم، نیو نازی ازم اور نسل پرستی کو ہوا دینے والے عناصر کی سرکوبی کرنا مقصود تھی”۔

روس نے یوکرین میں امریکی حمایت یافتہ حکومت کے اقتدار ملنے کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا۔ جزیرہ نما کریمیا جو تاریخی طور پر روس کا حصہ ہے، 1954 میں یوکرائن کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ تب یوکرائن روس کا حصہ تھا۔ کریمیا روس کے دو بحری اڈوں میں سے ایک ہے جنہیں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود تک رسائی حاصل ہے۔ برائس گرین نے فئیر میں لکھا تھا "امریکی حمایت یافتہ یوکرین کی حکومت کے زیر کنٹرول کریمیا روسی بحری رسائی کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا۔

مزید برآں، کریمیا کے 82 فیصد گھرانوں میں روسی زبان اور صرف 2 فیصد بنیادی طور پر یوکرائنی زبان بولتے ہیں۔ 2014 کی بغاوت کے فوراً بعد منعقدہ رائے شماری میں، 95 فیصد ووٹرز نے یوکرائن کی نئی حکومت کے ماتحت رہنے کے بجائے روس میں شامل ہونے کا انتخاب کیا۔ اس کے بعد روس نے کریمیا پر قبضہ کر لیا۔

2014 میں، یوکرائن کے علاقوں ڈونیٹسک اور لوہانسک نے بھی یوکرین سے علیحدگی کا انتخاب کیا۔ تب سے ان علاقوں نے روس کی حمایت سے یوکرائن سے الگ شناخت برقرار رکھی ہوئی ہے۔

یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت پر روسی تحفظات

جب یو ایس ایس آر ٹوٹ رہا تھا تب امریکی حکومت نے سوویت یونین سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سوویت رہنما میخائل گورباچوف کے جرمنی کے دوبارہ اتحاد کی مخالفت نہ کرنے کے معاہدے کے بدلے میں نیٹو کو مشرق کی طرف نہیں پھیلائے گا۔

تاہم 1999 تک ہنگری، پولینڈ اور جمہوریہ چیک سبھی نیٹو میں شامل ہو چکے تھے۔ رومانیہ، بلغاریہ اور سلوواکیہ نے 2004 میں شمولیت اختیار کی، اس کے بعد ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا نیٹو کا حصہ بنے۔ حالنکہ جارج کینن نے متنبہ کیا تھا کہ سرد جنگ کے بعد نیٹو کی توسیع امریکی پالیسی کی سب سے خطرناک غلطی ہوگی۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے نیٹو کے 2008 کے وعدے کی توثیق کی جس میں یوکرین اور جارجیا کو اتحاد میں رکنیت کی پیشکش کی گئی تھی۔ اسٹولٹنبرگ نے 16 دسمبر 2021 کو اعلان کیا کہ "ہم اس فیصلے پر قائم ہیں”۔

سٹولٹن برگ کے اعلان کے ایک ہفتے بعد پیوٹن نے کہا، "ہم نے واضح کر دیا ہے کہ نیٹو کا مشرق میں پھیلاؤ ناقابل قبول ہے،” انہوں نے مزید کہا، "امریکہ ہماری دہلیز پر میزائلوں کے ساتھ کھڑا ہے۔” پیوٹن نے استفسار کیا کہ ’’اگر کینیڈا یا میکسیکو کی سرحد پر میزائل لگائے گئے تو امریکیوں کا کیا ردعمل ہوگا؟

روس کے نقطہ نظر سے، نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع نے قومی سلامتی کے لئے ناقابل قبول خطرہ پیدا کیا، روس کے نیشنل گارڈ کے سربراہ وکٹر زولوٹنی نے 21 فروری 2022 کو پیوٹن کے اعلان سے پہلے اعلان کیا کہ ہماری یوکرین کے ساتھ کوئی سرحد نہیں ہے- ہماری سرحد امریکہ کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ اس ملک (یوکرائن) کے مالک ہیں۔” یقیناً ہمیں ریاستوں کو تسلیم کرنا چاہیے، لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنے ملک کے دفاع کے لیے مزید آگے جانا چاہیے۔”

منسک معاہدوں کا نفاذ

جیسے ہی بیجنگ سرمائی اولمپکس شروع ہوئے، پیوٹن اور چین کے صدر شی جن پنگ نے نیٹو کی توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے۔ چین اور روس نے کہا کہ وہ نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کرتے ہیں، شمالی بحر اوقیانوس کے اتحاد سے سرد جنگ کے روائتی انداز کو ترک کرنے، دوسرے ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور مفادات، ان کی تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی تنوع کا احترام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

منسک ٹو نامی معاہدہ یوکرائن کے ڈونباس علاقے میں جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کا ایک پیکیج ہے۔ جس پر یوکرائن، روس، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں نے 2015 میں اتفاق کیا تھا۔ معاہدے کے لئے ہونے والی بات چیت کی نگرانی آرگنائزیشن فار سیکوریٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ نے کی۔ 17 فروری 2015 کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد — جسے S/RES/2202 کا لیبل لگایا گیا ہے نے 12 فروری 2015 کو دستخط کیے گئے "منسک معاہدوں کے نفاذ کے لیے اقدامات کے پیکیج” کی توثیق کی۔

منسک معاہدے میں شامل 13 نکات فوجی اور سیاسی اقدامات کو بیان کرتے ہیں۔ ان اقدامات میں جنگ بندی، ہتھیاروں کا انخلا، ڈونیٹسک اور لوہانسک کی عبوری خود مختار حکومت کے بارے میں بات چیت، آئینی اصلاحات اور انتخابات شامل ہیں۔ لیکن منسک معاہدے کے زیادہ تر اقدامات پر عمل درآمد نہیں ہوا اور یوکرائن کی حکومت نے اشارے دیئے کہ وہ اس معاہدے پر عمل درآمد کا ارادہ نہیں رکھتی۔ پیوٹن اور صدر جو بائیڈن کے درمیان حالیہ ملاقات میں روس نے مطالبہ کیا کہ مغرب یوکرائن پر 2015 کے منسک معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

ڈونیٹسک، لوہانسک، کریمیا اور حق خود ارادیت

اقوام متحدہ کا چارٹر، نیز شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدات لوگوں کے حق خود ارادیت کو یقینی بناتے ہیں۔ پروفیسر الفریڈ ڈی زیاس نے 2012-2018 تک بطور آذاد ماہر برائے بین الاقوامی نظم اقوام متحدہ میں خدمات انجام دیں کے مطابق، ڈونٹسک، لوہانسک اور کریمیا میں موجود روسیوں کو خود اختیاری کا حق حاصل ہے۔”

18 فروری کو برطانیہ میں قائم اسٹاپ دی وار کولیشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا، "اس بحران کو اس بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے جو یوکرائنی عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرے اور روس کے سیکورٹی خدشات کو دور کرے۔”

بیان میں کہا گیا ہے کہ روس اور یوکرین کو منسک II کے معاہدے کی بنیاد پر ایک سفارتی تصفیہ تک پہنچنا چاہیے جس پر دونوں ریاستوں نے پہلے ہی دستخط کیے ہیں۔ جنگ بند کرنے کے بیان پر دستخط کرنے والوں میں لیبر پارٹی کے سابق رہنما جیریمی کوربن، پارلیمنٹ کے ایک درجن ارکان اور برطانیہ کی متعدد یونینوں کے سربراہان شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔