کرناٹک:انتہا پسندوں کے سامنے اللہ اکبر کا نعرہ

Spread the love

بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب کا تنازع شدت اختیار کر گیا ۔ انتہا پسند جماعت بی جے پی کے کارندوں نے کالجوں میں غنڈہ گردی شروع کردی ہے ۔ با حجاب لڑکیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش بھی کی ۔ نڈر مسلم طالبہ نے غنڈوں کے سامنے ‘ اللہ اکبر ‘ کا نعرہ لگادیا ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق اپنی بچیوں کی حمایت میں کرناٹک کی خواتین بھی باہر نکل آئیں ۔ انتہا پسند ہندوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ مسلم لیڈر اسد الدین اویسی نےانتہا پسندوں کی غنڈہ گردی کی مذمت جبکہ نعرہ تکبیر بلند کرنے والی لڑکی کو خراج تحسین پیش کیاہے۔
دوسری جانب کشمیری رہنما محبوبہ مفتی نے ویڈیو پر ٹوئٹ کیا کہ ایک مسلمان لڑکی کو دن دہاڑے بغیر کسی نتیجے کے خوف کے ہراساں کرنا یہ ظاہر کرتا ہے۔ ایسے غنڈوں کو اقتدار والوں کی سرپرستی حاصل ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ایسے واقعات کو مجموعی صورت حال سے ہٹ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ کیوں کہ بی جے پی کو امید ہے کہ اس سے یوپی انتخابات میں پولرائزیشن میں مدد ملے گی۔
دن بھر بی جے پی کے غنڈوں کی غنڈہ گردی جاری رہی ۔ جب میڈیا کے کیمرے بھی انتہا پسندی کے مناظر دکھاتے رہے لیکن پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
مسلم طالبات کا کہنا ہے کہ وہ دہائیوں سے حجاب پہن کر کالج آتی ہیں ۔ اب انتہا پسندوں کے ڈر سے وہ اپنے حجاب نہیں اتاریں گی اور ہر میدان میں مقابلہ کریں گی۔
واضح رہے کہ کرناٹک میں باحجاب طالبات کے ساتھ ہونے والا ہراسانی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ اس سے قبل دو کالجز میں باحجاب طالبات کو کالج میں داخلے سے روکا جاچکا ہے ۔ مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوانتہا پسند حجاب کے خلاف باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں۔
یہ خبر سامنے آئی تھی کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب کرنے والی طالبات کوعلیحدہ کلاس رومز میں بٹھا دیا گیا تھا اورکسی استاد نے ان کونہیں پڑھایا ۔
مسلسل ایک ہفتے سے کالج کے گیٹ کے باہراحتجاج کرنے والی باحجاب طالبات کو کالج میں داخل ہونے کی اجازت تو دے دی گئی تھی ۔ تاہم انہیں دیگرطالب علموں کے ساتھ کلاسز اٹینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
حجاب پرپابندی کے خلاف ایک طالبہ نے بھارتی عدالت میں درخواست بھی دائرکررکھی ہے۔

One thought on “کرناٹک:انتہا پسندوں کے سامنے اللہ اکبر کا نعرہ

  1. […] تعاون تنظیم نے کرناٹک میں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلم طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ مودی حکومت سے مسلمانوں کے […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔