مغرب روس سے مذاکرات میں چوکنا رہے، یوکرائن

Spread the love

یوکرین نے مغرب کے ملکوں کی روس سے بات چیت میں ‘چوکس اور مضبوط’ رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مغربی رہنما روس کے صدر ولادی میر پیوٹن تک پہنچ کر بحران کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ پابندیوں کا انتباہ بھی دے رہے ہیں ۔

یوکرین کے صدر نے مغرب پر زور دیا ہے کہ وہ ماسکو کے ساتھ اپنی بات چیت میں ثابت قدم رہیں۔

یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا نے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے رابطہ کیا اور یوکرین کی صورتحال پر گفتگو کی،دونوں رہنمائوں نے نارمنڈی فارمیٹ کے فریم ورک کے اندر اس مسئلے پر کام شروع کرنے اور 26 جنوری کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی اس فارمیٹ کے فریم ورک کے اندر ہونے والی ملاقات پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔

یوکرین نے بات چیت میں "اضطراب کو ہوا دینے والے اقدامات سے گریز” اور سوویت یونین کے بعد کے ملک کے "مالی استحکام کو نقصان پہنچانے” کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں ہونے والی ملاقات کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا، دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ "جب تک سفارتی اقدامات جاری رہیں گے، مستقبل میں کشیدگی کا خطرہ کم ہو جائے گا”۔

فرانس نے کہا کہ وہ مشرقی نیٹو کے اتحادی رومانیہ میں سینکڑوں فوجی بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو اس مہینے کے شروع میں صدر ایمانوئل میکرون کی طرف سے پہلی تعیناتی کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق توقع ہے کہ لی ڈرین اپنی جرمن ہم منصب اینالینا بیربوک کے ساتھ 7اور8 فروری کو یوکرین کا دورہ کریں گے ۔

کیف کا کہنا ہے دونوں وزرائے خارجہ یوکرین کے مشرقی علاقوں کے دورے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جہاں تقریباً آٹھ سالوں سے یوکرین کے فوجی روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے لڑ رہے ہیں۔

رپورٹس کے  مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن خطے کا دورہ کرنے سے پہلے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات کریں گے اور مغربی رہنماؤں کے اس گروپ کو شامل کریں گے جس میں ان سے پیچھے ہٹنے پر زور دیا گیا ہے۔

دوسری جانب آئرلینڈ میں ماسکو کے سفیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک آئرش حکومت کی جانب سے آپریشن کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی درخواست کے بعد اگلے ہفتے آئرش سمندر میں بین الاقوامی پانیوں میں بحری مشقیں نہیں کرے گا۔

آئرلینڈ کو گزشتہ ہفتے مطلع کیا گیا تھا کہ مشقیں جنوب مغربی ساحل سے تقریباً 240 کلومیٹر (149 میل) دور اس کے خصوصی اقتصادی زون کے اندر ہوں گی ۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور دیگر مغربی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ روس اپنی سرحدوں کے قریب ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو جمع کرنے کے بعد یوکرین پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

روس مسلسل اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی پر حملے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا۔

روس نے نیٹو فوجی اتحاد کی توسیع اور اس سے متعلقہ سکیورٹی امور کے بارے میں اپنے خدشات کی ایک تحریری فہرست جاری کی تھی، اس فہرست میں یوکرین اور دیگر ممالک کے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کے امکان کو رد کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

امریکہ نے ماسکو کے اس اہم مطالبے کو رد کر دیا ہے اور بائیڈن انتظامیہ کا اصرار ہے کہ وہ روس کو ’سنجیدہ سفارتی راستہ‘ پیش کر رہے ہیں۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مغرب پر روس کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکہ کے پہلے ہی دسیوں ہزار فوجی زیادہ تر مغربی یورپ میں تعینات ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 2014 میں جب سے ماسکو نے جزیرہ نما کریمیا پر قبضہ کیا اور ملک کے مشرق میں علیحدگی پسند تنازع کو ہوا دینا شروع کی جس میں 13ہزار سے زیادہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں، یوکرین نے تیزی سے مغرب کا رخ کیا ہے۔

روس کی تازہ ترین تیاری کے پیش نظر امریکہ کی قیادت میں کچھ مغربی اتحادیوں نے کیف کو ہتھیاروں کی فراہمی میں اضافہ کر دیا ہے جو حملے کو روکنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

چین کی امریکا اور مغرب کو ممکنہ جنگی تصادم کی وارننگ

روس کے ساتھ کشیدگی کے بعد چین نے بھی امریکا کو ممکنہ جنگی تصادم کی وارننگ جاری کردی ، امریکا میں چین کے سفیر کن گانگ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکا اسی طرح تائیوان کو چین سے آزاد ی کے لئے اکساتا رہے گا تو بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان عسکری تصادم ہو سکتا ہے، آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف پر بسنے والے چینی باشندے ہیں، چین تائیوان کے دوبارہ الحاق کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

یاد رہے کہ یوکرین کے محاذ پر روس اور امریکہ پہلے ہی آمنے سامنے ہیں اور جنگی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، امریکہ کے ساتھ ساتھ نیٹو بھی روس کے خلاف صف آرا ہوتا نظر آتا ہے، اب چین کی جانب سے امریکہ کو تائیوان کے معاملے میں مداخلت سے روکنے کے لئے جنگ کی دھمکی صدر جوبائیڈن کو دیگر خطوں میں مداخلت کی پالیسی پر ازسر نو غور کرنے کی ترغیب دلا رہی ہے جو پرامن بقائے باہمی کا رہنما اصول ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔