سندھ بلدیاتی اختیارات کیس کا فیصلہ آ گیا

Spread the love

سندھ حکومت مقامی حکومتوں کیساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن رکھنے کی پابند ہے۔

Spread the love

سندھ بلدیاتی اختیارات کیس میں سپریم کورٹ نےایم کیوایم پاکستان کی درخواست خارج کردی، سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس  گلزار احمد نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق لوکل گورنمنٹ اختیارات کےتحت مقامی حکومتوں کے پاس بلدیاتی اختیارات ہیں، ماسٹر پلان بنانا اور اس پر عملدرآمد بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات ہیں، بلدیاتی حکومت کے تحت آنے والا کوئی نیا منصوبہ صوبائی حکومت شروع نہیں کر سکتی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سندھ حکومت بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے کی پابند ہے،آئین کے تحت بلدیاتی حکومت کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات یقینی بنائے جائیں،

سپریم کورٹ نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی شق 74 اور 75 کالعدم قرار دے دیا ، فیصلےمیں کہا گیا کہ آرٹیکل 140 کےتحت لوکل گورنمنٹ کاقیام عمل میں آتاہے ، سندھ حکومت تمام قوانین کی آرٹیکل 140 اے سے ہم آہنگی یقینی بنائے،سندھ حکومت مقامی حکومتوں کیساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن رکھنے کی پابند ہے۔ سندھ بلدیاتی اختیارات کیلئے  پی ٹی آئی اور  ایم کیو ایم نے 2017 میں درخواستیں دائر کی تھیں،عدالت نے پی ٹی آئی کی درخواست الگ رکھتے ہوئے ایم کیو ایم کی پٹیشن پر26 اکتوبر 2020 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

One thought on “سندھ بلدیاتی اختیارات کیس کا فیصلہ آ گیا

  1. […] سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کی رپورٹ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔