سندھ طاس معاہدے پرشیڈول اگلے ماہ طے ہوگا

Spread the love

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین نواب یوسف تالپور کی صدارت میں ہوا، چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات کب ہوں گے؟ وزارت آبی وسائل حکام نے جواب دیا کہ مذاکرات کی ابھی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی، 13 مارچ سے قبل میٹنگ ہونا طے ہے؟ چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ کیا آپ نے میٹنگ کی تیاری مکمل کر لی؟وزارت آبی وسائل کے حکام نے بتایا کہ ہم پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں پیش کریں گے ۔

قائمہ کمیٹی کا سیکرٹری مشترکہ مفادات کونسل کو طلب کرنے کا فیصلہ

کمیٹی میں پانی کے تنازعے پرمشترکہ مفادات کونسل میں اٹارنی جنرل کی سربراہی میں کمیٹی کا معاملہ بھی زیربحث آیا ،اٹارنی جنرل کی سربراہی میں پانی کے تنازعے پر کمیٹی کی رپورٹ تیار نہ ہونے پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا ، قائمہ کمیٹی نے کہا کہ رپورٹ فائنل نہ ہونے کے باعث صوبوں میں پانی کا تنازعہ موجود ہے،کمیٹی نے استفسار کیا کہ رپورٹ کی تیاری پر اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟ کمیٹی نے اٹارنی جنرل کمیٹی کی رپورٹ نہ آنے پر سیکرٹری مشترکہ مفادات کونسل کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے،سیکرٹری وضاحت کریں کہ پانی کے تنازعے پر اٹارنی جنرل کی کمیٹی میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔

واپڈا حکام کی کمیٹی کو نو لانگ ڈیم کی تعمیر میں تاخیربریفنگ

کمیٹی میں نو لانگ ڈیم کی تعمیر میں تاخیر پر واپڈا حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی ، چیئرمین قائمہ کمیٹی نے استفسار کیا کہ چیئرمین واپڈا میٹنگ میں کیوں نہیں آئے ؟واپڈا حکام نے جواب دیا کہ ایجنڈے میں چیئرمین کو آنے کا نہیں کہا گیا تھا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جنرل صاحب سے کہیں مہربانی فرما کر میٹنگ میں آ جایا کریں،چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ واپڈا میں ٹوٹل کتنے جی ایم ہیں؟واپڈا حکام نے بتایا کہ بارہ جی ایم ہیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آج صرف جی ایم سندھ آئے ہوئے ہیں، 12میں سے صرف ایک جی ایم آیا،کمیٹی کو سنجیدگی سے لینا شروع کریں۔

واپڈا حکام کا ایف بی آر سے ری فنڈ نہ ملنے کا شکوہ

واپڈا حکام نے بتایا کہ نولانگ ڈیم اے ڈی بی فنڈنگ سے بن رہا ہے، اے ڈی بی فائنل فنڈنگ 2024 میں ریلیز کرے گا، 2027 میں ڈیم مکمل ہونے کا امکان ہے،

نولانگ ڈیم پر ایف بی آر کی جانب سے واپڈا کو 1619 ملین روپے ری فنڈ کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا، واپڈا حکام نے بتایا کہ 2017 میں ایف بی آر نے 1619 ملین روپے کی ٹیکسز کی مد میں کٹوتی کی تھی،جس کے ہائیکورٹ نے ہمارے حق میں فیصلہ کیا تھا،ایف بی آر نے ٹیکس ریفنڈ کرنے کی بجائے سیلز ٹیکس بھی لگا دیا تھا،اگر معاملہ حل نہ ہوا تو ڈیم کی تاخیر کا ذمہ دار ایف بی آر ہو گا۔

ممبرپالیسی ایف بی آر کی واپڈ کو جلد ری فنڈ کی یقین دہانی

ممبرپالیسی ایف بی آر نے کہا کہ معاملہ حل ہو چکا ہے،ہم نے واپڈا کو طریقہ کار بتا دیا ہے ،جلد انہیں رقم ری فنڈ کر دی جائے گی۔

چیئرمین ارسا کی پانی کی تقسیم پر کمیٹی کو بریفنگ

قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین ارسا نے  ملک میں پانی کی تقسیم  پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی ، چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ بلوچستان کو ہمیشہ کم پانی کیوں فراہم کیا جاتا ہے؟ارسا نے بتایا کہ سندھ اور بلوچستان کے کچھ قانون معاملات مشترکہ مفادات کونسل میں چل رہے ہیں،جس کے باعث بلوچستان کو کچھ پانی کم ملا، یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

سندھ کا پانی کی تقسیم کو خلاف قانون قرار دے دیا

سندھ اریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے ملک میں پانی کی تقسیم کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام صوبوں کو مساوی پانی کی تقسیم یقینی بنائی جائے، ارسا حکام نے کہا کہ ہم سی سی آئی کے قوانین کے مطابق چلتے ہیں،سندھ اس معاملے پر سی سی آئی میں گیا ہوا یے،جب تک فیصلہ آ نہیں جاتا ہم پرانے قانون کو فالو کرنے کے پابند ہیں۔

ارسا حکام کی معاملہ جلد حل کرانے کی یقین دہانی

ارسا حکام نے جواب دیا کہ سندھ اور بلوچستان کے کچھ قانون معاملات مشترکہ مفادات کونسل میں چل رہے ہیں،جس کے باعث بلوچستان کو کچھ پانی کم ملا، یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

کمیٹی کا سی سی حکام کو طلب کرنے کا فیصلہ

کمیٹی اراکین نے پانی کی تقسیم پر کمیٹی میں کوئی نیا قانون نہ بنانے سکنے پر برہمی کا اظہار کیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ ہمیں نہ بتائیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں،ہم جو ضروری سمجھیں گے آپکو بتائیں گے،کمیٹی نے آئندہ میٹنگ میں  معاملے پر سی سی آئی حکام کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔