سعودی خواتین اب بلٹ ٹرین بھی چلائیں گی

Spread the love

اٹھائیس ہزارسعودی خواتین بلٹ ٹرین چلانے کی امیدوار

سعودی عرب میں خواتین کو بااختایر بنانے کا فیصلہ
Spread the love

سعودی عرب میں خواتین کو بااختیار بنانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اب سعودی خواتین بلٹ ٹرین کی ڈرائیونگ کریں گی۔

سعودی عرب میں خاتون ٹرین ڈرائیورکی30 اسامیوں کے اشتہار کے جواب میں 28ہزارخواتین نے درخواستیں بھیج دی ہیں۔

خواتین ٹرین ڈرائیورز کے لئے اشتہاردینے والی کمپنی نے بتایا کہ درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد 14ہزارخواتین کو اہل سمجھا گیا ہے۔ ان میں سے مزید کوشارٹ لسٹ کیا جائے گا۔

ہسپانوی ریلوے آپریٹر  کمپنی ریفنے کے مطابق خواتین ٹرین ڈرائیورز کی 30 اسامیوں کے لئے تعلیمی قابلیت اورانگریزی بولنے کی قابلیت کا جائزہ لیا گیا۔

میرٹ پر منتخب 30 خواتین ٹرین ڈرائیورز مکہ اور مدینہ کے درمیان بلٹ ٹرین چلائیں گی۔ خواتین کوایک سال کی تنخواہ کے علاوہ بلٹ ٹرین چلانے کی تربیت دی جائے گی۔

خبر ایجنسی کے مطابق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان بلٹ ٹرین کے لیے ڈرائیور کے طور پر بھرتی سے مملکت میں خواتین کو روزگار کے مزید مواقع فراہم کئے  جائیں گئے۔

ہسپانوی کمپنی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ٹرین چلانے کے لیے خواتین کو مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں ۔80 مرد ڈرائیوروں کو ٹرین چلانے کی مہارت حاصل کرنے کے بعد ملازمت فراہم کی گئی ہے ۔ مزید 50 زیر تربیت ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کے لیے ملازمت کے مواقع  محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت تک محدود تھے۔

سعودی عرب میں2018 میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی۔ اگست 2019 میں خواتین کو مرد کی اجازت کے بغیر پاسپورٹ بنانے کی اجازت دی گئی ۔

فروری 2021میں سعودی خواتین کو فوج میں بھرتی کرنے کی اجازت ملی ۔

سعودی ولی عہد کی جانب سے مملکت کی معیشت کو مزید مضبوط  بنانے کی مہم چلائی گئی ۔ جس کے بعد افرادی قوت میں خواتین کی شرکت گزشتہ 5 برسوں میں تقریباً دوگنی ہو کر33 فیصد ہو گئی ہے۔

خواتین اب ان تمام ملازمتوں پر فائز ہیں جو پہلے کبھی صرف سعودی مردوں اور غیر ملکی کارکنوں تک محدود تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔