ن لیگ کو دھچکا،درخواست ہائی کورٹ سے خارج

Spread the love

ن لیگ کی درخواست خارج

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیکا ایکٹ کیس
Spread the love

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کی جانب سے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مسلم لیگ ن کی پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ مسلم لیگ ن پارلیمنٹ میں موجود ہے۔  وہ وہاں کردار ادا کرے ۔ عدالت کے مدنظر تمام سیاسی جماعتوں کی عزت ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا چاہیے ۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ سیاسی جماعتوں کا عدالتوں میں آنا اچھی بات نہیں، سیاسی جماعتوں کا کورٹ میں آنا عدالتوں کی بے توقیری ہوتی ہے، عدالتوں کو سیاسی معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے، اسٹیک ہولڈرز نے یہ ترمیم چیلنج کی ہے ان کے پاس متبادل فورم نہیں، سیاسی جماعتوں کے پاس متبادل فورم موجود ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں مزید کہا کہ آرٹیکل 89 میں ارکان پارلیمنٹ آرڈیننس کو مسترد کر سکتے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کو مجلس شوریٰ کو مضبوط کرنا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کا عدالتوں میں آنا مجلس شوریٰ کو بے توقیر کرنے کے برابر ہے۔ جبکہ سیاسی جماعتیں غیرضروری چیزیں عدالتوں میں نہ لائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کو پارلیمنٹ میں کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ ریمارکس دیئے کہ سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کریں ۔ غیر ضروری پٹیشنز دائر نا کریں۔ پٹشنر مسلم لیگ ن بھی حکومت میں رہ چکی ہے ۔ آرڈیننس سے متعلق ان کو پتہ ہے ۔ پارلیمنٹ کا بہت بڑا کردار ہے یہاں تک کہ وہ آئین میں ترمیم کر سکتے ہیں۔

عدالت نے مسلم لیگ ن کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔ سیاسی جماعتوں کو محض علامتی طور پر بھی نہیں سن سکتے۔

ن لیگ کا کالے قوانین کےخلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان

پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے پیکا کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے ہر فورم پر جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔

مریم اورنگزیب نے بیان میں کہا کہ سیاہ حکومت سیاہ قوانین سے عدم اعتماد سے بچ نہیں سکتی ۔ کالے قوانین بھی کالی حکومت کے ساتھ رخصت کریں گے ۔ عمران خان کے جانے سے ہی پارلیمنٹ کے دروازے پر لگا تالا کھلے گا ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو خوف ہے کہ پارلیمنٹ کی کرسیاں الٹا دیں، قالین اکھاڑ دئیے ۔ تمام کالے قوانین کو بھی اسی طرح اکھاڑ کر پھینکیں گے۔

ترجمان مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ وزیراعظم جتنی مرضی کرسیاں الٹائیں ۔ قالین اکھاڑیں، کالے قانون جاری کریں ۔ آپ کی کرسی الٹنے سے نہیں بچ سکتی ۔

ان کا کہنا تھا کہ معزز عدالت نے ہمارے وکیل منصور صاحب کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران وہ ہمارے موقف کو بیان کردیں گے ۔ حکومت اتنی خوفزدہ ہے کہ پارلیمنٹ کو مفلوج بناکررکھ دیا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔