بارہ پناہ گزینوں کی ہلاکت ،ترکی کا یونان بارڈر فورس پر تارکین وطن سے کپڑے اور جوتے چھین کر واپس دھکیلنے کا الزام

Spread the love

ترکی میں یونان کی سرحد کے قریب 12 افراد کی کپڑوں میں ملبوس لاشیں ملی ہیں، ترک وزیردا داخلہ کے مطابق ہلاک والے 12 افراد 22 تارکین وطن کے ایک بڑے گروپ کا حصہ تھے ،انہوں نے الزام عائد کیا کہ یونان کی بارڈر سکیورٹی فورس نے ہلاک ہونے والے افراد کےکپڑے جوتے چھین کر انہیں واپس دھکیل دیا ہےاور یورپی یونین کو”کمزور” اور غیر انسانی عمل قرار دیاہے۔

یونانی مائیگریشن وزیرنوٹس میتاراچی نے اموات کو ایک سانحہ قرار دیتے ہوئے ترکی کی جانب سے الزامات کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے،انہوں نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرا دیتے ہوئے ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کر کرتے ہوئے کہا کہ انسانی زندگیوں کو بچانے ،تارکین وطن کی فلاح و بہبود ،انسانی حقوق کو ترجیح دینے کی ذمہ داری سب کے لیے ضروری ہے۔

رپورٹس کے مطابق ترکی اکثر پڑوسی ملک یونان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ان تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو پیچھے دھکیل رہا ہے جو پیدل یا کشتی کے ذریعے دونوں ممالک کی مشترکہ سرحدوں سے یورپ جانا چاہتے ہیں، یونان ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ اس کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، وہ یورپی یونین کی جنوب مشرقی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق  افریقا، مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے کے علاقوں کے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لیے یونان یورپی یونین میں داخل ہونے والے اہم راستوں میں سے ایک ہے، اس میں 2015-2016 کے بعدکمی دیکھنے میں آئی ہے۔

مارچ 2016 میں، یورپی یونین نے علاقے میں مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے لیے ترکی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت انقرہ کو اربوں یورو کے بدلے اپنے ملک میں جنگ سے فرار ہونے والے شامیوں کی میزبانی کرنی تھی۔

ترکی اس وقت تقریباً 04 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی پناہ گزین آبادی ہے، اور ساتھ ہی تقریباً 3 لاکھ افغان بھی ہیں، ترکی کا اب کہنا ہے کہ وہ مزید مہاجرین کو قبول نہیں کرے گا۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال شمالی افریقہ اور ترکی سے یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران 2500 سے زائد افرادسمندر میں ہلاک یا لاپتہ ہو گئے تھے۔

One thought on “بارہ پناہ گزینوں کی ہلاکت ،ترکی کا یونان بارڈر فورس پر تارکین وطن سے کپڑے اور جوتے چھین کر واپس دھکیلنے کا الزام

  1. […] کے دورے سے واپس آتے ہی ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ کورونا کا شکار ہو […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔