یوکرین تنازعہ:عالمی طاقتوں میں لفظوں کی جنگ

Spread the love

یوکرین بارڈر پر کشیدگی برقرار

یوکرین اور روس میں کشیدگی
Spread the love

یوکرین  تنازعے پر عالمی برادری تقسیم ہو گئی ہے۔ امریکا، یورپ ایک طرف جبکہ روس اور اتحادی دوسری جانب ہیں۔

روس کی جانب سے یوکرین تنازع کا پرُامن حل کا امکان مسترد

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرین تنازع کے پرُامن حل کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔روسی صدر کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کرنے والے دو ریاستوں لوہانسک اور ڈوناسٹک کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس سلسلے میں مشورے کیے جا رہے ہیں۔

روسی صدر کا سیکیورٹی کونسل اجلاس سے خطاب

صدر ولادی میر پیوٹن نے سیکیورٹی کونسل اجلاس سےخطاب کیا ۔انہوں نے کہا کہ   ’’ وہ نہیں سمجھتے کہ یوکرین فوج اور روس نواز باغیوں کے درمیان بیلاروس میں 2015 کو طے پانے والے معاہدہ اب تنازع کے حل کے لیے قابل عمل رہا ہے‘‘

روسی صدر کا یوکرین کی دو ریاستوں کا تسلیم کرنے کا اشارہ

روسی صدر نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ فرانس اور جرمنی کی موجودگی میں یوکرین نے طے کیا تھا۔ جو اب تک مؤثر ثابت ہوا ہے۔ اور ان حالات میں اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔صدر پیوٹن نے یہ بھی کہا کہ وہ یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کرنے والی دو ریاستوں لوہانسک اور ڈوناسٹک کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

روسی پارلیمنٹ کا پیوٹن سے دونوں ریاستوں کو تسلیم کا مطالبہ

روسی پارلیمنٹ نے پیوٹن سے ماسکو کے حامی علیحدگی پسند علاقوں کو تسلیم کرنے کو بھی کہا ہے۔ جنہوں نے یوکرین کے 2014 کے یورپی یونین کے حامی انقلاب کے بعد خود کو کیف کی حکمرانی سے آزاد قرار دیا تھا۔

علیحدگی پسندوں کی تحریک میں 15 ہزار جانوں کا ضیاع

دونوں ریاستوں کے باغیوں کا مطالبہ ہے کہ روس کے صدر انہیں تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔ رپورٹس کے مطابق روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند 2014 سے ڈونباس کے علاقے میں یوکرین کی حکومتی افواج سے لڑ رہے ہیں۔ اس تنازعہ میں تقریباً 15ہزار جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

واضح رہے کہ روس نواز باغیوں نے یوکرین کے مشرقی علاقے کی دو ریاستوں پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا ۔اور وہاں سے بزرگوں، خواتین اور بچوں کو جنگ کے خطرے کے پیش نظر ماسکو منتقل کر رہے تھے۔

 مغربی ممالک کی روس کو وارننگ

مغربی ممالک نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند جمہوریہ کو تسلیم نہ کرے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ "بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی” کے مترادف ہوگا۔

یوکرین کا روس پر مل کر بحران کا حل تلاش کرنے پر زور

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن  پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں دونوں رہنما مل کر بحران کو حل کرنے کی کوشش کر سکیں۔

امریکی اور روسی صدرو کے درمیان یوکرین سمٹ کے انعقاد پر اتفاق

امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرین کے حوالے سے سمٹ کا انعقاد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے فون پر دونوں رہنماؤں کو یہ تجویز دی تھی۔ واضح بھی کیا کہ  اس سمٹ کا انعقاد روس کے یوکرین پر حملہ نہ کرنے کی صورت میں ہی کیا جائے گا۔

صدر جوبائیڈن کی روسی ہم منصب سے ملاقات کی دعوت قبول

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے تصدیق کی کہ  صدر جوبائیڈن نے یوکرین پر روسی حملہ نہ ہونے کی شرط پر روسی ہم منصب کے ساتھ ملاقات قبول کی ہے۔ امریکی سیکرٹری خارجہ انٹونی بلنکن اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی اس جمعرات ملاقات کریں گے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ بلنکن اور لاوروف امریکا روس سمٹ کا ایجنڈا طے کریں گے۔ یوکرین نے اس سمٹ کے انعقاد کا خیر مقدم کیا ہے۔ لیکن کیف حکومت کا کہنا ہے کہ مسئلے کا حل یوکرین کو اس عمل میں شامل کیے بغیر نہیں نکلے گا۔

ترجمان کریملن کا امریکی اور روسی صدر کی متوقع ملاقات پر ردعمل

کریملن کے ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر بائیڈن پیوٹن ملاقات سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ امریکی اور روسی صدور ضرورت پڑنے پر کال یا ملاقات کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔یوکرین کے معاملے پر سفارتی رابطے فعال ہیں۔ رواں ہفتے روسی اور امریکی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کاامکان ہے

امریکا کوروس کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کاخدشہ

امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کو ایک خط بھی لکھا ہے ۔جس میں  خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ روس کے پاس ایسے یوکرینی شہریوں کی فہرست ہے۔ جنہیں یوکرین پر روسی حملے کے بعد یا تو قتل کر دیا جائے گا یا کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمیشنر میشال بیخیلت کو لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے۔ امریکا کے پاس مستند معلومات ہیں کہ روس سیاسی مظاہروں کو ختم کرنے کے لیے بھی بھرپور طاقت کا استعمال کرے گا۔

یورپی یونین کا روس پر پابندیوں کا پیکج تیار

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف جوزیف بوریل نے تصدیق کی ہے کہ روس پر پابندیوں کا پیکج تیار کرلیا گیا ہے  ۔اور اب صرف روس کا یوکرین پر پہلے حملے کا انتظار ہے۔

یوکرین نے یورپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس پر کچھ پابندیاں ابھی فوری طور پر عائد کرے۔ تاکہ روس اپنے ارادوں سے باز رہے۔یورپی ممالک نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے حملے کے آغاز کے بعد ہی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

  1945 کے بعد سے یورپ کی سب سے بڑی جنگ چھڑجانے کا خدشہ

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ روس دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو بدترین لڑائی میں دھکیلنے کی تیاری کر رہا ہے۔ خبردار کیا کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں روس کو عالمی مالیاتی نظام سے باہر نکال دیا جائے گا۔

بورس جانسن نے کہا کہ روسی منصوبے کے تحت اس کی فوج صرف باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی علاقے سے  یوکرین میں داخل نہیں ہو گی ۔بلکہ شمال کی طرف بیلاروس سے داخل ہو کر دارالحکومت کیف کو گھیرے میں لے لے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے یہ کہتے ہوئے خوف محسوس ہو رہا ہے کہ جو منصوبہ ہم دیکھ رہے ہیں وہ اپنے پیمانے کے اعتبار سے کسی ایسی چیز کے لیے ہے جو 1945 کے بعد سے یورپ کی سب سے بڑی جنگ ہو سکتی ہے۔‘

یورپی یونین کا یوکرینی فوج کو تربیت فراہم کرنے پر اتفاق

یوکرین اور یورپی یونین نے ایک ایڈوائزری فوجی تربیتی مشن قائم کرنے پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔ یوکرینی وزیر خارجہ دمترو کولیبا نے برسلز میں یورپی یونین کے وزراء خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا کسے گفتگو کی ۔انہوں نے  بتایا کہ یورپی یونین یوکرائنی فوجیوں کو مشاورتی تربیت فراہم کرے گی ۔اس تربیت میں جنگی تربیت شامل نہیں ہو گی۔

روس کی بیلاروس میں ایٹمی مشقیں

روس نے ہفتے کو ہمسایہ ملک بیلاروس میں ایٹمی مشقیں کی ہیں۔ بحیرہ اسود میں ساحل کے قریب روسی بحریہ کی مشقیں بھی جاری ہیں۔ امریکہ اور کئی یورپی ممالک کئی ماہ سے الزام لگا رہے ہیں کہ روس یوکرین حملہ کرنے کے بہانے بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان ملکوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو روس پر فوری پابندیاں لگا دی جائیں گی۔

فضائی کمپنیوں نے یوکرین کے لئے پروازیں منسوخ کر دیں

ایئرفرانس نے یوکرین کے لئے اپنی پروازیں روک لی ہیں ۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ فضائی حدود محفوظ ہیں۔ لیکن کئی مزید کمپنیاں پروازیں منسوخ کر رہی ہیں۔یوکرینی حکام نے تصدیق کی کہ سرحد پر روسی افواج کے حملے  کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر ریاست ہائے متحدہ سے تقریباً 10 ایئر لائنز نے وہاں پروازیں روک دی ہیں۔ لیکن اس نے اصرار کیا کہ اس کی فضائی گزرگاہیں اب بھی کھلی ہیں اور مشرقی یورپی ملک کے لیے پروازیں محفوظ ہیں۔

روس میں داخلے کی کوشش پریوکرین کی مسلح فوجی گاڑی تباہ،ماسکو کا دعویٰ

روسی فوجیوں اور سرحدی محافظوں نے روس میں داخلے کی کوشش پر یوکرین کی مسلح فوجی گاڑیوں کو تباہ کردیا ہے۔

رائٹرز نے روسی فوج کے جاری کردہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 3 بجے کے قریب 2 یوکرینی فوجی گاڑیوں میں سوار 5 افراد نے جاسوسی اور تخریب کاری کی نیت سے روس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ جس پر روسی افواج نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑیوں کو تباہ کردیا۔

روسی فوج کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین کی گاڑیوں میں سوار تمام افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔جبکہ تصادم میں کسی روسی فوجی کی ہلاکت واقع نہیں ہوئی ہے۔

یوکرین نے اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روستوو کے علاقے میں جہاں یہ واقعہ مبینہ طور پر پیش آیا۔ وہاں یوکرین کی کوئی فوج موجود نہیں تھی۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے ۔جس میں مغربی ممالک روسی حملے کی وارننگ جاری کررہے ہیں اور روس متعدد بار اس قسم کے منصوبے کی تردید کرچکا ہے۔

4 thoughts on “یوکرین تنازعہ:عالمی طاقتوں میں لفظوں کی جنگ

  1. […] موصول ہوا تھا ۔ ہنگری کے وزیر اعظم سے بات چیت کے بعد یوکرائنی بحران کے تناظر میں بیان دیا کہ اس کا حل تلاش کرنا آسان نہیں ہو […]

  2. […] نے بتایا کہ روس یوکرین کی سالمیت اور خودمختاری کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ […]

  3. […] یوکرین نے مغرب کے ملکوں کی روس سے بات چیت میں ‘چوکس اور مضبوط’ رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مغربی رہنما روس کے صدر ولادی میر پیوٹن تک پہنچ کر بحران کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ پابندیوں کا انتباہ بھی دے رہے ہیں ۔ […]

  4. […] یوکرینی باشندے یوکرائن کے دارالحکومت کیف سے نقل مکانی کی کوشش میں ہیں کیونکہ […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔