امن کے لئے آپریشن ردالفساد کے 5 سال

Spread the love

آپریشن ردالفساد میں پاکستان کی کامیابیاں

آپریشن ردالفساد کے پانچ سال مکمل
Spread the love

آپریشن ردالفساد کو 5سال مکمل ہو گئے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہےکہ آپریشن ردالفساد کا مقصد دو دہائیوں کی جنگ اور دہشت گردوں کا خاتمہ تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کا مقصد پاکستانی عوام کی سکیورٹی یقینی بنانا تھا۔ آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری رہا ۔ آپریشن ردالفساد کے نتیجےمیں ملک غیر یقینی صورتحال سے نکل کر پر امن ہوا۔ ردالفساد کی کامیابیاں شہدا کے خون اور عوام کے عزم سے ممکن ہو سکیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ملک غیریقینی صورتحال سے امن کی طرف جارہا ہے ۔ اور آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ شہدا کی قربانیوں، عوام کے عزم اور جرات کو سلام پیش کرتے ہیں۔

ملک کے طول و عرص میں دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خلاف کامیاب آپریشنز، کیے گئے۔ قوم نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر پاکستان کی تصویر میں امن کے رنگ بھر دیئے ۔ ضم شدہ قبائلی علاقوں سے گوادر تک ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگیا۔

22 فروری 2017 کو شروع ہونے والے آپریشن ردالفساد کے تحت دہشت گرد تنظیموں کے مکمل خاتمے کے لیے کثیر الجہتی اقدامات کیے گئے ۔ زمینی آپریشنز کے ذریعے نہ صرف دہشت گردوں کے زیر اثر علاقوں کو کلیئر کرایا گیا ۔ بلکہ وہاں سماجی اور معاشی بہتری کے منصوبے بھی مکمل کیے گئے۔

2017 سے اب تک ایف سی کے 67 نئے ونگز قائم کیے گئے ۔ سیکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 40 ہزار سے زائد پولیس جوانوں اور 22ہزار کے قریب لیویز اور خاصہ دار اہلکاروں کو تربیت دی۔ انتہا پسندی اور نفرت انگیز مواد کے خلاف بھی مؤثر اقدامات کیے گئے۔

آپریشن ردالفساد کے تحت بارڈر مینجمنٹ کو بھی یقینی بنایا گیا ۔جس کے تحت پاک، افغان سرحد پر فینسنگ کا کام 95 فیصد جبکہ پاک، ایران بارڈر پر 78 فیصد مکمل ہو چکا ہے ۔ 679 قلعے، چیک پوسٹس اور بارڈر ٹرمینلز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔

قبائلی اضلاع سے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کے بعد 74 مربع کلومیٹر علاقے سے 60 ہزار سے زائد باروی سرنگیں ناکارہ بنا کر اسے کلیئر کیا گیا۔ آپریشن دُواتوئی، شمالی وزیرستان اور خیبر آپریشن کے تحت پاک افغان بارڈر پر مکمل ریاستی رِٹ بحال کی گئی ۔ اور ٹی ڈی پیز کی باعزت اور بحفاظت گھروں کو واپسی بھی یقینی بنائی گئی۔

آپریشن رد الفساد کے ذریعے ملٹری کورٹس کے تحت دہشت گردوں کے مقدمات کی تیزی سے سماعت ہوئی ۔ 78 سے زائد دہشت گرد تنظیموں اور سرکردہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس دوران 1200 سے زائد شدت پسندوں کو بھی قومی دھارے میں واپس لایا گیا۔

آپریشن رد الفساد کا اہم جزو سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی تھی جس میں مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔ اور دشمن انٹیلی جنس ایجنسیزکی طرف سے پاکستان مخالف سازشوں کو بے نقاب کیا گیا ۔ آپریشن رد الفساد سے شہر قائد کا امن بھی لوٹا آیا ۔ جرائم کی عالمی درجہ بندی میں کراچی چھٹے سے 124 نمبر پر آگیا۔

سکیورٹی اداروں نے چھٹی مردم شماری کیساتھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں پولیو مہم کیلئے بھی ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کی ۔ پاک فوج نے ملک میں بین الاقوامی کھیلوں کی بحالی کے ساتھ پی ایس ایل کا انعقاد بھی یقینی بنایا ۔ جس میں غیر ملکی کھلاڑیوں نے فول پروف سیکیورٹی کو سراہا۔ سیکورٹی فورسز نے شمالی علاقہ جات کے ساتھ ملک میں مذہبی سیاحت کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

5سال قبل جب آپریشن ردالفساد کا آغاز ہوا تھا تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہر پاکستانی آپریشن رد الفساد کا سپاہی ہے ۔ آئیں مل کر اپنے پاکستان کو محفوظ اور مضبوط بنائیں۔ قوم نے سپہ سالار کی کال پر لبیک کہا اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر پاکستان کی تصویر میں امن کے رنگ بھر دیئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔