کینیڈین وزیراعظم بھی اسلاموفوبیا کے خلاف میدان میں

Spread the love

روس کے بعد کینیڈا کا اسلاموفوبیا کے خلاف بڑا اقدام، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کےلیے نمائندہ مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم کا کا کہنا ہے کہ یہ تقرری کینیڈا کی حکومت کی نسل پرستی کے خلاف نئی حکمت عملی کا حصہ ہوگی۔ اسلامو فوبیا اور نفرت کسی بھی شکل میں کینیڈا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم نے کیوبیک سٹی کی مسجد پر حملے اور اسلامو فوبیا کے خلاف کارروائی کی یاد تقریب سے خطاب میں کہا کہ حکومت کینیڈا میں مسلم کمیونٹیز کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کی حمایت کرتی ہے اور اسلامو فوبیا اور نفرت پر مبنی تشدد کی مذمت اور اس سے نمٹنے کے لیے کارروائی کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کینیڈا اور دنیا بھر کی مسلم کمیونٹیز کے لیے ایک ٹھوس اور روزمرہ کی حقیقت ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنے اور مزید جامع کینیڈا کی تعمیر جاری رکھنے کی ہماری ذمہ داری ہے۔

رپورٹس کے مطابق کینیڈین حکومت کی جانب سے مقرر کردہ خصوصی نمائندے کے کردار اور مینڈیٹ سے متعلق تفصیلات کی تصدیق بعد میں کی جائے گی۔

نیشنل کونسل آف کینیڈین کے چیف ایگزیکٹیوآفیسر مصطفیٰ فاروق نے کینیڈین حکومت کی جانب سے اسلاموفوبیا کے خلاف نمائندہ خصوصی مقرر کرنے اقدام کو سراہا ہے۔

واضح رہے کہ 22جولائی 2021 کو کینیڈا کی حکومت نے اسلامو فوبیا پر ایک قومی سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ جس نے ان طریقوں کی نشاندہی کرنے میں مدد کی کہ وفاقی حکومت نسل پرستی کے خلاف وفاقی اقدامات کو نافذ کرنے کے لیے مسلم کمیونٹیز کے ساتھ کام کر سکتی ہے۔ جو خاص طور پر اسلامو فوبیا اور نفرت کو ہوا دینے والے تشدد سے نمٹنے کے لیے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے  اسلاموفوبیا کے خلاف کینیڈین ہم منصب جسٹن ٹروڈو کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا سے نمٹنےکے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کرنا خوش آئند ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ میں لکھا کہ جسٹن ٹروڈو کا بروقت اقدام میرے اس مطالبے کی حمایت کرتا ہے جو دہرا رہا ہوں۔ اسلاموفوبیا کے خاتمے کےلیے مشترکہ کوششوں کو تیز کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔