اسلام آباد ہائی کورٹ،سابق چیف جج گلگت بلتستان پر فرد جرم عائد ، رانا شمیم کا صحت جرم سے انکار

Spread the love

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم پر عائد فرد جرم پڑھ کر سنائی۔

فردِ جرم میں کہا گیا کہ آپ نے انگلینڈ میں بیان حلفی ریکارڈ کرایا،آپ نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار چھٹیوں پر گلگت بلتستان آئے ، آپ کے مطابق انہوں نے ہدایات دیں کہ نواز شریف اور مریم نواز الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے چاہئیں، آپ کا ضمیر3سال سویا رہا اچانک کیوں جاگا ؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے چارج سنا ، کیا آپ چارج فریم کو مانتے ہیں؟ رانا شمیم نے صحت جرم سے انکار کیا ، رانا شمیم نے عدالت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ چیزیں ماننے والی ہیں اور کچھ نہیں ،چارج فریم صرف میرے خلاف ہوا ؟ میں اکیلا ہوں تو کیا مطلب ہے مجھے لٹکا دیں،میں جتنی اس عدالت کی عزت کرتا ہوں ، شاید ہی کوئی کرتا ہو، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ابھی آپ کے خلاف چارج فریم ہوا ہے ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں،رانا شمیم نے جواب دیا کہ میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا، آپ پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے، کاپی آپ کو دے دی جائے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ابھی باقی دیکھتے ہیں، آپ تحریری جواب دیں اور اپنا بیان حلفی جمع کرائیں۔رانا شمیم نے کہا کہ عدالت نے سوچ لیا ہے تو مجھے پھر آج ہی سزا سنا دیں، میرے ساتھ اس طرح زیادتی نہیں ہونی چاہیے، میں ہر ہفتے کراچی سے آتا ہوں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو آنا پڑے گا آپ پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے، رانا شمیم نے کہا کہ میرا سارا کام پھنسا ہوا ہے، میں بہت ڈسٹرب ہوں، 20 یا 25 فروری تک کی تاریخ دے دیں ، اٹارنی جنرل کی استدعا پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی۔

عدالت نے رانا شمیم کے شفاف انکوائری اور اٹارنی جنرل کو کیس سے لگ کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافیوں کے خلاف چارج فریم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوران سماعت کہا کہ اس معاملے کو عارضی طور پر نمٹاتے ہیں، اگر صحافیوں نے ایسا کچھ کیا تو چارج فریم کیا جائے گا۔

عدالت میں کیس کی سماعت کے آغاز پر ہی رانا شمیم، اٹارنی جنرل خالد جاوید سمیت صحافی بھی عدالت میں موجود تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر نے عدالت کو بتایا کہ کہا کہ اٹارنی جنرل اور عدالتی معاونین کی رائے کے مطابق صحافیوں کی حد تک فرد جرم کی کارروائی موخر کی جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اخبار کے ایک آرٹیکل کا تعلق ثاقب نثار سے نہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ساتھ ہے، لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اس کورٹ کے ججز کمپرومائزڈ ہیں، ایک کیس دو دن بعد سماعت کے لیے فکس تھا جب خبر شائع کی گئی، کھل کر بات کرتا ہوں ہمارے پاس چھپانے کو کچھ بھی نہیں، ہمارا ثاقب نثار سے یا کسی سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے، کیا کریں ہم خاموشی سے بیٹھ کر لوگوں کا اعتماد ختم ہونے دیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ جو بیانیہ بنایا گیا وہ بتا دیں ہمارے کون سے آرڈر پر فٹ آتا ہے؟ جن کی اپیلوں سے متعلق بیان حلفی آیا وہ تو اسے ریکارڈ پر نہیں لائے، اگر کوئی غلطی تھی تو ہمیں بتا دیں ہم بھی اس پر ایکشن لیں گے، کل کو کوئی بھی تھرڈ پارٹی ایک کاغذ دے گی اور اس کو ہم چھاپ دیں گے تو کیا ہو گا؟ اتنا بڑا اخبار کہے کہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی قانونی رائے نہیں لی تو پھر یہ زیادتی ہو گی۔

5 thoughts on “اسلام آباد ہائی کورٹ،سابق چیف جج گلگت بلتستان پر فرد جرم عائد ، رانا شمیم کا صحت جرم سے انکار

  1. […] اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی نے ججز، بیوروکریٹس، افسران کے لئے خصوصی سیکٹرز میں پلاٹس کی اسکیم سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ججز، بیوروکریٹس ، افسران کیلئے خصوصی سیکٹرز میں پلاٹس کی اسکیم غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف12 ، جی 12، ایف 14اور 15 کی اسکیم ہی غیر آئینی ، غیر قانونی اور مفاد عامہ کے خلاف ہے۔عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ریاست کی زمین اشرافیہ کے لئے نہیں ، صرف عوامی مفاد کے لئے ہے، جج […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔