اوآئی سی کو بھارت میں اسلاموفوبیا پر تشویش

Spread the love

بھارت میں حجاب پر پابندی پر بھی تشویش

اسلامی تعاون تنظیم کااسلاموفوبیا پر اظہارتشویش
Spread the love

اسلامی تعاون تنظیم(اوآئی سی) نے بھارت میں مسلم نسل کشی کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کر دیا۔ اوآئی سی  نے بھارت میں مسلم نسل کشی کی دھمکی اور  حجاب پر پابندی پر بھی تشویش ظاہر کی۔

رپورٹس  کے مطابق او آئی سی ہیڈکوار جدہ سے بیان جاری کیا۔ بھارتی ریاست کرناٹک، اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اسلامی تعاون تنظیم نے اترکھنڈ میں ہندو انتہا پسند رہنما کی جانب سے مسلم نسل کشی کی دھمکی   کا جائزہ لیا۔ او آئی بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے اس حوالے سے ضروری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم نے کرناٹک میں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلم طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ مودی حکومت سے مسلمانوں کے خلاف پُرتشدد واقعات کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے، "او آئی سی کا جنرل سیکریٹریٹ ایک بار پھر بھارت سے مطالبہ کرتا ہے ۔ وہ مسلمان برادری کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنائے ۔ تشدد، نفرت انگیز جرائم کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔”

او آئی سی نے ماضی میں بھی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مبینہ مظالم کے خلاف نئی دہلی سے احتجاج کیا۔اور قصوروار وں کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبات کیے ہیں۔

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی سفیر نے چند روز قبل حجاب پر پابندی کے حوالے سے کرناٹک حکومت کے رویے کی نکتہ چینی کی تھی۔

 واضح رہے کہ بھارت کے کچھ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں ۔ ہندو ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مودی حکومت نے حجاب پر پابندی کے اقدام کی حوصلہ افزائی کی۔ بی جے پی رہنماؤں نے کھلے عام مسلم نسل کشی کی دھمکیاں دی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔