سینیٹ نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل 2022منظور کر لیا

Spread the love

سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل 2022 پیش کیا گیا،اسٹیٹ بینک ترمیمیل بل پر ایوان میں رائے شماری کرائی گئی، بل کے حق 43 جبکہ مخالفت میں 42 ووٹ ڈالے گئے ، دلاورخان نے حکومت کو ووٹ دے دیا، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی اجلاس میں شریک نہ ہوئے ،ووٹنگ کے وقت عمر فاروق بھی ایوان میں موجود نہیں تھے۔ بل منظور ہونے کے بعد اجلاس  پیرساڑھے 3 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

سینیٹ اجلاس کے آغاز میں اپوزیشن ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں شورشرابہ کیا، چیئرمین سینیٹ نے اجلاس آدھے گھنٹے کیلئے ملتوی کرنا پڑا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ بل ایجنڈے میں شامل ہے، سینیٹ بل پیش کرنےکی جلدی تھی، اب کوئی بات نہیں کررہا، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہرا دیں، چیئرمین کے ڈائس کا گھیراؤ کیا اور نعرے بازی کی۔

چیئرمین صادق سنجرانی نے کہا کہ بل ایجنڈے میں شامل ہے، حکومت پیش نہیں کر رہی، بل پیش کرنے کی جلدی تھی، اب کوئی بات نہیں کر رہا۔ اپوزیشن ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں شور شرابہ کیا اور نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔

شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کو بتانا چاہتی ہے پارلیمنٹ نے بل پاس کیا، آدھی رات کو جاری ایجنڈا حکومتی مقاصد کو بیان کرتا ہے، حکومت خود مختار فیصلوں کی صلاحیت بھی چھیننا چاہتی ہے۔

نائب صدر پیپلز پارٹی و سینیٹر شیری رحمان نے اسٹیٹ بینک بل کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ سینیٹ اجلاس کے لئے آدھی رات کو جاری شدہ ایجنڈا حکومت کے چھپے مقاصد کو بیان کرتا ہے، حکومت آئی ایم ایف کو بتانا چاہتی ہے پارلیمنٹ نے اسٹیٹ بینک سے متعلق بل پاس کیا ہے، حکومت قومی بحران کے وقت پاکستان کے خود مختار فیصلے کرنے کی صلاحیت کو بھی چھیننا چاہتی ہے، حکومت اسٹیٹ بینک کی  خودمختاری  متعلق بل کو بلڈوز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بڑے منصوبوں میں خود مختار ضمانتیں دینے کی حکومتی صلاحیت کا کیا ہوگا ؟ یہ ہنگامی واجبات کے طور پر درج ہیں، لہذا آئی ایم ایف اب ان پر بھی کنٹرول کر سکتا ہے، اپوزیشن حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ہے، آئی ایم ایف نے یہ شرط رکھی ہے مرکزی بینک پاکستان کو کسی بھی بحران میں پیسے نہیں دے گا، یہ قومی ہنگامی حالتوں، یہاں تک کہ جنگ میں بھی مرکزی بینک سے پیسے لینے کی ہماری خود مختار صلاحیت کو متاثر کرے گا، مرکزی بینک سے قرضہ لینے ہر ملک میں بحران کو نمٹنے کے لئے آخری حل ہوتا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہا کہ یہ قانون مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، بل منظور ہونے کی صورت میں اسٹیٹ بینک پاکستان نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی زیر نگرانی کام کرے گا، وفاقی حکومت کو اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے کی لئے آئی ایم ایف کی منظوری چاہیے ہوگی، کیا یہ ہے نیا پاکستان جس میں ادارے گروی ہو رہے ہیں، کیا وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک کو چاہئے کہ کمرشل بینکوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضوں پر ڈیفالٹ ہونے کے حوالے سے خبردار کرے ؟ ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ وزیر خزانہ خود ایسی تنبیہ کر رہے ہو، یہ کیا ہو رہا ہے؟ قرضے آسمان کو چھو رہے ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔