بلاول بھٹو کا اسمبلیاں توڑنے کا چیلنج

Spread the love

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کو چیلنج دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ عوام انہیں ووٹ دیں گے تو قومی اسمبلی کو توڑ کر نئے انتخابات کی راہ ہموار کرے ۔ پتہ چل جائے گا عوام کس کو ووٹ دیتے ہیں۔

ملتان میں رانا سجاد حسین کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول  بھٹوزرداری نےکہا کہ وہ پارٹی کے پانچ اصول "اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مساوات ہماری معیشت ہے، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور شہادت ہماری منزل ہے” کا پیغام لے کر ملتان کے ہر گھر جائیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے 27فروری سے کراچی سے اس سلیکٹڈ حکومت کے خلاف مارچ کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ مارچ اس کٹھ پتلی کی سلیکٹڈ حکومت کے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ ہم نے اس سلیکٹڈ کو قومی اسمبلی میں پہلے ہی دن سلیکٹڈ کہہ کر قوم کے سامنے بے نقاب کر دیا تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہیں ۔ پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہے، ہم نے اس بجٹ کو عوام دشمن اور ملک دشمن کہا تھا اور ہمارا کہا ہوا سچ ثابت ہوگیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے دوست چاہتے تھے کہ عمران خان کے لئے ضمنی انتخابات کا میدان کھلا چھوڑ دیں لیکن ہم نے کہا کہ ہم انتخابات لڑیں گے ۔ دنیا نے دیکھا کراچی سے خیبر تک عمران خان کو تمام ضمنی انتخابات میں شکست ہوئی۔۔

چیئرمین پیپلزپارٹی ہمارے دوست اسی طرح چاہتے تھے کہ ہم سینیٹ کی سیٹ کا انتخاب قومی اسمبلی میں نہ لڑیں ۔ ہم نے سابق وزیراعظم کو جو ملتان ہیں کو نامزد کیا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے عمران خان کو اس کے حلقہ انتخاب میں ہرا دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے چند دوستوں کا خیال ہے کہ حکومت کے خلاف مارچ مارچ کے مہینے میں کیا جائے لیکن ہم نے کہا کہ عوام ابھی تکلیف سے دوچار ہیں ۔ اس لئے ہمارا مارچ 27فروردی سے شروع ہوگا۔ جب ہمارا مارچ شروع ہوگا تو پوری پاکستانی قوم ہمارے ساتھ ہوگی ۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے آج ہی سے وکٹیں گنوانا شروع کر دی ہیں اور آج اس کا غیرقانونی سینیٹر نااہل ہوگیا ہے، چیئرمین بلاول  بھٹو نے اپنی پارٹی کی قانونی ٹیم کی اس کامیابی پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئےکہا کہ جب ہم اسلام آباد پہنچیں گے تو اس سلیکٹڈ کی مزید وکٹیں گر جائیں گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج عمران خان نے اپنی تقریر میں پیپلزپارٹی کا ذکر کیا ۔ عمران ایک بزدل شخص ہے اور وہ انتخابات سے خوفزدہ ہے، عمران خان لاہو رمیں ضمنی انتخاب میں بھاگ گیا ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی میئر کے انتخاب میں دوڑ لگا دی جہاں پارٹی کی طرف سے فیصل کریم کنڈی کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

 بلاول بھٹو نے الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو بھی سراہا کہ انہوں نے خیبرپختونخوا کے دوسرے انتخابات ملتوی نہیں کئے ۔ عمران خان کے پی میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بری طرح ہار چکا ہے اور دوسرے مرحلے میں بھی ہار اس کا مقدر ہے۔

اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ  عمران نے 3 سالوں سے کرپشن کرپشن کی رٹ لگا رکھی ہے ۔ آج بھی اس نے یہی باتیں کی ہیں لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس کی کرپٹ حکومت کو پاکستانی تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت کہا ہے ۔ عمران خان اور اس جیسے لوگ شہید بینظیربھٹو اور صدر زرداری کے خلاف ایک بھی الزام ثابت نہیں کر سکے ۔ عوام جھوٹے عمران خان پر اعتبار نہیں کرتے ۔

One thought on “بلاول بھٹو کا اسمبلیاں توڑنے کا چیلنج

  1. […] مارچ کی روانگی سے قبل جاری بیان میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ قائد عوام اور شہید بینظیر کے نامکمل مشن کو […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔