امریکہ اور کینیڈا میں تجارت بحال

Spread the love

کینیڈین پولیس نے ایمبیسیڈر برج کو مظاہرین سے خالی کروا لیا

دنیا کا سب سے بڑا تجارتی پل کھل گیا
Spread the love

کینیڈا کی پولیس نے ایمبیسیڈر برج کو مظاہرین سے خالی کروا لیا ہے ۔ پولیس کریک ڈاؤن میں متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔

امریکا اور کینیڈا کے درمیان مصروف ترین سرحدی گزرگاہ ’ ایمبیسیڈر برج ‘کو دوبارہ آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا ہے ۔ اوٹاوا میں ٹرک ڈرائیور کورونا پابندیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
ڈیٹرائٹ انٹرنیشنل برج کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ "ایمبیسیڈر برج” اب مکمل طور پر کھلا ہوا ہے ۔ کینیڈا اور امریکی کے درمیان تجارت کے آزادانہ بہاؤ کو ایک بار پھر گزرنے کی اجازت ہوگی۔”

رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے ٹرک ڈرائیور ایک ہفتے قبل کورونا پابندیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ۔ مظاہرین نے ریاست ہائے متحدہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان مصروف ترین سرحدی گزرگاہ ’ ایمبیسیڈر برج ‘کو بند کردیا۔

ٹرک ڈرائیوروں نے اپنے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا ۔ پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
پولیس نے کریک ڈاؤن سے متعلق میڈیا کو بتایا کہ پل پر قابض دو درجن سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے ۔7 گاڑیوں کو تحویل میں لیا گیا ہے ۔

اوٹاوا پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی ہے ۔ جب مظاہرین کی تعداد کم ہوکر صرف 45 رہ گئی تھی ۔
حکومتی حکم نامے کے مطابق امریکا اور کینیڈا کی سرحد عبور کرنے والے ٹرک ڈرائیوروں کو کووڈ 19 کے خلاف ویکسین لگوانی لازمی ہوگا ۔

ان مظاہروں کی ابتدا انہیں بندشوں کے خلاف شروع ہوئی تھی ۔ تاہم بعد میں یہ احتجاجی مظاہرے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت کے خلاف ایک وسیع تر احتجاج میں بدل گئے تھے۔


ایمبیسیڈر برج دنیا کا سب سے بڑا تجارتی پل


رپورٹس کے مطابق کینیڈا میں واقع ایمبیسیڈر برج دنیا کا سب سے بڑا بین الاقوامی تجارتی پل ہے ۔ مظاہروں کے باعث کینیڈا اور امریکا کی معیشت کو بھی شدید دھچکا لگا ہے، اس کے ذریعے امریکہ اور کینیڈا کی تجارت کا ایک چوتھائی انحصار ہوتا ہے۔

یہ ونڈسر، اونٹاریو کو امریکی ریاست مشی گن سے جوڑتا ہے ۔ احتجاج کے باعث یومیہ 300ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ۔ احتجاج سے شمالی امریکہ کی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے ۔ تقریباً 100 گاڑیاں سڑک کے 2 کلومیٹر (1.25 میل) حصے میں کئی دنوں سے کھڑی تھیں۔

ایمبیسیڈر برج کی بندش سے ہونے والا نقصان

ایمبیسیڈر برج کی بندش کے باعث تقریباً ایک ہفتے میں بہت زیادہ پہنچانے والے ٹرک واپس چلے گئے ۔ آٹوموٹیو پارٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر فلاویو وولپ کا کہنا ہے کہ اس میں سے تقریباً نصف کار پارٹس کی تجارت سے ہے۔
آٹو پارٹس کی صنعت کو پہنچنے والا نقصان بہت زیادہ ہے۔ سپلائی چین کو مکمل طور پر فعال ہونے میں 3سے 4دن لگیں گے ۔

کھوئی ہوئی پیداوار اور ترسیل کی کل لاگت کا تخمینہ تقریباً790ملین ڈالر ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے امریکی تجارتی پارٹنر کے ساتھ کینیڈا کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان تباہ کن ہے، خاص طور پر جب امریکی سیاست دان تحفظ پسندانہ پالیسیوں پر زور دیتے ہیں۔
کینیڈا کی ونڈسر پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے "زیرو ٹالرینس” ہوگی ۔ وہ پل کو کھلا رکھتے ہوئے مزید ناکہ بندیوں کو کیسے روکیں گے، یہ دیکھنا باقی ہے۔اگر کوئی قانون توڑنے کا سوچ رہا ہے تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا”۔

گزشتہ ہفتے کینیڈین وزیر صنعت نے زور دیا کہ اس گزرگاہ کی بندش سے ہزاروں کمپنیوں اور ان میں کام کرنے والوں کی بقا کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔ امریکی حکومت نے بھی اس پل کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
سامان کی ترسیل رُک جانے سےکئی کمپنیوں کو کاروبار ہفتوں تک ٹھپ کرنا پڑا ۔ مزدور طبقہ بھی ان مظاہروں سے شدید متاثر ہوا ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اب تک فوج کے استعمال کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "تمام آپشنز میز پر موجود ہیں” احتجاج کو ختم کرنے کے لیے جس نے سرحد کے دونوں طرف معیشت کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اوٹاوا کے میئر جم واٹسن نے گزشتہ ہفتے دارالحکومت کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا ۔ جہاں سیکڑوں ٹرک پارلیمنٹ کی عمارتوں کے سامنے کھڑے تھے ۔مظاہرین نے وزیر اعظم کے دفتر کے باہر پورٹیبل بیت الخلا قائم کر رکھے ہیں۔

کیا ’ ایمبیسیڈر برج ‘کھلنے سے احتجاج ختم ہو گیا؟

کینیڈا کے ٹرک ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اس طرح ختم نہیں کیا جا سکتا ہے، ٹائلر کوک نے امید مظاہر کی کہ پولیس ہمیں پرُامن احتجاج جاری رکھنے کی اجازت دے گی۔
ٹرک ڈرائیوروں نے کورونا پابندیوں کے خلاف مظاہروں کو آزادی قافلے کا نام دے رکھا ہے ۔ عدالت کا حکم امتناعی جمعہ سے نافذ تھا لیکن پولیس نےکارروائی میں 36 گھنٹے سے زیادہ انتظار کیا ۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ مظاہرین میں بہت سے بچے بھی تھے۔
پولیس نے تقریباً 12 گرفتاریاں کیں لیکن مظاہرین کی اکثریت رضاکارانہ طور پر علاقہ چھوڑ کر اپنی گاڑیاں گھر لے گئی۔
کینیڈا میں ویکسی نیشن کی شرح 90فیصد ہے ۔ جو امریکا سے کہیں زیادہ ہے ۔ملک کے کئی حصوں میں یعنی جم، ریستوراں میں جانے کے لیے ویکسی نیشن کا ثبوت دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

2 thoughts on “امریکہ اور کینیڈا میں تجارت بحال

  1. […] پولیس نے اتوار کے روز ایمبیسیڈر برج پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مظاہرین کو گرفتار جبکہ 5 ٹرک قبضے […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔